سن 1857ء کی ناکام جنگ آزادی میںمسلمانوں کا سب کچھ خس و خاشاک ہوگیا ۔حکومت گئی،عزت گئی،مستورات کی آبرو گئی،مال و جائیداد اور زمین چِھن گئی،بود وباش کے ٹھکانے گئے ۔ مسلمان آسمان سے گر کرفرش پر آگیا ۔بادشاہ قید ہوا اور تین شہزادوں کی گردنیں کاٹ کر اُسے طشتری میں رکھ کر پیش کی گئیں۔قید میں تمباکو کے لئے چار پیسے نہ ہوکر اُسے ملکہ زینت محل بیگم کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑتا تھا اور اُسی انتہائی مایوسی اور بے بسی کی حالت میں اُس کے مُنہ سے نکلا ؎
نہ ظفرؔ کسی کا حبیب ہوں
نہ میں کسی کا رقیب ہوں
جو اُجڑ گیا وہ دیا ر ہوں
جو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں
اس جنگ میں جن لوگوں نے انگریزوں کی طرف داری کا سۂ لیسی اور چولی چکی کی بلکہ مجاہدین آزادی کے خلاف مخبری کی اور ہزاروں کو موت کے گھاٹ اُتروادیااور بعد میں انہوں نے ہی جنگ آزادی میں بھرپور حصہ لینے کا دعویٰ کیا،آج اسی قبیل و قماش کے لوگ مسلمانوںکی قربانیوں کو کسی خاطر میں بھی نہیں لاتے حتیٰ کہ وہ ٹیپو سلطان جیسے عوام دوست ،سیکولر اور محب وطن بادشاہ کو ہندوستان کا دشمن مانتے ہیں۔کتنی غلط سوچ ہے ان کی!!!ہ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ واحد حضرت ٹیپوؔ ہی تھے جنہوں نے انگریزوں کے آگے سرنڈر نہیں کیا بلکہ دم ِواپسیں یعنی شہید ہونے تک اپنے وطن کی آزادی اور سا لمیت کے لئے لڑتے رہے۔افسوس وہ اُس عظیم انسان اور عظیم محب ِ وطن کی قربانیوں کو بھی کچھ’’ دیش بھگت ‘‘بھول گئے ہیں۔
مسلمانوں پر ایسی بھی آفت آن پڑی کہ جو بیگم صرف چند روز قبل تک اپنی ڈیوڑھی پر ہر ہفتہ ہزاروں روپے خیرات بانٹا کرتی تھی، وہی بیگم انگریز کے لوٹ کھسوٹ اور استحصال کے بعد چاندنی چوک اور چوری والاں علاقوں میں بھیک مانگتی ہوئی نظر آئیںاور جو کنوئوں میں ڈوب مرنے کی جرأت نہ جُٹا پائیں، انہوں نے جھانجن پہن کر کوٹھے سنبھالے اور کچھ نے بالا خانے آباد کئے۔معترض قلعہ معلی کی اُن بیگمات اور شہزادیوں کو بھی بھول گئے جنہوں نے حد سے زیادہ ستم سہے اور پیٹ کے دو لقموں کی خاطر محل کے ہی وہ باورچیوں ،دربانوں اور خواص کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کے لئے مجبور ہوگئیں۔وہ حکمران اور شاہی خاندان کی راج کماریاں اور شہزادیاں تھیں اور اس وقت مسلمانوں پر اعتراض کرنے والے یہ الٹی کھوپڑی والے لوگ کون ہیں ؟وہ بھول گئے ہیں کہ مسلمانوں نے ہی ہند کو پیار کا دھڑکتا دل تاج محل دیا ہے جسے نیو سیون ونڈرس نامی تنظیم نے دس کروڑ ووٹ ملنے کے بعد دوبارہ زیر فہرست کیا۔تاج محل کو دیکھنے دنیا کے اطراف سے لوگ آکر ملک،خاص کر ریاست کی معیشت میں ایک بہت بڑا اضافہ کرتے ہیں۔
