یومِ ارض ہر سال 22 اپریل کو منایا جاتا ہے جو ہمیں بطورِ انسان اپنی مشترکہ ذمہ داری کی یاد دہانی کراتا ہے کہ ہم اپنی اس زمین کا تحفظ کریں۔یوم ارض کا آغاز 1970 میں ہوا تھا اور اب یہ ایک عالمی تحریک بن چکا ہے۔یوم ارض کے تئیںاگرچہ ہر سال موضوعات بدلتے رہتے ہیں، لیکن بنیادی توجہ ہمیشہ ماحولیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ، آلودگی میں کمی اور پائیدار طرزِ زندگی پر مرکوز رہتی ہے۔رواں سال میں بھی صاف توانائی کی طرف تیز رفتار منتقلی، ماحولیاتی نظام کی بحالی اور مقامی سطح پر ماحولیاتی ذمہ داری کو مضبوط بنانے پر زوررہا ہے۔ظاہر ہے کہ ہوا اور پانی کی آلودگی موجودہ دور کے اہم ماحولیاتی مسائل میں شامل ہیں۔
یہ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں، پودوں اور پوری زمین کے نظام کو متاثر کر رہی ہے۔اس دن کے منانے کے مقاصد میں زمین کی حفاظت، ماحولیات کے مسائل کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا اور لوگوں کو عملی قدامات کی طرف راغب کرنا ہے۔ہم سبھی جانتے ہیں اس وقت ہماری زمین کوبے مثال چیلنجز کا سامنا ہے، خصوصاً بڑھتا ہوا درجہ حرارت، انواع کا خاتمہ، پانی کی کمی اور آلودگی وغیرہ۔ اس لئےیومِ ارض محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ یہ اس بات کی دعوت ہے کہ ہم اپنی پالیسیوں، سائنسی سوچ اور روزمرہ انسانی رویوں کو فطرت کی حدود کے مطابق ہم آہنگ کریں۔ اس ارض پر رہنے والے ہر انسان کا ایک کردار ہےکہ ہم انفرادی اوراجتماعی طورپر کیا کرسکتےہیں،جس سے اس کا تحفظ ہوسکے۔جبکہ ہم دیکھ رہے ہیں اور محسوس بھی کررہے ہیںکہ اس وقت دنیا کو جو مسائل درپیش ہیں، اُن میںاہم ہوا اور پانی کی آلودگی،جنگلات کی کٹائی،گلوبل وارمنگ اورپلاسٹک کا زیادہ استعمال ہے۔
جس کی سبب نہ صرف انسانی صحت بُری طرح متاثر ہورہی ہےاوراور کئی گمبھیر نقصانات سامنے آرہے ہیں بلکہ اس ارض پر موجوددوسرے کئی مخلوقات کے حیات کی نایابی اور نابودی کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔حیاتیاتی اثرات سے مختلف قسم کے جانوروں اور پرندوں کے مسکن ختم ہوچکے ہیں،کئی اقسام کے جاندار ناپید ہو ئے ہیں،جبکہ قدرتی آفا ت جیسے سیلاب اور خشک سالی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ہم اکثر زمین کو بچانے کی بات کرتے ہیں، لیکن زمین کو بچانے کی ضرورت نہیں، یہ تو قائم رہے گی۔ اصل خطرہ اُس نازک نظام کو ہے جو انسانی زندگی کو برقرار رکھتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ سیارہ باقی رہے گا یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا طرزِ زندگی برقرار رہ سکے گا؟جس کے لئے لازم ہے کہ ہم اپنی اس زمین جوکہ ہمارا مشترکہ ملکیت ہے، کی حفاظت خود کریںاور اچھے شہری ہونے کے ناطے ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ شجرکاری کریں،درخت اور پودے لگائیں ،اگر گھر میں آنگن ہوں،اگر کھلی زمینات کے مالک ہوں تو وہاں بڑے پیمانہ پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
شہروں کے نسبت دیہاتوں اور گاؤں میں شجر کاری کے مواقع زیادہ ہیں۔برخلاف اس کے شہری علاقوں میں زندگی دوبھر ہوگئی ہے۔شہری انسان قدرت سے دورنہیں بلکہ فطرت سے بھی دور ہوتا چلا جارہا ہے اور آلودہ فضاء میں سانس لینے اور آلودہ پانی پینے پر مجبور ہوتا چلا جارہا ہے۔اس لئے پلاسٹک کے استعمال میں زیادہ سے زیادہ کمی کی جائے،ذاتی گاڑیوں کا کم استعمال اور پبلک ٹرانسپورٹ کا زیادہ استعمال کریں، فیکٹریوں اور کارخانوں میں فلٹرز کا استعمال کریں،پانی کی آلودگی روکنے کے لئےکوڑا کرکٹ ، فضلہ،کچرا اور پلاسٹک ندی نالوں ،چشموں،دریائوں اور پانی کے دیگر ذخائرمیں نہیں ڈالا جائے،کیمیائی کھادوں کا کم استعمال کریں اورسیوریج کا مناسب نظام بنایا جائے۔ہوا اور پانی دونوں زندگی کے لیے ضروری ہیں۔ ان کی آلودگی انسانی صحت اور ماحول کے لئے بہت خطرناک ہے، اس لیے ہمیں اجتماعی طور پر اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ اگر ہم نے ان باتوں پر عمل نہیں کی تو نہ صرف ماحول بلکہ ہماری اپنی پوری زندگی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔چنانچہ جب آنے والی نسلیں ہمارے اعمال کا جائزہ لیں گی تو کیا وہ ہماری ذمہ داری دیکھیں گی یا غفلت؟اس سوال پربھی ہمیں غور کرنا چاہیے۔