2014ء نریندرمودی کا مر کزمیں اقتدارسنبھا لنا اگر چہ پہلے ہی مسلمانوں کے لئے مایوسی کی وجہ بن گیا تھا کیونکہ ان کا ٹریک ریکارڈ انتہا پسندانہ تھا ،تاہم ہندوتوا کو ایک ریاستی نظریہ کے طور پر فروغ دینے کے وعدوں کے سبب بھارت کی200ملین مسلم آبادی اب خوف وہراس میں مبتلا ہوگئی ۔ اب چار کروڑ مسلم آبادی والی ریاست یوپی میں بی جے پی کی بھاری جیت اوروزیر اعلیٰ کے طورآدتیہ ناتھ یوگی کی تقرری سے یہ خوف مزید بڑھتا نظر آرہا ہے ۔آبادی کے لحاظ سے بھارت کے سب سے بڑے صوبے یوپی میں ریاستی اسمبلی کے لئے انتخابات کے نتائج سیاسی تجزیہ کاروں کے لئے ہر گز حیران کن نہیں ہیں کیونکہ وہ بخوبی جا نتے ہیں کہ مودی کی قیادت میں بی جے پی اپنے بنیادی نعرہ وکاس کی آڑمیں ہندو راشٹر کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا چاہتی ہے جو مرکز اور دیگر ریاستوں میں سیاسی اقتدارپر بھاجپا کے براجمان ہونے سے نزدیک تر دکھائی دے رہا ہے ۔حقیقت یہ بھی ہے کہ یوپی صوبے سے تین سال قبل نریندرمودی کی ہندوانتہا پسند جماعت نے لوک سبھا چنائوکے دوران 45فی صد کے قریب ووٹ لئے تھے جس سے پہلے ہی بھاجپا کے لئے صوبائی حکومت بنانے کے آثار واضح ہورہے تھے۔ تاہم سیاسی مبصرین اور کچھ لوگ بضد رہے کہ اقتدار میں 3برس گزارنے کے بعد بھی چونکہ مودی سرکار معاشی حوالوں سے کوئی بڑا کارنامہ نہیں دکھاپائی ہے جب کہ کالے دھن کو ختم کرنے کے نام پر نوٹ بندی کے فیصلے نے اس کے کٹرحامیوں کو بھی ناراض کردیا ہے،ا س کے نتیجے میں کئی دھندے نقدی کی عدم فراہمی کے باعث ٹھپ ہوئے نظر آئے اور روزانہ اُجرت کے محتاج بہت سے افراد کی خود کشی کے باعث مودی اوربھاجپا کے خلاف بد ظنی کا تاثر پیدا ہو گیا بلکہ وزارتِ عظمیٰ کے تین سالوں نے مودی کی حقیقت پورے بھارت کے عام آدمی کے سامنے عیاں کردی ہے کہ وہ صرف جذباتی تقاریر اور غیر ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے لئے شعبدہ نماحرکات میں مصروف رہتا ہے لیکن یوپی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد یہ تاثرات غلط ثابت ہوئے ۔
یوپی کا ویسے بھی ایک مخصوص مزاج ہے ا ور22؍کروڑ کی آبادی والے اس صوبے میں مسلمان کم از کم 20فی صد ہیںجن کا ایک مستحکم’’ووٹ بینک‘‘ ہے جو نچلی ذات کی نمائندہ جماعتوں کے ساتھ مل کر ہندوانتہاء پسندی کو یوپی پر مسلط نہیں ہونے دیتے لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے دوتہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد 15؍سال کی طویل مدت بعد مرکز اور صوبے میں حکمرانی قائم کرتے ہوئے ان خوش گمانیوں پر مبنی تجزیوں کو بالآخر جھٹلادیا۔ یوپی کے حالیہ انتخابات کے لئے چلائی گئی مہم کے دوران بھارتیہ جنتاپارٹی کا بنیادی نعرہ’’وکاس‘‘ہی رہا۔یہ انگریزی کے Developmentکا متبادل ہے۔