نصب شب کا وقت تھا، مجھے لگا کہ جہاز غالباً کسی ساحل سے قریب ہی گزر رہا ہے۔ جہاز چلتا رہا یہاں تک کی فجر کا وقت ہوا۔ کہیں سے بڑی خوش آواز میں لاؤڈ سپیکر سے اذان گونجی اور اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدائیں سمندر کی خاموشی کو توڑتی ہوئیں پانی کی موجوں کی طرح پورے سمندر پر پھیلتی گئیں اور نہ جانے کہاں سے کہاں تک پہنچتی رہیں۔ میں ان دنوں اگرچہ نماز کا پابند نہیں تھا مگر اس وقت اذان کے ان کلمات اور اندھیرے میں سمندر کی خاموشی چیرتی ہوئی ان پُرسوز صداؤں نے میرے دل میں عجیب کیفیات پیدا کیں اور مجھے اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہوا۔ اس وقت میرے ساتھ جہاز کے عملے کا جو افسر بیٹھا تھا وہ اگرچہ ہندو تھا مگر کبر سے عاری، سیدھا سادھا، شریف النفس اور نیک طینت تھا۔ میں نے اس سے پوچھا:یہ کونسا علاقہ ہے جہاں سے یہ اذان آرہی ہے؟ اس نے اس علاقے کا جو نام بتایا وہ اب مجھے یاد نہیں مگر یہ بات اچھی طرح یاد ہے کہ اس نام سے جو دوسرا لفظ جڑا تھا وہ 'موسیٰ تھا۔ یہ یاد نہیں کہ آیا اس نے اس علاقے کا نام 'طور موسیٰ بتایا، 'بیر موسیٰ بتایا یا 'جزیرہ موسیٰ بتایا یا کچھ اور بتایا وہ اب یاد نہیں، مگر یہ ضرور یاد ہے کہ اس نام میں 'موسیٰ کا لفظ تھا۔
پھر دن کو شاید دوپہر کے وقت ہم گوا کے ساحل پر پہنچے اور وہاں سے ٹیکسی پکڑ کے گوا کی راجدھانی 'پنجم آگئے۔ وہاں ہوٹل میں ایک کمرہ لیا اور چائے منگوائی۔ چائے پینے کے بعد تھوڑی دیر آرام کیا۔ سمندری سفر کی تھکان اور جاگتے رہنے کے سبب میں بیمار تھا۔ اب پردیس میں علاج کراتا تو کیسے؟ جو دو دوست ساتھ تھے، وہ کچھ ایسے نہ تھے کہ مجھے کسی ڈاکٹر کے پاس لے جاتے۔ میری صحت بگڑتی دیکھ کر مجھے لگا کہ ان کا موڈ بھی بگڑ گیا کہ کہیں اس آدمی کی بدولت ہمارا پروگرام ہی چوپٹ نہ ہوجائے۔ پیسہ بھی ہمارے ساتھ زیادہ نہیں تھا، بہت کم تھے۔ بہرحال میں نے تھوڑا سا آرام کیا۔ پھر نہایا دھویااور تروتازہ ہوا۔ مجھے تروتازہ دیکھ کر میرے ساتھیوں کی جان میں بھی جان آگئی۔ جوانی زندگی کا سب سے بڑا قیمتی اور حسین تحفہ ہوتا ہے۔ اس عمر میں بیماریوں سے بھی لڑنے کی بڑی قوت ہوتی ہے۔ سب سے بڑا خوش نصیب وہ شخص ہے جسے بھرپور اور اچھی جوانی ملی اور سب سے بڑا دانا وہ ہے جو اس کی قیمت کا اندازہ لگاسکا اور اسے اپنی آخرت کے ساتھ ساتھ اپنی عمر کے آخری ایام بہتر بنانے میں صرف کیا، کیونکہ میرے ایسے بے شمار تجربات ہیں کہ عمر کے آخری ایام میں انسان عام طور تنہا رہ جاتا ہے اور اس خود غرض دنیا میں انسان کا حقیقت میں کوئی اپنا نہیں۔ یوں تو زندگی ایک بھکاری بھی گزارتا ہے مگر اسے زندگی نہیں کہتے بلکہ ایک زبردستی اور مجبوری کہتے ہیں۔ سوکھا پیڑ بھی زمین پر کھڑا رہتا ہے مگر درحقیقت وہ شجر نہیں ہوتا گوکہ گنتی میں پیڑ ہی شمار ہو۔ وہ پیڑ ہی کیا جس پر شادابی نہیں! بشیر بدرؔ نے کیا خوب کہا ہے ؎
