ہندپاک جنگ قبول نہیں

ہندوستان   اور پاکستان کے تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے۔  26/11سانحہ کے بعد ہندستان میں پاکستان کے تئیں کشیدگی اور غم وغصہ کی جو فضا پیدا ہوئی، اس نے دوستی اور محبت کے تمام رنگوں کو فراموش کردیا۔ ایک حقیقت اور بھی ہے کہ پاکستان سے دوستی رکھنے والی نسل اب یا تو نہیں ہے، یا اگر ہے تو وہ اس حد تک بزرگ ہوچکی ہے کہ سرحدوں کی دشمنی سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جو بعد کی نسلیں ہیں، انہوں نے پاکستان سے خود کو دور کرلیا ہے۔ جو نئی نسل ہے، وہ پاکستان کے نام سے بیزار ہے۔ اس کے باوجود ایک بڑا سچ یہ بھی کہ کبھی یہ دونوں ملک ایک تھے۔ نئی نسل کے بچے پاکستان سے کسی بھی طرح کے جذباتی رشتے کو فضول سمجھتے ہیں۔ ان کے لیے پاکستان ایک ایسا ملک جو اپنے فدائین بھیج کر ہندوستان کے امن وسکون کو غارت کرتا رہتا ہے۔ دونوں ملکوں کے سیاسی منظرنامہ نے آزادی کے اکہتر  برسوں میں عوام کو بھی ایک دوسرے سے دور کردیا ہے۔نواز شریف کے دور حکومت میں یہ موہوم اُمید پیدا ہوئی تھی کہ شاید دونوں ملکوں کے تعلقات پھر سے بحال ہوجائیں گے مگر ایسا ہوا نہیں۔ کشمیر اور دہشت گردی کا معاملہ کچھ اس حد تک سیاسی ہے کہ اب اچھے تعلقات کے بارے میں کوئی بھی سوچنا نہیں چاہتا ۔ایک وقت تھا جب ’’ٹائمس آف انڈیا ‘‘اور پاکستان کے’’ جنگ اخبار‘‘ نے مل کر ہند پاک تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے کوشش کی تھی لیکن یہ کوشش کامیاب نہیں رہی ۔ پلوامہ حادثے کے بعد اب پوری طرح دوستی کے مشن کو گرہن لگ چکا ہے ۔اس لئے اب یہ سوچنا فضول لگتا ہے کہ دونوں ممالک کے رشتوں پر  پر پڑی ہوئی گرد مستقبل قریب میںصاف ہو ۔
مشہور ناول نگار جوناتھن سوئفٹ کی شہرہ  ٔآفاق کتاب گولیورس ٹریول کے آخر میں جب گولیور گھوڑوں کے دیس پہنچتا ہے تو گھوڑے اپنی جسمانی ساخت سے انسانی جسم کا موازنہ کرتے ہوئے گولیور کا مذاق اُڑاتے ہیں:— کہاں تم اور کہاں ہم؟ ذرا اپنا جائزہ لو اور ہمیں دیکھو!گھوڑوں کے دیس میں گولیور نے کیا محسوس کیا، اس پر بحث کا وقت نہیں ہے لیکن گھوڑے سے کم ترین یہ بے حد پُراسرار انسان جنگوں کے سائے میں لہو کی کھیتیاں کرتا ہوا آج کہاں پہنچ گیا ہے، یہ کسی سے بھی چھپا ہوا نہیں ہے۔ کاش کہ آج سوئفٹ زندہ ہوتا تو وہ گھوڑے جیسے شریف جانور سے ذلیل انسان کا موازنہ نہیں کرتا ۔ انسانی لہو پی پی کر آدم خور انسان نے آج اپنے لیے جو راستہ اختیار کر لیا ہے، اُسے دیکھتے ہوئے تاریخ کے اوراق بھی شرمندہ ہیں۔ —دو عالمی جنگیں بھی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ پائیں۔ ملک کی آزادی اور تقسیم سے پہلے بھی لہو کا ایک اُبال آیا تھا۔ انگریزوں کے جاتے جاتے فرنگی آتش بازیاں اپنا کام کر گئی تھیں خون، ہندو اور مسلمان بن گیا تھا۔ خون بے دردی سے بہہ رہا تھا۔ گلیوں میں، سڑکوں پر اور چوراہوں پر، آنکھوں میں نفرت پیدا ہو رہی تھی اور انسان ایک دوسرے انسان کے لہو کا پیاسا بن گیا تھا۔آزادی کے اکہتر برس میں کبھی مندر مسجد، کبھی کشمیر کی آزادی کو لے کر دنگے کی کھیتیاں ہوتی رہیں،کبھی فرقہ واریت کے رَتھ، کبھی بھاگلپور کے انسانی لہو سے بھرے کنویں،کبھی ۶ ؍ دسمبر، کبھی سلگتا ہوا گجرات، کبھی ہجومی تشدد وغیرہ جلیاں والا باغ کی یاد دلاتے رہے ۔ آنکھوں میں محبت اور دوستی کا احساس آتے آتے ٹھہر جاتا، خوشبو دور دور تک قافلوں کے ساتھ سفر کرتی ہوئی اُداس ہوجاتی ۔ محبت کے نغمے دو دلوں کو پاس پاس لانے تک رک جاتے اوردو ملکوں کی دوستی کی بس چلتے چلتے اچانک خزاں میں غائب ہو جاتی ۔کرگل کا زخم بھر انہیں کہ ہم نے اندر کی نفرتیں جوڑ کر جنگوں کی میزائلیں ایک دوسرے کی جانب تان دیں، سرحدیں بارود اُگلنے لگیں، نفرتوں کے تار کھنچ گئے لیکن کیا سچ مچ ہندوستان یا پاکستان کے لوگ جنگ چاہتے ہیں؟جنگ کسی کو قبول نہیں۔کچھ سال قبل لاہور یونیورسٹی کے تاریخ پڑھنے والے بچے جب ہندستان آئے تو اُن کے چہرے جوش اور ولولوں سے دمک رہے تھے۔ ایسے کچھ بچوں سے ملنے کا اتفاق ہوا تو وہ دوستی اور محبت کے رنگوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔
’’ہندستان کیسا لگا؟“ میں نے ایک بچی سے پوچھا۔
جواب تھا۔ ’’تاج محل کی طرح حسین“۔
’’اور جو، یہ دونوں ملکوں کے درمیان نفرتیں پل رہی ہیں؟‘‘
بچی کا لہجہ فکر میں ڈوبا تھا:’’ہم آپس میں ملنا چاہتے ہیں۔ فاصلے کم کرنا چاہتے ہیں۔ کیا یہ ممکن نہیں ہے؟‘‘
’’ممکن کیوں نہیں ہے۔ اب یہ دباؤ ہمیں بڑھانا ہوگا۔ تم لوگوں کو بھی، تم جو تاریخ کے طالب علم ہو اور میں جو کہانیاں لکھتا ہوں۔‘‘
’’کیا یہ ممکن ہے؟‘‘
اس معصوم سی پاکستانی لڑکی کا چہرہ اب بھی میری آنکھوں میں بسا ہوا ہے۔
’’پیس مشن ‘‘پر پاکستان سے آئے ہوئے ادیبوں، دوستوں، دانشوروں سے اس زمانے میں ملاقاتیں ہوتی رہتی تھیں ۔ میں نے ان سب کی آنکھوں میں بس ایک ہی پیغام پڑھا : محبت کا پیغام!
