پونچھ//ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ سے سرحدی عوامی حلقوں میں خوشی پائی جارہی ہے۔برسوں تک خوف وہراس میں رہنے کے بعد اب سرحد پر بسنے والے لوگ بغیر کسی خوف کے معمولات زندگی میں مصروف ہیں تاہم سرحدی مکینوں نے بتایا کہ مذکورہ سرگرمیاں کئی دہائیوں کے بعد بحال ہو ئی ہیں ۔پونچھ کے سرحدی گائوں دیگوار کی حد متارکہ سے چند میٹر کے فاصلے پر اپنے کھیتوں میں حال ہی میں تیار ہوئی فصل کی کٹائی کرتے ہوئے ایک کنبہ کے تقریبا تمام عمر سے وابسطہ افراد نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے تین ماہ سے ان لوگوں کو بھی احساس ہوا ہے کہ اب وہ امن کی زندگی گزار رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس امن معاہدے سے دونوں ممالک ہندوستان اور پاکستان کی سرحدوں پر بسنے والی عوام راحت کی سانس لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تین یا چار ماہ قبل سرحدوں پر رہنے والے لوگ اپنی کھیتوں کی طرف دیکھ بھی نہیں پا رہے تھے لیکن اب وہ لوگ دیر رات گئے تک اپنی کھیتی باڑی بغیر کسی خوف و ہراس کے کرتے ہیں۔سیاسی لیڈر شہزاد خان نے بتایا کہ ضلع پونچھ کی سرحدوں سے اکثر کنبہ جات اپنا گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب چلے گئے تھے جہاں وہ کئی طرح کی پریشانیوں سے دوچار ہو رہے تھے لیکن پچھلے تین ماہ سے لوگوں کی پھر گھر واپسی ہوئی ہے اور وہ بہت خوش ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب سرحدی دیہاتوں میں بھی ترقیاتی کام ہونگے۔انہوں نے دونوں ممالک کے راہنماؤں اور افواج کی اعلیٰ قیادت کے اس قدم کی سراہنا کرتے ہوئے امید بھی ظاہر کی ہے کہ اس جنگ بندی معاہدہ پر دونوں جانب سے سختی سے عمل کیاجائے۔ایک سرحدی رہائشی نے کہا کہ اس سے قبل جتنے بھی معاہدے ہوے وہ صرف میز تک ہی محدود رہے جوزیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اب جو معاہدہ ہوا ہے اس پر دونوں حکومتیں پابندی سے عمل کریں گی۔انہوں نے کہا گزشتہ 70سالوں سے سرحدوں پر قیامت برپاتھی لیکن تازہ جنگ بندی معاہدہ کے بعد سرحدی عوام کی زندگی کی نئی شروعات ہوئی ہے ۔