یہ نادان بھول گئے کہ مسلمان نے ہی سوتنتر بھارت کے لئے ترنگے جھنڈے کا نرمان کیا تھا ۔وہ حیدر آباد کی مرحومہ ثریاؔ طیب کو بھی بھول چکے ہیں۔اتنا تو معلوم ہی ہوگا کہ بابائے قوم آنجہانی گاندھی جی کو گاندھی کیپ اَماں عبادی بیگم عرف بی اماںؔ نے بناکر دی تھی ۔کیا علی برادران کی بی اَماں کو اتنی جلدی بھول گئے جو بڑھاپے اور نقاہت کے باعث پیڑھی پر بیٹھ کر مجاہدین آزادی ٔ ہندکے اجلاس میں جاتی تھیںاور اپنے جوشیلے الفاظ کے جوشیلے تقاریر سے مجاہدین کو سربکف بناتی تھیں۔’’انقلاب زندہ باد‘‘جیسا انقلابی نعرہ کس کی اختراع ہے ؟کم از کم اتنا تو یاد ہی ہوگا کہ ’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘‘کے بول کس شاعر اعظم کے ہیں؟ یہ بول کس وطن پرست انسان کے ہیں ؟ یہ ترانہ شُونیہ یعنی خلاء میں بھی خلاباز راکیش شرمانے اندراگاندھی کے جواب میں فون پر دُہرایا تھا اور ساری دنیا نے سنا تھا ۔یہ سارے کام اور کارنامے مسلمانوں کے ہی ہیں تو پھر آج یہ مسلمان دشمن ،غیر اور حملہ آور کیسے ہوگیا ؟
جو کرم فرما مختلف مقامات ،شہر اور گائوں کے نام بدلانے پر اُتارو ہیں ، ہر اُس نام کے پیچھے پڑے ہیں جو اُردو ،فارسی یا عربی الفاظ سے لکھا یا بولا جاتا ہے ۔یا وہ تمام نام جو مسلمان اور مسلمان کی تہذیب و تعمیر سے وابستہ ہیں،بے شک یہ نام کرن کریں ،نام بدل ڈالیں تو اُس سے کیا فرق پڑے گا ؟آج سے تیس سال قبل احمد آبادؔکا نام امداواد رکھا گیا تو کونسا انقلاب آگیا ؟اورنگ زیب رو ڑ کو موقوف کیا گیا تو کیا فرق پڑا جو اب پڑ جائے گا ؟ہندوستان میں لاکھوں دیہات اور قصبے ہیں ۔کیا اُن میں سے پانچ چھ فی صد گائوں اور قصبے مسلمان نام کے ساتھ ،یا اسلامی طرز کے نہیں ہوں گے ؟ نام بدلنے سے سب سے پہلے ریونیو ریکارڈ کا بدلنا ضروری ہے ۔اب جس گائوں قصبے کا صدیوں کا پٹوار اور گردھاوری ایک نام سے ہو تو اُس کو تبدیل کرنے میں کچھ تو وقت لگے گا ۔فی الحال یہ پٹوار اور گردھاوار سنبھالتے رہیں، تب تک یہ بھی خیال میں رکھنا ہے کہ کہیں سب کاوشواس ایک سایسی نعرہ نہیں بلکہ ایک قومی تہذیب کا روپ دھارن تو نہ کرے؟ ان ہی کا غلبہ تاقیامت رہے تو اُس کی کیا ضمانت ہے ؟ ع
مٹے نامیوں کے نشان کیسے کیسے
کرسی کے پجاری ایسے لوگوں کو یہ بات بہر حال نوشتہ دیوار سمجھ کر یا د رکھ لینی چاہئے کہ’’ایزار سے باہر نکلنا ‘‘اپنے ماضی اور تہذیبی رویات سے منہ موڑنا قوموں کو بہت مہنگا پڑتا ہے کیونکہ وقت کے ساتھ روایات ،طور طریقے ،رہن سہن اور اقدار بدل جاتی ہیں ۔یہ برچھی بھالے اور کھڑگ ڈھال کا زمانہ نہیں ہے ۔یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے ۔آج کل لوگ ہمالیہ پر دھونی رمانے اور تپسیا کرنے نہیں جاتے بلکہ چاند اور مریخ پر ڈسکو کرنے کے لئے پرتول رہے ہیںاور ادھر دیکھئے کہ یہ لو گ ایک بے ضرر اقلیت ،جس کو آگے ہی دوسرے درجے کا شہری بنا دیا گیا ہے ،کے پیچھے ہاتھ دھوکر پڑگئے ہیں۔انگریز سے آزادی کے بعد سے اب تک لگ بھگ چالیس ہزار دنگے کراکر بھارت کی دھرتی کو مسلم اقلیت کے خون ِ ناحق سے لالہ زار کردیا گیا ہے ۔کیوں؟آخر کیا کیا ان لوگوں نے؟ان کی تعلیم ،ان کے مدارس اور درس گاہوں ،نوکری اور کاروبار پر آگے ہی آگ برسا ان کو زیرو لیول پر لایا گیا ہے ،اب اور آگے کیا چاہتے ہیں یہ مہاشئے ، یہ بدھی مان؟شاید ڈاکٹر صاحب نے یہ پیش گوئی قبل از وقت اسی دور ِ انحطاط کے لئے کی تھی ؎
نہ سمجھو گے تو مٹ جائو گے اے ہندوستان والو
تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
(ختم شد)
رابطہ:- پوسٹ باکس :691جی پی او سرینگر -190001،کشمیر
موبائل نمبر:-9419475995