سرینگر//بھارت اور پاکستان کی فوجی قیادت کی طرف سے اس خطے میں امن ، خیر سگالی اور باہمی رابطے کیلئے جو بیانات حال میں عوام کے سامنے آئے ہیں ،وہ خوش آئند اور نہایت ہی حوصلہ پرور ہیں۔ان باتوں کااظہار سابق مرکزی وزیر پروفیسرسیف الدین سوز نے ایک بیان میں کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں جہاں ایک طرف بھارت کے فوجی سربراہ ایم ایم نروانے، نے پورے زور سے یہ بات کہی ہے کہ پاکستان کے ساتھ سرحدی معاملات پر موثر گفتگو ہونی چاہئے ، تو وہیں پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان ہمسائیہ ملکوں کو امن اور خیر سگالی کیلئے مستحکم راستہ تلاش کرنا چاہئے۔ انہوںنے مزیدکہاکہ ایشیاء کے ان دو نیوکلیائی طاقتوں کی طرف سے یہ بیانات پورے ایشیا میں خیر سگالی اور پائیدار امن کا راستہ بحال کریںگے۔ادھردوسری طرف جموں و کشمیر ریاست کے لوگ دونوں ملکوں کی طرف سے حالیہ بیانات پر خوشی محسوس کرتے ہوئے اس بات پر پر عزم ہیں کہ ہندوستا ن کو دفعہ 370کو بحال کرنا چاہئے ،جس کو حال ہی میںیکطرفہ طور اور غیر آئینی طریقے سے کالعدم کیا گیا ہے۔اس پس منظر میں کشمیر کے لوگ بجا طور پر امید لگائے ہوئے ہیں کہ سپریم کورٹ اُس منظر کو سامنے رکھے گی اور جموںوکشمیر کے لوگوں کے اُن احساسات کی قدر کرے گی جن کے تحت جموںوکشمیر کے لوگوں نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کیا تھا اور اُسی سلسلے میں آئین ہند میں دفعہ 370 کو شامل کیا گیا تھا۔‘‘