نواز شریف جب دوسری بار جیت کر آئے تھے تو اس کامیابی میں ایک بڑا ہاتھ اس وعدے کا بھی تھا کہ پاکستانی عوام سے یہ کہا گیا تھا کہ ہم ہندستان سے اپنے رشتے کو مضبوط کریں گے اور ہندستان سے محبت اور دوستی کی خواہش مند عوام نے اپنے محبوب لیڈر کو کامیابی سے نواز دیا تھا۔ نواز شریف دو بارہ واپس آئے تو تعلقات کے بحال ہونے کی اُمید جاگی ،پھر یہ اُمید آہستہ آہستہ ٹوٹ گئی ۔ سرحدوں پر نفرت کی سلگتی لکیروں کو دیکھ کر یہ خیال کمزور ثابت ہوتا ہے کہ کبھی دونوں ملکوں کے تعلقات خوشگوار بھی ہوسکتے ہیں؟کیا ہندستان اب دوستی کا خواہش مند ہے ؟کیا پاکستانی عوام کے دل بدل گئے ہیں؟
ایک پرانی بات یاد آگئی۔ عرصہ ہوا پاکستان سے مشہور منصور الحسین ہندستان تشریف لائے۔ رفیع مارگ، آرٹ گیلری میںان کی بنائی گئی تصویروں کی نمائش ہوئی۔ اس موقع پر دلی کی وقت کی وزیر اعلیٰ شیلا دکشت نے بھی شرکت فرمائی۔ حسین پاکستان لوٹنے سے قبل تصویر کا ایک تحفہ مجھے بھی دے گئے۔ یہ تصویر بہت دنوں تک میرے ڈرائنگ روم کا ایک حصہ رہی اور اس خو ب صورت پینٹنگ میں جو ناتھن سوئفٹ کے دو گھوڑے ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہیں۔’’یہ گھوڑے کون ہیں؟‘: میں نے حسین سے جاننا چاہا۔’’خوشحالی اور امن کی علامت ‘‘حسین کے لہجے میں درد تھا۔’’یہ گھوڑے کہا ںکے ہیں؟‘‘حسین کی بڑی بڑی آنکھیں میری آنکھوں میں پیوست ہوگئیں :’’ان میں ایک ہندستان ہے۔ اور دوسرا پاکستان اور تعجب یہ ہے کہ دونوں گلے مل رہے ہیں۔‘‘حسین نے میرے اندر کا درد محسوس کر لیا تھا۔میں نے پھر کہا تھا:’’ کتنی عجیب بات ہے حسین بھائی۔ ذرا سوچئے۔ بٹوارہ صرف ملک کا نہیں کا ہوا۔ محبت اور مغل اعظم کا بھی ہوا، اکبر، آگرہ میں رہ گیا، انار کلی کو آپ لاہور لے گئے۔ غالب ؔہم نے رکھ لیا۔ اقبالؔ آپ کا ہوگیا‘‘لیکن اب یہ گھوڑے گلے مل رہے ہیں۔‘‘میں نے دیکھا حسین کی آنکھوں میں آنسو جھلمل، جھلمل کررہے تھے۔حسین واپس پاکستان چلے گئے۔وہ پینٹنگ اب بھی میرے پاس ہے۔وہ دونوں گھوڑے اب بھی ایک دوسرے سے گلے مل رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہم لکھنے والوں کا مذہب، ملک اور سرحدوں سے الگ ہوتا ہے، پاکستان سے ہمارا ایک تعلق یہ بھی ہے کہ ہماری کتابیں، ہماری کہانیاں وہاں شائع ہوتی ہیں اور وہاں کے پڑھنے والے ہمیں عزیز رکھتے ہیں۔جنگ کے سائے میں ہمارے جذبے بھی کھو جاتے ہیں۔ ہمیں ان جذبوں کی گمشدگی گوارہ نہیں۔ہم محبت میں خونی سرحدوں کے قائل نہیں ہیںاور وہ وقت آگیا ہے۔ جب ہم چیخ چیخ کر دونوں ملکوں کے رہنماؤں کو بتانا چاہتے ہیں کہ— ہم جنگ نہیں چاہتے۔معاملہ کتنا بھی آگے کیوں نہ بڑھ جائے، مسئلہ کے حل کی کتنی کنجی ہمیشہ رہتی ہے۔ آگے بڑھ کر صرف اس کنجی کو تلاش کرنا ہوتا ہے۔آئیے سب مل کر اس کنجی کو تلاش کریںاور سر حد پر محبت کی خوشبو بکھیر دیں ۔