ہندوستانی مسلمان

گاندھی جی کے سینے میں سب کے سامنے(30جنوری1948ء) کو ناتھورام گوڈسے گولی اُتار دی تھی۔روایت ہے کہ گاندھی جی کے لب پر جوآخری کلمہ تھا وہ۔۔۔ہے رام۔۔۔ تھا، جس سے یہ بالکل واضح ہوا کہ گاندھی جی ہندو عقائد کے پیرو تھے اور وہ ہندو کہ جس نے اپنی زندگی کے سنہرے روز و شب ملک و قوم کے لئے وقف کر دئے تھے، ا ور ایک انتہا پسند ہندو (گوڈسے) کے ہاتھ ہی جان سے مار دِیا گیا۔اس کی وجہ محض یہ تھی کہ اس نے مرکزی حکومت سے پاکستان کے حصے کی رقم دینے پر شدت کا مظاہرہ کیا تھا۔ حادثے کے بعد مقدمے کے دوران اور کئی عینی شاہدوں اور متعلقہ موضوع پر مطبوعہ کتابوں کی روشنی میں گاندھی جی کے قتل کے پس پردہ حسب ذیل مقاصد کار فرما تھے:’’گوڈسے کا خیال تھا کہ گاندھی کی انشن( بھوک ہڑتال) کے اعلان نے مرکزی کابینہ کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ550 ملین روپے نقد 13 ؍جنوری 1948ء کو پاکستان کے حوالے کردے۔ اعلان کے  مطابق یہ بھوک ہڑتال جنوری کے دوسرے ہفتے میں ہونے والی تھی۔ نو آزاد بھارت کی حکومت 200 ملین روپے کی پہلی قسط پاکستان کے حوالے کر بھی چکی تھی، تاہم آزادی کے فوراً بعد جب قبائلی کشمیر پر حملہ کیا گیا، جس کے متعلق دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان مسلح جتھوں کو پاکستان کی پشت پناہی حاصل ہے، تب دوسری قسط کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔گوڈسے، آپٹے اور ان کے ہم نوا یہ محسوس کرنے لگے کہ ان اقدام کے ذریعے بھارت کے ہندوؤں کی قیمت پر پاکستانی مسلمانوں کی خوشنودی حاصل کی جا رہی ہے۔ ایک روایت کے مطابق گاندھی اور جواہر لال نہرو کے اس فیصلے سے ولبھ بھائی پٹیل کو استعفٰی بھی دینا پڑا تھا۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی تھی کہ گاندھی کا ہندو مسلم امن کے واسطے اُپواس(برت) پاکستان کو پیسے دینے کے کابینی فیصلے کے بعد بھی تین دن تک جاری رہا۔ گاندھی جی کے قتل کا کتناعجب اور افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ جن کا ایک بنیادی مشن عدم تشدد تھا، وہی قومی قائد جان لیوا تشدد کاشکار ہوگیا۔ شدت اور تشدد ایک ہی خاندان کے لفظ ہیں۔ ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ ہندتوا جیسے مشن کی پہلی کامیابی گاندھی جی کا قتل ہی تھا، وہ نہرو کی دانش مندی کہیے یا کوئی اور نام دیجئے کہ انہوں نے ریڈیو پر قاتل کی مذہبی شناخت ظاہر کر دی تھی، ورنہ چند ماہ قبل ملک کی تقسیم کے نتیجے میں انسانی جانوں کا جو زیاں ہوا تھا ، ممکن تھا کہ وہ خونین عمل پھر شروع ہو جاتا اور ظاہر ہے کہ اس فساد کے شکار ہندوستانی مسلمان ہی بنتے۔خیر اُس وقت تو ایسا نہیں ہوا مگر آزاد ہندوستان میں پہلے فرقہ وارانہ اور منصوبہ بند فساد کا نشانہ مدھیہ پردیش کا شہر جبل پور تھا۔یہ 1961  کازمانہ تھا اورتاحال ملک بھر میں چھوٹے بڑے ہزاروں فسادات ہوئے اور اس کا اصل نشانہ مسلمان ہی بنے اور آج بھی بنتے جارہے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں مسلمان ہی سب سے بڑی اقلیت ہیں اور آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمان کس کس سطح پر اور کس کس محاذ پر نشانہ بنتے رہے ہیں ،یہ ہر پڑھا لکھا آدمی جانتا ہے۔