ندیم خان، بارہمولہ
زندگی میں مشکلات اُنہیں کے آڑے آتے ہیں جو باہمت اور مقصدِ حیات پر قائم رہتے ہیں جو کسی طوفاں یاآندھی کا سامنا کرنے سے گھبراتے نہیں ،بلکہ اپنے قدم پہلے سے زیادہ مضبوط کر لیتے ہیں ۔ کامیابی کی منزل ایسے ہی پُر عزم لوگوں کے قدم چومتی ہے جنہیں اپنی منزل کوپانے ،اپنے خوابوں کے شرمندہ تعبیر ہونے پر پورا یقین ہو تا ہےاور یہ یقین ِمحکم ہی اُن کے ہر کام پورا ہونے کی بنیاد ہوتی ہے ۔اسی لئے کہتے ہیں کہ:
جو یقیں کی راہ پہ چل پڑے اُنہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پہ بہک گئے
ہر انسان ،چاہے وہ کسی بھی شعبے، پیشے سے تعلق رکھتا ہو، جس نے پہاڑوں کی چوٹویوں کو سرکیا ہے، اُس نے اپنے زندگی میں آنے والی ہر مشکل اور راستے میں آنے والے ہر پتھر کو چوم کر خراشیں قبول کی ہیں ۔ کامیابی کی بلندیوں کو چھونے کے لیے بہت سی ناکامیوں اور اُلجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ٹھوکروں کی تمام سرحدیں پار کرنی پڑتی ہیں ۔ بہت سے ایسے لوگ جن کا یقین ڈگمگا جاتا ہے،منزل کے بہت قریب تر ہو کر ہار جاتے ہیں،وہ وسوسوں میں پڑجاتے ہیںاور اُنہیں لگتا ہے کہ اُنہوں نے اتنی محنت بے کار ثابت ہوئی ،شاید اُنکے حصے میں ناکامی کے سوا کچھ نہیں ، ایسا نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے یقین کی طاقت کو کمزور کر دیتے ہیں ،ان کا ایمان ڈگمگا جاتا ہےاور وہ بھول جاتے ہیں کہ جتنی بڑی منزل ہوتی ہے، اُتنی بڑی آزمائش بھی ہوتی ہے ۔ خدا بندے کے جنون اور جذبے کو دیکھ کر اُسکی آزمائشیں اس لئے بڑھا دیتا ہے کیونکہ وہ صرف اُسکا صبر، اُسکا ضبط اور اسکا یقین آزمانا چاہتا ہے ،اور ہم نادان اکثر اپنی کم فہمی کی وجہ سےیہ سمجھتے ہیں کہ شاید خدا ہی نہیں چاہتا۔ ایسا ہرگز نہیں ہے۔جبکہ خدا نے اپنے کلام میں خود فرمایا ہے کہ ـ “انسان کے لیے وہی سب کچھ ہے جس کے لیے اُس نے کوشش کی ہے ۔ـ”پھر کیسے وہ انسان کو اُسکی محنت اور کاوشوں کا صلہ نہیں دے گا۔کچھ رکاوٹیں انسان کو بہت کچھ سکھانے اور اسکے عزم و ارادےکو مضبوط بنانے کے لیے درپیش آتی ہیں ، یقین کو پختہ و محکم کرنے کے لئے آتی ہیں،کیونکہ انسان کے ہر کام میں اللہ کی کوئی مصلحت ہوتی ہے ۔ ساری کہانی اور کھیل یقین کا ہوتاہے ۔ ہماری زندگی میں کچھ بھی پانے و کھونے کا انحصار ہمارے یقین پر ہے ۔ کبھی ہار نہیں ماننی چاہیے ،چاہے کتنے ہی پیچ کھانے پڑیں، عزم ٹوٹنا نہیں چاہیے ۔بقول آتش ؔ :
تھکیں جو پائوں تو چل سر کے بل آتشؔ
گلِ مراد منزل میں خارِ راہ میں ہے
انسان کی کامیابی کا حصار تو وہیں سے شروع ہو جا تا ہے جہاں وہ درد کو سہنے اور کامیابی تک پہنچنے کا فیصلہ کر لیتا ہے ۔آگے بڑھنے کے لیے کچھ درکار نہیں ہوتا، بس اٹل فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور یقین کامل رکھنے کی ضرورت پڑتی ہے ، عزم کرلینے کی ضرورت ہوتی ہےکہ جب تک منزل نہ ملے، نہ ہار ماننے اور نہ ہی پیچھے ہٹنے کی ضرورت ہوتی ہے۔گویا اپنی جیت کو اپنی تاریخ بنا کر ہی دم لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔جب یہ حوصلہ انسان میں بیدار ہو جائے تو پھر لاکھ طوفان کیوں نہ آئیں، کوئی بھی اُسے اُسکے عزم اور حلف سے منہ موڑنے پر مجبور نہیں کر سکتا، جب تک کہ خود نہ چاہے۔ ایک عمدہ انسان کو میں ایک عمدہ قلم سے تشبیہ دیتا ہوں، اس لئے نہیں کہ یہ اچھا لکھتا ہے بلکہ اس لیے کہ یہ بہتری کی خاطر بار بار تراشے جانے کے عمل سے نہیں گھبراتا۔ مشکلات میں پھنسے انسان کو ہمیشہ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیےکہ جب یہ دنیاوی زندگی عارضی ہےتو یہاں کچھ بھی مستقل نہیں ۔اگر درد، تکلیفیں ہیں تو وہ وقتی ہیں ، عارضی ہیں۔ہاں ! اگر مستقل ہےتووہ آپ کا یقین، آپکا کرداراور آپ کا عزم ہے ۔ ہمت ،شدت سے اپنی صلاحیتوں پر یقین کا نام ہوتا ہے اوراپنی منزل کی تصویر کشی کرنے کے لئے انسان کو یقین جیسے مضبوط سہارے کے سِوا اور کسی چیز کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ جیسا کہ ایک مصنف ہے، اگر اُسے اپنے قلم کی طاقت پر یقین نہیں یا اُسے یقین نہیں کہ وہ ایک اچھا قلمکار بن سکتا ہے تو وہ یقیناً کبھی ایک اچھا اور ماہر مصنف نہیںہو سکتا۔ایک سائنسدان جسے خود پر اعتماد نہیں، اپنی صلاحیتوں پر یقین نہیں، وہ کبھی کچھ ایجاد نہیں کر سکتا۔ ایک استاد ہے اگر وہ اپنے لہجے اور کردار و ادب سے بچوں کو مطمئن نہیں کر سکتا تو وہ ایک اچھا استاد نہیںبن سکتا ۔ اسی طرح ایک تحقیق دان جسے اپنی قابلیت پر یقین نہیں، وہ کبھی بھی کچھ دریافت نہیں کر سکتا ۔ یہ یقین کی طاقت ہے جس نے انسان کو ہوا میں اُڑنا سکھایا، بنا ڈوبے پانی کی سطح پر سفر کرنا سکھایا ،یقین کی طاقت پر ہی لوگوں نے چاند پر قدم رکھا اور ترقی کی راہوں پر جو بھی شخص آج گامزن ہے، وہ صرف کامل یقین ،خود اعتمادی اور اپنی صلاحیتوں پر بھروسے کی بدولت ہے ۔ آ پ کسی بھی کامیاب انسان کی مثال لے لیں، اُس نے پہلے پہل ہمیشہ اپنی منزل کو اپنی ذات سے آشنا کروایا ہے اور پھر اُسکے حصول کے لیے جان وار دی ہے ۔ آگے بڑھنےکی خواہش انسان کی فطرت میں شامل ہے ۔ اسکی تکمیل کے دو طریقے ہیں ،ایک یہ کہ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لیے کسی کو پھلانگ کر آگے نکل جائیں، یا خود کو اگلے سے بہتر یا زیادہ قابل سمجھ کر اُلجھ جائیں، جبکہ اس میں آپکا کوئی فائدہ نہیں، ایسے میں انسان بڑا نہیں بن جاتا اور نہ ہی دوسرے سے افضل ،بلکہ اپنا وقار اور کردار گنوا دیتا ہے ۔ اگر آپکو اپنی قابلیت پر واقعی یقین ہے تو آپ کبھی کسی کی ٹانگ کھینچ کر آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کریں گے ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بغیر کسی سے الجھے اپنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرتے ہوئے اور کامل یقین کے ساتھ آگے بڑھنا ہے ۔ یہ طریقہ فرد کے لیے بھی بہتر ہے اور قوموں کے لیے بھی۔ دنیا کے اگر کامیاب لوگوں کی زندگی پر اگر نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے زندگی میں بہت سی مشکلات اور ناکامیوں کا بڑے حوصلے کے ساتھ سامنا کیا ہے ۔ کامیاب لوگ کبھی ہمت نہیں ہارا کرتے بلکہ وہ اُنہیں چیزوں کامقابلہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جن سے اُنہیں خوف آتا ہے ۔ وہ ناہموار راستوں کو ہموار بنا کر کامیاب منزل کے کامیاب مسافر بن جاتے ہیں ۔
جو شخص خوددار اور دلیر ہوتا ہے، اپنے معاملات اور فیصلوں میں، اپنے اعمال میں پکا ،گفتار اور کردار میں یکساں اورمستقل مزاج ہوتا ہے تو زمانہ خود اسکے مزاج کے مطابق چلتا ہے ۔ بس انسان کو کبھی کسی بھی معاملےمیں ہار نہیں ماننی چاہیے کیونکہ زندگی نام ہی جدوجہد کا ہے اور اس میں کامیاب وہ ہی ہوتا ہے جو اپنی منزل کو اپنی ذات سے فتح کر لیتا ہے ۔ کیونکہ’’ کامیابی کبھی مستقل نہیں ہوتی اور ناکامی کبھی آخری نہیں ہوتی ،اس لیے کبھی ہار مت مانو اور تب تک نہیں مانو جب تک آپکی جیت آپکی تاریخ نہ بن جائے ۔‘‘
رابطہ/6005293688
[email protected]