ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات پر جمی برف پگھلنے کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔اس کے ضمن میں کچھ خوش آئند باتیں سامنے آئی ہیں۔ یومِ پاکستان کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب عمران کے نام پیغام میں لکھا ہے کہ ’’ بھارت پاکستان کے عوام سے خوشکوار تعلقات کا خواہاں ہے‘‘۔ یہی نہیں ، انھوں نے عمران خان کو کورونا ہونے پرصحتیابی کا پیغام بھی بھجوایا تھا۔ اس سے قبل پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا بیان آیا تھا کہ انڈیا اور پاکستان کے مستحکم تعلقات وہ چابی ہیں جس سے مشرقی اور مغربی ایشیا کے مابین رابطے کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ایل او سی پر جنگ بندی پرعمل کرنے کے لئے بھی ایک معاہدے پر اتفاق ہوا ہے۔ یہ اس معنی میں نہایت اہم ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے بعد بھی ہزاروں بار اس کی خلاف ورزی ہوتی رہی ہے اور بے گناہ لوگوں کو جان و مال کا نقصان اٹھانا پڑتا رہا ہے۔ یوں تو ماضی میں متعدد بار دونوں ملکوں کے تعلقات معمول پر لانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔لیکن بار آورثابت نہیں ہو سکیں۔
بھارت اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سے ہی اتار چڑھائو کا شکار رہے ہیں۔آزادی کے وقت ملک کی تقسیم کے نتیجہ میں پاکستان وجود میں آیا ۔ اس تقسیم کی سب سے بڑی وجہ بر صغیر میں اپنی divide and ruleپالیسی کے تحت پھیلائی گئی ہندو مسلم منافرت تھی۔اگرچہ ملک کی تقسیم فرقہ وارانہ بنیاد پر ہوئی تھی لیکن مسلم آبادی کا ایک بڑا حصہ تقسیم کا مخالف تھا اور اس نے پاکستان ہجرت کرنے کے بجائے اپنے وطن عزیز کی مٹی کو مقدم سمجھا۔ عظیم قومی لیڈروں گاندھی، نہرو ،پٹیل اور مولانا آزاد وغیرہ کی دور اندیشی اوروسیع النظری کی وجہ سے بھارت ایک سیکولر ملک قرار پایا اور ایک سیکولر آئین نافذ ہوا۔ جبکہ مسلم اکثریتی پاکستان کو اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار دیا گیا۔ شروع میں دونوں ملکوں کے لیڈران کے ، دونوں ملکوں کے مابین اچھے تعلقات رکھنے کے عزم کے باوجودا یسا ممکن نہ ہو سکا۔ جسکے لئے کچھ علاقائی تنازعات جس میں سب سے اہم کشمیر کا مسئلہ ہے اور کچھ دونوں ملکوں کے اندر ونی سیاسی حالات ذمہ دار رہے۔ مشہور صحافی کلدیپ نیر جو، کہ خود تقسیم کی قیامت خیزیوں کے گواہ تھے اور فسادات کے دوران نفرتوں کے سمندر کا مشاہدہ کر چکے تھے، سیکولر نظریات کے قائل تھے اور ہندو پاک میں اچھے تعلقات کے خواہاں بھی ۔ ایک بار اپنے کالم ’ بین السطور‘‘ میں لکھا تھا کہ’’ دونوں ملکوں کے سیاست داں اپنے عوام کو شروع سے یہ بتاتے آئے ہیں کہ سر حد کے پار ہمارے دشمن رہتے ہیں‘‘۔
انگریزوں نے قرون وسطیٰ کی تاریخ کچھ اس طرح سے توڑی مروڑی ہے کہ صدیوں سے شیر و شکر ہو کر رہنے والے ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کو اپنا دشمن سمجھنے لگے۔ موجودہ سیاست دانوں کو بھی یہی راس آتا ہے۔ چنانچہ دونوں ملکوں میں تواریخ اس طرح لکھی جا رہی ہے کہ افسانے اور حقیقت کی تفریق ختم ہوتی جا رہی ہے۔بھارت اور پاکستان میں سب سے اہم تنازعہ کشمیر کو لے کر رہا ہے۔ پاکستان مسلم آبادی کی اکثر یت کی بنیاد پرکشمیر کا دعوے دار ہے جب کہ بھارت کا موقف بالکل واضح ہے کہ مذہب کی بنیاد پر کشمیر کا تنازعہ حل نہیں ہو سکتا۔ ا س صورت میں بالکل بھی نہیں جب کہ بھارت میں پاکستان سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔ کشمیر کو لیکر ہونے والی ساری جنگوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ معاملہ جونا گڑھ کا ہو، سیاچن کا یا پھر کارگل کا، کسی بھی معاملے میں پاکستان کو نہ تو عسکری سطح پر اور نہ سفارتی سطح پرکبھی کو ئی کامیابی مل سکی۔ عسکریت کے واقعات نے تعلقات میں اور ابتری پیدا کی۔2001 میں پارلیمنٹ کی عمارت پر حملہ،2007 میں سمجھوتا ایکسپریس ٹرین میں بم دھماکہ اور نومبر 2008 میں ممبئی حملہ جیسے واقعات نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو پست ترین سطح پر پہنچادیاتھا۔