زندگی تو نے مجھے قبر سے کم دی ہے زمیں
پاؤں پھیلاؤں تو دیوار میں سر لگتا ہے
ظفر جعفریؔ کا معرکتہ الارا شعر ہے ؎
دو پل میں میری ساری جوانی گذر گئی
کب آئی ، کیسے آئی ، کہاں تھی کدھر گئی
اگلے دن ہم انجینا بیچ پہ گئے۔ ہم نے دیکھا انگریز لوگ سینکڑوں کی تعداد میں مردوزن مادر زاد برہنہ سمندر کے ساحل پر دھوپ سینک رہے ہیں جسے وہ ’’سن باتھ‘‘ کہتے ہیں۔ لباس کے نام پر کسی نفس کے بدن کے کسی بھی حصے پر دھاگا بھی نہیں تھا۔ ایسا تماشہ میں اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھ رہا تھا۔ پہلے اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں آیا۔ ایک جوڑا میرے سامنے اسی حالت میں ریت پر لیٹا تھا۔ میں نے ان کی طرف ذرا غور سے دیکھا تو اس عورت کے ساتھ جو اس کا ساتھی تھا وہ ایک دم کھڑا ہوگیا اور حملے کی پوزیشن میں رہا۔ ہم آگے بڑھ گئے۔ میں نے ان سینکڑوں انگریزوں میں کسی کو کمزور نہیں دیکھا۔ یوں تو ماشااللہ میرا قد بھی چھ فٹ ہے مگر میں نے دیکھا کہ وہ عورتیں بھی ایسی پھرتیلی اور طاقت ور تھیں کہ مجھ جیسے چار آدمیوں کے ساتھ آسانی سے لڑسکتی تھیں۔ میں نے ایک انگریز عورت کو سمندر کے کنارے ایک جگہ پر تنہائی میں یوگا کرتے دیکھا۔ وہ بھی باقی انگریزوں کی طرح بالکل برہنہ تھی مگر اتنی مضبوط تھی کہ دس آدمیوں کو آسانی سے ڈھیر کرسکتی تھی۔ مجھے تیرنا نہیں آتا۔ میں نے سمندر کے کنارے نہانے کی کوشش کی تو ایک تیز موج آئی اور مجھے ایک پتھر سے ٹکرادیا اور میں تھوڑا زخمی بھی ہوا۔ بعد میں سرکار نے وہاں برہنگی پر پابندی لگادی۔ میں نے دیکھا کہ جعلی قسم کے ڈھونگی سادھو سنت کا حلیہ بناکر ان انگریزوں کو شیشے میں اُتارنے کے گُر جانتے تھے۔ پھر ہم کیلن گوٹ کے ایک اور سمندری ساحل پر گئے مگر ایک چیز میں جانتا ہوں کہ ان لوگوں کی جب جوانی ڈھلتی ہے تو پھر ان کی زندگی بہت ڈراؤنی ہوتی ہے اور ان کا بوڑھاپا نہایت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ جوانی کے کچھ دن تو ان کے بظاہر خوشگوار ہوتے ہیں مگر پھر زندگی بڑی عبرت ناک۔ جن دنوں میرا فیس بک اکاؤنٹ ہوا کرتا تھا، ان دنوں میں بہت سے مغربی لوگوں کے قریب گیا اور ان سے گفتگو کے دوران مجھے ان کی زندگی کے جو حالات سننے کو ملے وہ ہیبت ناک تھے۔ میں نہیں کہتا کہ صرف مغربی لوگوں کی زندگی ہی جوانی ڈھلنے کے بعد ڈراونی ہوتی ہے بلکہ میرا مشاہدہ ہے کہ جہاں بھی بے حیائی عام ہوتی ہے وہاں زندگیاں بالآخر تباہ ہوجاتی ہیں۔ ایسے ایک دو نہیں بلکہ بہت سے واقعات اپنے یہاں کے بھی میرے تجربے میں ہیں کہ بے حیائیوں نے گھروں کے گھر اُجاڑ دئے اور زندگیاں آخر میں ڈراؤنی روپ اختیار کرگئیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ بے حیا باایمان بھی ہوسکتا ہے،جس کسی معاشرے میں شرم وحیا ہو ،وہاں امن وامان اور سکون ہوتا ہے اور جو معاشرہ شرم وحیا سے خالی ہو وہاں عزتیں اور عصمتیں بھی محفوظ نہیں ہوتیں۔ وہاں لذتوں کے پچاری تو ہوتے ہیں انسانیت کے علمبردار نہیں۔ حلال زادے اور حلال زادیاں کبھی بے حیا نہیں ہوسکتے۔ حیا جذبے کا نہیں بلکہ ایک کیفیت کا نام ہے۔ سب سے بڑا باحیا وہ ہے جس میں خوف خدا ہو اور جس میں خوف خدا نہ ہو وہی ملعون دنیا سے نکل کر مامون دنیا میں آجاتا ہے۔
گوا کھانامیں بالکل کشمیری مزاج اور مزے کا نہیں ملتا تھا۔ میں اکثر مچھلی کھاکر گزارہ کرتا تھا۔ میں کشمیر سے جب بھی باہر کسی سیاحتی دورے پر گیا ہوں تو کبھی گوشت نہیں کھایا۔ اس لئے میں نے وہاں گوشت کی تلاش نہیں کی، میں صرف کوئی ڈھنگ کا ویجی ٹیرئین ریسٹورنٹ ڈھونڈ رہا تھا۔ آخر وہاں '’’شیر پنجاب‘‘ نام کا ایک ویجی ٹیرئین ریسٹورنٹ ملا جو کسی پنجابی کا تھا، وہاں پھر کچھ ڈھنگ کی روٹی اور سبزی ملی اور یوں کئی دنوں کے بعد میری شکم سیری ہوئی۔ گوا میں اگرچہ اکثریت ہندوؤں کی ہے تاہم شہر میں اکثریت کرسچین لوگوں کی ہے۔ ریسٹورنٹ اور ہوٹل عام طور وہی چلاتے ہیں۔ جس طرح یہاں پر کسی کے گھر جاکر چائے لانے کا رواج ہے، وہاں یہ دیکھا کہ شراب کا رواج عام تھا۔ جہاں اور جس جگہ بھی آدمی جاتا شراب دستیاب دیکھی۔ سیاحوں میں زیادہ تر غیر ملکی ہوتے ہیں۔ یوں تو گوا کے لوگ کونکن زبان بولتے ہیں مگر شہر اور سمندر کے ساحلوں پر زیادہ اثر عیسائیوں کا ہے، اس لئے ان علاقوں میں انگریزی بولی جاتی ہے۔ جو انگریزی زبان نہ جانتا ہو اس کو گوا میں دقتوں کا سامنا ہوسکتا ہے۔ گوا میں گورے لوگوں کو دیکھ دیکھ کے ذہن پر کچھ ایسا اثر پڑا تھا کہ جب میں واپس ممبئی آگیا تو جس آدمی کو میں دیکھتا مجھے وہ میلا نظر آتا۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہفتہ بھر کے بعد وہ اثر جاتا رہا۔ جب واسکوڈی گاما نے ہندوستان دریافت کیا تھا تو اس کا جہاز گوا کے ساحل سے ہی لگا تھا۔ اس جگہ کا نام ہی واسکوڈی گاما پڑگیا ہے۔
گوا سے ہماری واپسی بس کے ذریعہ ہوئی۔ بس کو ممبئی پہنچنے میں چوبیس گھنٹے لگے۔ بس کا سفر زیادہ ہی مصیبت کا باعث بنا۔ ممبئی میں دو تین دن رُکے اور پھر وہاں سے ہم دہلی آئے۔ ہم تھک بھی گئے تھے اور واپسی کے دوران آپس میں تھوڑی سی ناچاقی بھی ہوئی تھی جس کے سبب دہلی سے واپسی کا سفر زیادہ خوشگوار نہ رہا۔ دہلی میں ایک دن قیام کے بعد جموں آئے اور وہاں ٹیکسی لی اور سرینگر پہنچ گئے۔ جیسا کہ پہلے ہی اس بات کا ذکر اوپر کہیںکیا کہ اس اٹھارہ بیس دنوں کے دورے پر ہم تینوں کا کل خرچہ ستائیس سو روپے آیا تھا یعنی فی کس نو سو روپے۔ محمد اسلم صاحب اور میں نے پیسے عبدالحمید صاحب کے پاس جمع کئے تھے۔ خرچہ وہی کرتا تھا اور اس کا حساب رکھتا تھا۔
