راجوری// راجوری کی مساجد کے علماء نے جمعہ کی نماز سے قبل اپنے خطبوں میںدفعہ 35اےکے معاملے پر بولتے ہوئے کہا کہ ریاستی اور مرکزی سرکار عوام کے جذبات کی قدر کرے اور حالات کو بے قابوہونے سے بچایا جائے ۔ مولانا فاروق احمد نعیمی نے عیدگاہ جامع مسجد میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب سے مرکز میں آر ایس ایس کی پشت پناہی والی سرکار بھاجپا کواقتدار ملا ہے تب سے مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے، کہیں مسلمانوں کے مذہبی امور میں مداخلت کی جارہی ہے تو کہیں یہ فیصلے لئے جارہے ہیں کہ مسلمان کیا کھائے گا اور نماز کیسے پڑھے گا ۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی کام اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے عوام کو غیر ضروری مسائل میں الجھایاجارہاہے ۔ ان کاکہناتھاکہ تین طلاق مسلمانوں کا مذہنی مسئلہ ہے جس پر غیر ضروری بحث کی جارہی ہے اور اسلام پر حملے کئے جارہے ہیں جو نہایت ہی افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ نہتے مسلمانوں کو گائے کاگوشت کھانے کا الزام دے کر قتل کردیتے ہیں اورپھر بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی جس سے پورے ملک میں لاقانونیت اورخوف ودہشت کا ماحول پیداہوچکا ہے ۔ مولانا فاروق نعیمی نے کہا کہ اب ریاست جموں وکشمیر کے خصوصی درجہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ شروع کردی گئی ہے جوناقابل قبول ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی دوسری ریاستوں سے جموں وکشمیر مختلف ہے اوردفعہ 370اور 35Aایک پل کی مانند ہے جس کے ساتھ اگر کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ ہوئی تو حالات بے قابو ہوجائیں گے اور اس کا خمیازہ مرکزی وریاستی سرکار کو بھگتناپڑے گا۔مولانا امیر محمد شمسی نے بھی اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر کے تشخص کو برقرار رکھنے کے لئے لازم ہے کہ آئین ہند کے تحت کشمیر کوجوحیثیت دی گئی ہے ،اسے برقرار رکھا جائے ۔انہوں نے کہا بے روزگاری کا عالم یہ ہے کہ تعلیم یافتہ نوجوان لاکھوں کی تعداد میں روزگارکے لئے ترس رہے ہیں تاہم اس کے باوجود دفعہ 35Aکے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی جارہی ہے ،اگر ایسا کردیا گیا تو عوام سے روزگار چھن جائے گا اور غربت یہاں کا مقدر بن جائے گی اسلئے ریاستی سرکار وکو چاہئے کہ وہ 35Aپر سنجیدگی اختیار کرے اور مرکزی سرکار پر دبائوبنائے تاکہ جموں کشمیر کی عوام کے جذبات مجروح نہ ہونے پائیں ۔انہوں نے تین طلاق کے مسئلہ پر بولتے ہوئے کہا کہ یہ مسلمانوں کا مذہبی مسئلہ ہے اوراس میں مداخلت نہ کی جائے تو بہتر ہوگا۔