سمت بھارگو
راجوری//مغل روڈ کی بحالی ایک بار پھر تاخیر کا شکار ہو گئی ہے کیونکہ شدید سردی کے باعث سڑک کی سطح پر پالا جم گیا ہے جس سے پھسلن میں اضافہ ہو گیا ہے۔ حکام کے مطابق، سڑک کو ہفتہ کے روز جزوی طور پر کھولنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا، تاہم تازہ موسمی حالات نے اس عمل کو مؤخر کر دیا ہے۔واضح رہے کہ مغل روڈ گزشتہ چھ دنوں سے مسلسل بند پڑی ہے۔ پیر کی صبح سے علاقے میں ہونے والی تازہ برف باری کے بعد سڑک پر خاصی مقدار میں برف جمع ہو گئی تھی، جسے ہٹانے کے لئے بارڈر روڈ آرگنائزیشن (بی آر او) کی جانب سے جنگی بنیادوں پر برف صاف کرنے کا کام شروع کیا گیا۔ اگرچہ بیشتر حصوں سے برف ہٹا دی گئی تھی، مگر شدید سردی کی وجہ سے سڑک پر پالا جم گیا، جس سے گاڑیوں کا چلنا انتہائی خطرناک ہو گیا ہے۔محکمہ شاہراہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ سڑک کو جزوی طور پر کھولنے کی پوری تیاری تھی، لیکن جمعہ کی رات درجہ حرارت میں مزید کمی آنے سے سڑک کی سطح پر شدید پھسلن پیدا ہو گئی۔ اس صورتحال کے پیش نظر مسافروں اور ڈرائیوروں کی جان و مال کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر سڑک کھولنے کا فیصلہ مؤخر کر دیا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بی آر او کی ٹیموں نے سڑک پر نمک کا چھڑکاؤ تیز کر دیا ہے تاکہ پھسلن کم کی جا سکے اور برف کے دوبارہ جمنے کے عمل کو روکا جا سکے۔ اس کے باوجود موجودہ موسمی حالات میں سڑک کو محفوظ قرار دینا ممکن نہیں ہو سکا۔حکام کے مطابق اتوار کے روز ایک بار پھر مغل روڈ کے مکمل حصے کا معائنہ کیا جائے گا۔ اس دوران موسمی صورتحال، سڑک کی حالت اور پھسلن کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے بحالی کے بارے میں حتمی فیصلہ لیا جائے گا۔ اگر موسم نے ساتھ دیا اور درجہ حرارت میں معمولی بہتری آئی تو امید کی جا رہی ہے کہ سڑک کو جلد از جلد جزوی طور پر کھول دیا جائے گا۔مغل روڈ کی بندش کے باعث پیر پنجال خطے کے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ یہ سڑک راجوری اور پونچھ کو وادی کشمیر سے جوڑنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ سڑک کی بحالی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات فوری طور پر کیے جائیں تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