انسانی زندگی میں جوانی کا دور آرزؤں اور رنگینیوں سے بھرا ہوتا ہے۔ تقریبا ًہر ادیب اپنی جوانی کی یادوں اور جوانی کی رنگینیوں کو لفظوں میں قید کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر پھر ایک وہ دور بھی آتا ہے جب منور راناؔ کو کہنا پڑتا ہے ؎
مجھ کو گہرائی میں مٹی کی اتر جانا ہے
زندگی باندھ لے سامانِ سفر، جانا ہے
زندگی تاش کے پتوں کی طرح ہے میری
اور پتوں کو بہرحال بکھر جانا ہے
ایک بے نام سے رشتے کی تمنا لے کر
اس کبوتر کو کسی چھت پہ اتر جانا ہے
چلئے اب دوسرے موضوع پر آتے ہیں۔ ظریف احمد ظریف ؔصاحب ادبی اور سماجی حلقوں میں ایک معروف نام ہے جن کی کئی اعتبار سے اپنی ایک الگ شناخت ہے۔ طنزنگاری ظرافتِ کلام میں ان کی ایک خاص پہچان اور انفرادیت ہے۔ اس کے علاوہ انہیں چنار کے پیڑوں سے ایک خاص جذباتی تعلق رہا ہے اور وہ چنار کو ہمارا ورثہ اور تہذیبی امانت بھی مانتے ہیں۔ وہ چنار کو کشمیر کے تشخص کی نشانی قرار دیتے ہیں۔ غالباً اس سلسلے میں انہوں نے ’’چنار بچاؤ‘‘ کمیٹی بھی تشکیل دی تھی اور ایک طویل عرصے سے چنار کے پیڑوں کے تحفظ اور انہیں وسعت دینے کی کوششوں میں سرگرم عمل ہیں۔ ان کوششوں کے دوران انہیں بہت سی دشواریوں کا ہی نہیں بلکہ مصیبتوں کا بھی سامنا ہوا، مگر افسوس یہ ہے کہ بے حس انتظامیہ اور مادہ پرست لوگوں کی طرف سے اس حساس اور باظرف شخصیت کو تعاون کی بات تو دور، اُلٹی تکلیفیں ہی ملیں۔ ظریف صاحب نے چنار کے پیڑوں کے حوالے سے کچھ قابل قدر تحقیقی کام بھی کیا ہے اور اس مضمون میں میں اسی تحقیقی کام کے کچھ اقتباسات پیش کرنا چاہوں گا۔ چنار کے پیڑ سے کشمیر اور کشمیری کی پہچان جڑی ہے۔ عام کہاوت ہے کہ جو آدمی کشمیر آتا ہے وہ چنار کی محبت میں گرفتار ہوتا ہے۔ یہ بلند وقامت پیڑ اپنی عظمت ووقار کی اپنی مثال آپ ہے اور اگر اسے سلطان الاشجار کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ مگر افسوس اکثر لوگوں کی کم ظرفی کے باعث یہ ورثہ ہم سے چھن رہا ہے۔ اسی بات کو ظریفؔ صاحب نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے ؎
شک چھ کیا اتھ منز یہ چھم بڈ موج پریتھ کلی زاژ ہنز
ساسہ بدی نے جانہ وارن کیا چھ للئہ وان مایہ بونی
یعنی اس بات میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ چنار کا درخت واقعی اُم الاشجار ہے۔ ایک ماں کی طرح یہ پیڑ ہزاروں جانوروں کو ممتا کی طرح پیار دیتا ہے۔