اْردو میں اسے ہم ’’ترقی وکمال‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔بی جے پی نے یوپی کے الیکشن میں جان بوجھ کر اپنے کسی شخص کو بھی ممکنہ وزیر اعلیٰ کے طورپر لوگوں کے سامنے پیش نہیں کیا جبکہ الیکشن مہم کے دوران صرف مودی کی شخصیت کے لئے ووٹ حاصل کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی کیونکہ یہ شخصیت اب ’’وکاس‘‘ کی بھرپور علامت بن چکی ہے اور ’’وکاس‘‘ کی اسی علامت نے اگرچہ یوپی میں اپنی تقاریر کے دوران انتہائی ڈھٹائی سے ’’قبرستان اور شمسان‘‘میں برابری کی بات کی تھی۔بہر حال وکاس کے نعرہ کے تحت چلائی گئی یہ حکمت عملی کامیاب رہی اور یہ جماعت ان شہروں میں بھی کامیاب ہوگئی جہاں مسلمانوں کی آبادی کا تناسب 60 فیصد ہے جس میں دیوبند بھی شامل ہے جہاں 1866میں قوم پرست علماء نے ایک شہر آفاق دارلعلوم کی بنیاد رکھی تھی جو مسلمانوں کے مسکن کے طور پر جاناجاتاہے ۔تعجب کی بات یہ ہے کہ اس مدرسے کے نمائندہ علماء نے دوقومی نظریے کی شدید مخالفت کی تھی اور برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک جدامملکت کے حصول کی جدوجہد کو بہت ضداور استقامت کے ساتھ کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش بھی کی تھی۔
فی الوقت جب برصغیر کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو چند عجیب و غریب حقائق سے آنکھیں چار ہوتی ہیں ۔ مسلمان لیڈروں نے اپنے سیاسی سفر کے آغاز میں اگرچہ ہندو مسلم اتحاد کی بات کی تھی مگرہندوؤں سے دوستی کی اس کوششوں کے نتیجے میں وہ اس امر کے قائل ہو گئے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں دوستی نہیں ہوسکتی کیونکہ ہندو اپنا متعصبانہ رویہ تبدیل کرنے کے لئے کبھی آمادہ نہیں ہوتے ہیں ۔سرسید احمد خان نے علی گڑھ یونیورسٹی کے ابتدائی سالوں میں ہندوؤں کو اپنے ادارے میں تعلیم دینے کے لئے خصوصی اہتمام کیا تھا اور وہ بھارت کو ایسی خوبصورت دلہن قرار دیتے رہے جس کی ایک آنکھ مسلمان تھی اور دوسری ہندو۔ ان کا خیال تھا کہ ان آنکھوں کا توازن ہی خوبصورتی کی ضمانت ہے مگر بعد ازاں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں اور ان کے اتحاد میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔ قائداعظم محمد علی جناح اورعلامہ اقبال بھی پہلے ہندو مسلم اتحاد کے پُر جوش حامی تھے مگر موخرالذکر نے خطبہ الہ آباد میں ایک آزاد مسلمان ملک کا تصور دے کر اپنے تاریخی شعور کی بنا پر یہ کہا تھا کہ ہندو قوم کے ساتھ مسلمانوں کا میل نہیں ہوسکتا ہے ۔ اسی فکر کو قائداعظم نے پھر اپنا کر مطالبہ ٔ پاکستان کی تحریک دوقومی نظریہ پر چلائی اور تاریخ کے سفر کا رُخ پھر گیا ۔صورتحال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وزیراعلیٰ کی کرسی پر براجمان ہونے کے ساتھ ہی بھارت کو ایک مکمل ہندو راشٹرا بنانے کی بات کرنے والے یوگی آدتیہ ناتھ نے یوپی کے وزیر اعلیٰ بنتے ہی ان کی حکومت نے بغیر قانونی لائسنس کے مذبح خانوں کو بند کرنے کا فرمان جاری کیا جس سے ہم پر یہ حقیقت آشکارا ہوجاتی ہے کہ بی جے پی ہندو انتہا پسندی کو پروان چڑھاکر پورے ملک میں ہندو راشٹر قائم کرنا چاہتی ہے تاکہ مسلمانوںکو ملک بدر ہونے پر مجبور کیا جاسکے ۔