عظمیٰ نیوزڈیسک
لندن//یوکرین کی سکیورٹی سروس کا کہنا ہے کہ ایک خاتون کو صدر ولادیمیر زیلنسکی کے قتل کی سازش کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔سکیورٹی سروس کے مطابق قتل کی یہ سازش روس کی جانب سے تیار کی گئی تھی۔سکیورٹی سروس نے کہا کہ اس خاتون نے جون میں سیلاب سے متاثرہ علاقے مائکولیو کے دورے سے قبل صدر زیلنسکی کے سفر کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی تھی۔یوکرین باقاعدگی سے ان مقامی باشندوں پر الزام لگاتا رہا ہے جو روس کی حمایت کرتے ہیں اور مبینہ طور پر ماسکو کی فوج کو مدد کی غرض سے معلومات فراہم کرتے ہیں۔صدر زیلینسکی نے تصدیق کی کہ انھیں خاتون کی گرفتاری کے بارے میں مطلع کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یوکرین کی سکیورٹی سروس ایس بی یو کے سربراہ نے انھیں غداروں کے خلاف لڑائی کے بارے میں اپ ڈیٹ دی تھی۔روس نے اس گرفتاری پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔یوکرین کی سکیورٹی سروس ایس بی یو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خاتون کو اس وقت رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا جب وہ روسیوں کو خفیہ معلومات پہنچانے کی کوشش کر رہی تھیں۔انھوں نے الزام لگایا کہ دورے سے پہلے اس خاتون نے جنوبی میکولیو کے علاقے میں صدر زیلینسکی کے منصوبوں کا پتہ لگانے کے لیے انٹیلیجنس جمع کرنے کی کوشش کی۔سکیورٹی سروس نے اپنے اہلکاروں اور اس خاتون کی تصویر بھی جاری کی ہے جس میں ان کے چہرے دھندلا دیے گئے ہیں۔خیال رہے کہ صدر زیلینسکی نے کاخووکا ڈیم سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لینے کے لیے جون میں میکولیو کا دورہ کیا تھا اور پھر جولائی میں بھاری روسی گولہ باری کے بعد انھوں نے اس علاقے کا دوبارہ دورہ کیا۔سکیورٹی سروس نے کہا کہ اسے دورے سے قبل اس سازش کے بارے میں آگاہ کر دیا گیا تھا لہذا اضافی حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔ایس بی یو نے الزام لگایا کہ روس میکولیو کے علاقے پر بڑے فضائی حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اور ایک مشتبہ خاتون انھیں الیکٹرانک جنگی نظام کے مقامات اور گولہ بارود کے گوداموں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی کوشش کر رہا تھا جسے روسی فوج نشانہ بنا سکتی تھی۔ایس بی یو کے مطابق مشتبہ خاتون اوچاکیو نامی ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتی تھیں۔