بھارت اور پاکستان کے تعلقات نے لگاتار اتار چڑھائو دیکھے ہیں۔ کبھی کبھی خوشگوار دور بھی دیکھنے کو ملا ہے۔1971 کی جنگ کے بعد ،جس کے نتیجہ میں نہ صرف پاکستان کی تقسیم ہو کر ایک آزاد ملک بنگلہ دیش وجود میں آیا تھابلکہ پاکستان کے نوے ہزار سے زیادہ فوجی جنگی قیدی بنا ئے گئے تھے، 1972 میں وزیر اعظم اندرا گاندھی اور پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان شملہ میں ایک معاہدہ ہوا ،جسے شملہ سمجھوتے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس سمجھوتے کے مطابق دونوں ملکوں نے تنازعات کا حل آپس میں بات چیت سے نکالنے اور کسی تیسرے فریق کو نہ شامل کرنے پر اتفاق کیا ۔ بعد کے دور میں اس کے لئے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور پاکستان کے صدر پرویز مشرف کی کوششیں قابل ِ ذکر رہی ہیں۔ اٹل بہاری واجپائی ستر کی دہائی میں بنی جنتا پارٹی کی حکومت میں وزیر خارجہ بنے تھے۔ انہوں نے پا کستان کا سفر کیا ، انہوں نے انسانیت کو سیاست پر ترجیح دی اور 1971 کی جنگ کے بعد سے دونوں ملکوں کے شہریوں کے لئے چلی آرہی سفری پابندیوں کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا جس کے نتیجہ میں لوگ اپنے بھائی بہنوں اور قریبی رشتے داروں سے مل سکے ۔ اٹل بہاری واجپائی نے وزیر اعظم بننے کے بعد بھارت پاکستان کے تعلقات میں بہتری لانے کی کوششیں جاری رکھیں، نواز شریف کے دور میں بس سے پاکستان کا سفر بھی کیا۔ پرویز مشرف نے کارگل کی جنگ اور بعد میں پارلیمنٹ ہوئے حملے سے کشیدگی کی انتہا کو پہنچی توتعلقات کو معمول پر لانے کی کوششوں کے تحت جنگ بندی معاہدہ کیا اور کشمیرکے مسئلے کو حل کرنے کی بہت کوششیں کیں مگر وقفے وقفے سے ہونے والے واقعات ان کوششوں پر پانی پھیرتے رہے۔
کہا جاتا ہے کہ ملکوں کے مابین تعلقات میں کوئی نہ تو مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ مستقل دشمن۔بنیادی اہمیت قومی مفادات کو حاصل ہوتی ہے۔ اور دونوں ممالک کا قومی مفاد آپس میں کشیدگی ختم کرکے تعلقات بحال کرنے میں ہی ہے۔یہ سچ ہے کہ کشیدگی دونوں ملکوں کے سیاست دانوں کو راس آتی ہے ۔ انتخابات میں اس کا استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ میل ملاپ کی بات کرنے والوں کو اپنے ملک کا غدار اور دوسرے ملک کا ایجنٹ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ملک کے مفاد میں یہ حقیر سیاسی مفاد قربان کر دینے چاہئیں۔ بھلا اس بات سے کسے انکار ہو سکتا ہے کہ پائیدار امن مذاکرات یا بات چیت کے ذریعہ ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اور ایک بات یہ بھی یقینی ہے کہ دوست بدلے جا سکتے ہیں لیکن پڑوسی نہیں بدلے جا سکتے۔ قومی مفاد کی خاطرعسکری اور تجارتی تعلقا ت تو دنیا کے قریب اور دور کے سبھی ممالک سے ہو سکتے ہیں لیکن ان ملکوں سے عوامی سطح پر کوئی تعلق نہیں ہوتاکیوں کہ ہم نہ تو ان کی زبان سے واقف ہوتے ہیں نہ کلچرسے کسی طرح کی مماثلت ہو تی ہے۔ لیکن اس معنی میں ہند و پاک کا معاملہ بالکل الگ ہے۔کچھ دہائیوں قبل ہم ایک ہی ملک تھے۔ ہماری زبان ، لباس،کلچر ، رسم و رواج، کھانا پینا سب میں یکسانیت ہے۔ ہماری تاریخ ، ادب سب مشترک ہے۔ پاکستان میں ہندی فلمیں ، فلمی نغمے اور اداکار اور ہندوستان میں پاکستانی ٹی وی ڈرامے یکساں طور پر مقبول ہیں۔ اتنے برسوں میں ہمیں رنجشیں بھلا کر ایک ہو جانا تھا۔ دونوں طرف کے با شعور اور امن پسند عوام خوش حالی اور امن کے طرف دار ہیں لیکن دونوں ملکوں میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو بھارت پاکستان کے تعلقات کو مذہبی منافرت کے چشمے سے دیکھتا ہے اور دشمنی کو نہ صرف برقرار رکھنے بلکہ بڑھانے پر مصر رہتا ہے۔ اس دشمنی میں ہم نے بہت کچھ کھویا ہے۔ جو وسائل دونوں ملک اپنی غریب عوام کی فلاح مثلاً تعلیم، میڈیکل سہولیات،ملک کے انفراسٹریکچر پر لگا سکتے تھے،وہ دفاعی سازو سامان پر لگائے گئے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعظم عمران خان دونوں کو مکمل اکثریت حاصل ہے اور عوام میں مقبولیت بھی۔ امید ہے کہ دونوں حکمراں خطے میں امن قائم کرنے اور عوام کی فلاح و بہبود کے لئے دونوں ملکوں کے تعلقات کو معمول پر لانے میں تاریخی کردار ادا کریں گے۔
موبائل نمبر۔9450191754
ای میل۔[email protected]