سمت بھارگو
راجوری//سرحدی اضلاع راجوری اور پونچھ میں سیکورٹی فورسز نے گزشتہ 36 گھنٹوں کے دوران دہشت گردوں کے خلاف متعدد کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز انجام دئیے۔ یہ کارروائیاں بعض مقامات پر احتیاطی اور قیاسی بنیادوں پر جبکہ چند مقامات پر مخصوص خفیہ اطلاع کی بنیاد پر انجام دی گئیں، جن کا مقصد علاقے میں ممکنہ دہشت گرد موجودگی اور نقل و حرکت کا سراغ لگانا تھا۔سرکاری ذرائع کے مطابق راجوری ضلع کے تھنہ منڈی اور منجاکوٹ پولیس اسٹیشن کے حدود میں جبکہ پونچھ ضلع کے گرسی اور سرنکوٹ پولیس اسٹیشن کے تحت آنے والے علاقوں میں کم از کم چھ بڑے اینٹی ٹیرر آپریشنز انجام دئیے گئے۔
ان کارروائیوں کو عام طور پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز کہا جاتا ہے، جن میں مشتبہ علاقوں کو گھیرے میں لے کر منظم تلاشی لی جاتی ہے تاکہ دہشت گردوں کو پکڑا جا سکے یا ان کی سرگرمیوں کو ناکام بنایا جا سکے۔حکام نے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر مخصوص علاقوں کے نام ظاہر کرنے سے گریز کیا، تاہم بتایا گیا کہ یہ تمام کارروائیاں جموں و کشمیر پولیس، اسپیشل آپریشن گروپ اور فوج کی مشترکہ ٹیموں نے انجام دیں۔ فورسز نے ان علاقوں میں سخت نگرانی، ناکہ بندی اور گھر گھر تلاشی کا عمل انجام دیا، جس کے دوران مقامی آبادی کی نقل و حرکت کو عارضی طور پر محدود کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چار مقامات پر یہ آپریشنز ایریا ڈومینیشن کے مقصد سے کئے گئے کیونکہ یہ علاقے دہشت گردوں کی ممکنہ موجودگی کے اعتبار سے حساس سمجھے جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں سیکورٹی فورسز نے اپنی موجودگی مضبوط کر کے دہشت گرد عناصر کو کسی بھی قسم کی پناہ یا نقل و حرکت کا موقع نہ دینے کی حکمتِ عملی اپنائی۔اسی طرح دو دیگر مقامات پر، ایک راجوری اور دوسرا پونچھ ضلع میں، سیکورٹی فورسز نے مخصوص خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائیاں شروع کیں۔ ان اطلاعات میں مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کا ذکر تھا، جسے دہشت گردوں کی سرگرمیوں سے جوڑا جا رہا تھا۔ ان دونوں مقامات پر فورسز نے علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر گہرائی سے تلاشی مہم شروع کی۔حکام کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران سیکورٹی فورسز نے نہ صرف تلاشی کا عمل انجام دیا بلکہ علاقے میں حفاظتی حصار کو مزید مضبوط کیا تاکہ کسی بھی مشتبہ فرد کے فرار کے امکانات کو ختم کیا جا سکے۔ آپریشنز کے دوران عوام سے تعاون کی اپیل بھی کی گئی اور انہیں یقین دلایا گیا کہ ان کی سلامتی فورسز کی اولین ترجیح ہے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ آنے والے یومِ جمہوریہ کی تقریبات کے پیش نظر جموں و کشمیر بھر میں سیکورٹی انتظامات پہلے ہی سخت کر دیے گئے ہیں۔ سرحدی اضلاع میں خاص طور پر ہائی الرٹ نافذ ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو بروقت روکا جا سکے۔ سیکیورٹی اداروں نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مستقبل میں بھی اسی شدت کے ساتھ جاری رہیں گی تاکہ خطے میں امن و امان کو برقرار رکھا جا سکے۔