ا تنا ہی نہیں سیاسی اقتدارکے آئینہ میں وہاں کی اقلیتوں کو پوری طرح دبانے کے لئے نت نئے بہانے تلاش کئے جائیں گے ۔ سیاسی طورکمزور ہوئے مسلمان اکثریت کے لئے اب مستقبل میں اور بھی مشکلیں بڑ سکتی ہے اور انہیں معاشی ،اقتصادی، سماجی اورمذہبی طورکمزور کرنے کی بے حد کوششیں کی جائے گی جس کیلئے انہیں شعوری طور تیار ہو نا پڑے گا لیکن سوال یہ پیداہوتاہے کہ ہندو انتہا پسندی کے اس سیاسی ماحول میں مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے جس سے ان کے مال وجان ، اہل وعیال اور مذہبی عقیدے کی حفاظت ممکن بن جائے ۔ کیا انہیں جارحانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے معصوموں کے خون کی ہولی کھیل کر گجرات جیسے سانحات کے سبب لگے زخموں پر پھر نمک پاشی کرنی ہے ؟ یا پھر دفاعی اپروچ اختیارکر کے خاموش تماشائی بن کر اپنی سیاسی ناکامی کا رونا ہو گا؟ یا پھر مستقبل میں رونما ہونے والی صورتحال پرباریک بینی سے نظر رکھنے کے بعد ایک منصوبہ بند رد عمل اپنانا ہو گا ؟ پھر کیا انتہا پسندی کے اس بنائے ہوئے خودساختہ نظام اور گڈھے ہوئے دستور کے خلاف متبادل بیانیہ یا الٰہی دستور سامنے لانا ہوگا جو انہیں پہلے ہی قابل قبول نہیں ہے۔بہرحال اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے مختلف سماجی طبقوں کی رائے بلا شبہ یکساں نہیں ہوگی تاہم مخصوص سیاسی طبقہ اپنے تجزیوں کی بنیاد پرایسی رائے قائم کرے گا جوکچھ حد تک قابل قبول ہو گی ۔
سیکولر بھارت ،جو تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لئے برابر حقوق کی حمایت کا ڈھنڈورا بھی پیٹ رہا ہے، اب بھاجپا کے جھنڈے تلے انتہا پسندی اورعدم پرداشت کی مثال بن کر دنیا کے سامنے آرہا ہے جس سے یہاں کی اقلیتیں اب عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ تجزیہ نگارمانتے ہیں کہ یوپی کے ساتھ ساتھ دیگر مسلم علاقوں میں رہ رہے مسلمانوں کی سیاسی و مذہبی ذمہ داریاں ہیں۔ مسلم جماعتوں اور ان کے قائدین کو اپنا آپسی تفرق مٹا کر اتحاد کی تلقین کرنی ہوگی تاکہ منبر و محراب سے امن اور خوشحالی کا پیغام عام ہو جائے۔ 2017ء کے یوپی انتخابات میں جس مسلم ووٹ بنک کے تصور کو بی جے پی نے ختم کیا، اسے مسلم قیادت کو دوبارہ بحال کرنے کی ضرورت ہی نہیں بلکہ ایک مذہبی ذمہ داری ہے ۔اتنا ہی نہیںبلکہ مسلم قیادت کواپنی سرگرمیاں محدو دکرتے ہوئے نئے علاقوں کے بجائے وہاں کی مقامی مسلم آبادی کو تقویت دینا زیادہ موزون ہو گا ،کیونکہ بھارت جو بڑی جمہوریت اورسیکولر ہونے کا دعویدارہے اورجس میں اب ہندو انتہا پسندی زہر کی طرح پھیل رہی ہے، اس زمینی حقیقت کو ڈیجیٹل انڈیا کے تحت ہی ایک منصوبہ بند حکمت عملی کے ذریعے عالمی دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا پڑے گا، تب جاکے یہاں کی اقلیتیں محفوط رہ سکتی ہیں، ورنہ انہیں انتہا پسندی اور عدم برداشت کا یہ ماحول چین سے جینے نہیں دے گا ۔
نوٹ:مضمون نگار’’ کشمیر عظمیٰ ‘‘سے وابستہ ہیں۔
رابطہ :9797205576،[email protected]