میں نے ظریف صاحب کے کچھ اشعار کا اردو میں ترجمہ تو کیا ہے مگر جو چاشنی اور مٹھاس ان کے اپنے الفاظ میں ہے اس کو اردو ترجمہ میں اُتارنا ممکن نہیں۔ بہر کیف ایک غیر سرکاری سروے کے مطابق پچھلی صدی کی ساتویں دہائی میں کشمیر میں چنار کے پیڑوں کی تعداد چالیس ہزار تھی مگر اب اس کی تعداد پانچ ہزار تک گھٹ گئی ہے ،جو واقعی تشویش ناک بات ہے۔ چلئے اب ظریفؔ صاحب کے مضمون پر آتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں : چنار ہمیں ورثے میں ملا ہے ،یہ پیڑ ہمارے ثقافت اور تہذیب کی علامت ہے۔ مادہ پرستی اور خودغرضی نے انسانی ضمیر کا کچھ اس طرح احاطہ کرلیا ہے کہ وہ اپنی ماحولیاتی ذمہ داریوں سے بھی غافل ہوگیا ہے اور اغراض کی دُھندلاہٹ میں اُسے یہ بھی نظر نہیں آرہا ہے کہ چنار کے پیڑوں کو کاٹ کر دراصل وہ اپنی ہی جڑیں کاٹ رہا ہے اور اپنے ثقافتی اور تہذیبی خزانوں کو لٹا رہا ہے۔ ان چنار کے پیڑوں کو کاٹ کر وہ اپنے ہی تشخص کی بیخ کنی پر اتر آیا ہے۔’’ آئین اکبری ‘‘میں ابوالفضل نے لکھا ہے کہ اکبر بادشاہ نے ڈل کے کنارے باغ نسیم آباد کیا جس میں اس وقت بارہ سو چنار کے پیڑ لگائے گئے۔ ظریفؔ صاحب آگے لکھتے ہیں کہ تواریخی حوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ باغ نسیم میں چنار کے پیڑوں کو تیس سال تک دودھ سے سینچا گیا ہے۔ چنار کے پیڑوں کی بے قدری کرنے والے لوگوں کو کہاں یہ احساس ہوگا کہ چنار ہماری قوم کے لاڈلے پیڑ ہیں۔ چنار کا دوسرا مشہور باغ شاہجہاں کے دور میں الہٰی باغ کے نام سے بنایا گیا تھا جو بڑھ پورہ سرینگر کے متصل واقع ہے۔ بجبہاڑہ میں جہلم کے کنارے مغل شہزادے داراشکوہ نے چنار کا ایک حسین باغ بنوایا تھا جو آج بھی اپنی شان وشوکت کے ساتھ موجود ہے۔ اس باغ میں 2005ء تک ایک قد آور اور قدیم چنار ایسا تھا جس کی جڑ کی چوڑائی 54 ؍فٹ تھی۔ پھر سیلاب سے یہ پیڑ ٹوٹ گیا۔ ظریفؔ صاحب ’’تزک جہانگیری‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ راول پورہ میں چنار کا ایک پیڑ اتنا بڑا اور موٹا تھا کہ تیز بارش سے بچنے کے لئے جہانگیر اور اکبر بادشاہ نے 34 افراد کے ساتھ اس کے کھوکھلے تنے میں پناہ لی تھی۔ اورنگ زیب تک جب جامع مسجد سرینگر کے نذر آتش ہونے کی خبر پہنچی تو اس نے دریافت کیا کہ آگ سے چنار کو کوئی گزند تو نہیں پہنچی؟ پھر کہا جامع مسجد تو تعمیر ہوسکتی ہے مگر چنار کہاں سے لاسکتا ہوں! سر والٹر لارنس ’’ویلی آف کشمیر‘‘ میں لکھتے ہیں کہ 1882ء میں میں نے خود لولاب میں 63 فٹ پھیلاؤ یا چوڑائی کا چنار دیکھا۔
(بقیہ منگل کے شمارے میں ملاحظہ فرمائیں)