اس کی ایک مصدقہ دستا ویز’’جسٹس سچر کمیٹی رپورٹ‘‘ ہے۔ جبل پور سے جس مسلم کش فساد کا آغاز ہوا تھا ،اس میں ایک تاریخ 6؍دسمبر1992 کی بھی ہے جو خاک و خون سے عبارت ہے ۔اس روز بابری مسجد کی شہادت نے پورے ملک کے مسلمانوں کو جھنجھوڑ ہی کر نہیں رکھ دیا تھا بلکہ انسانیت کو خاک و خون میں آلودہ کر نے والے اس سانحہ نے واضح کر دیا کہ اس ملک میں مسلمان حشرات الارض کی طرح ہیں کہ کسی بھی وقت ان کو مسلا جاسکتا ہے۔6دسمبر1992 سے 1993 تک ہندوستانی مسلمانوں پر جو کچھ گزری، اُسے کیسے بھلا یا جاسکے؟ اور جو وحشیانہ تشدد کے نشانہ بنے تھے اور وہ لوگ جو بظاہر نشانہ نہیں بنے مگر تھے وہ بھی نشانے پر ہیں، ان کا دردوغم کیسے فراموش کیا جاسکتاہے ؟۔ پورا ملک اس خاک و خون کی آندھی کی زد میں تھا اور بالخصوص ممبئی میں جو کچھ ہوا وہ ہم لوگ زندگی بھر نہیں بھولیں گے۔ اسی آگ و خون کے دور کا ایک واقعہ تغیرزمانہ کے باوجود ذہن وقلب میں چپکا ہوا ہے۔
 ہرانسان بھولکر نہیں ہوتا اور ذی حس انسان کے ذہن میں بعض یادیں ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں بھولے سے بھی نہیں بھولتا۔ اس فساد میں مہاراشٹر بھرمیں اور خاص طور پر ممبئی میں شیو سینا کا جو کردار رہا ہے، وہ   تاریخِ ہند کی بد ترین حقیقت ہے۔یہاں وہ رُوداد بیان کرنا مقصود ہے اور نہ ہی ممکن ہے جو ہمارے دور کے سنجیدہ لوگوں کے دل و دماغ میں سب کچھ ریکارڈ ہے۔ یہ خون آشام واقعہ جب اپنی انتہا سے گزر گیا اور قاتلوں میں مسلسل مار نے کے بعد تھکن پیدا ہوئی ہوتب بڑے بڑے اخبارات میں سینکوں کے چیف کی اپیل چھپی تھی۔۔۔ اب بس کرو۔۔۔اس جملے سے مقتول کے لئے کوئی رحم یا انسانیت کی یاد نہیں جھلکتی ، مگر اس جملے کی ادائیگی سے قبل جوکچھ نہتوںکے ساتھ کیا گیا ،اس کا تصورآج بھی ذہن و قلب کو ماؤف کر دیتا ہے۔ برادرانِ وطن میں سے ایک دوست کا یہ جملہ بھی نہیں بھولا جاسکتا : سینکوں کے حملوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی اپنی اوقات بتا دی ہے۔‘‘مولانا ابو الکلام آزاد کا ایک تاریخی جملہ ناقابل فراموش ہے : سکھ چونکہ لڑنے بھڑنے والی قوم ہے ،یہ تو اس ملک میں کسی طورزندگی جی لے گی مگر مسلمانوں کا اللہ ہی حافظ ہے۔‘‘مولانا کا یہ قول صداقت سے کتنا نسبت سے رکھتا ہے، اس سے قطع نظر یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔ اندرا گاندھی کا قتل ہونےکے بعد ملک میں اور بالخصوص دہلی میں ِسکھوں پر جو کچھ گزری وہ بھی ایک بدترین واقعہ تھا مگر مسلمانوں کے مقابل اس ملک میں سکھوں کی حالت کلمہ خوانوں سے کہیں بہتر ہے ۔اس بات کی شہادت ’’جسٹس سچر کمیٹی رپورٹ‘‘ دیتی ہے ۔ؤج تک کوئی حکومت ان حقائق کو جھٹلا نہیں سکی۔ سکھ اقلیت کے ہاں بھی بے شمار کانگریسی ہیں مگر اس کے باوجود واُ ن کی اپنی سیاسی قوت بہر طور زندہ اور توانا ہے ۔ ان کے مقابلے میں ہندوستانی مسلمانوں کو دیکھا جائے تو وہ پچھڑے ہوئے بھی نظرآتے ہیں اورعدم تحفظ کے شکار بھی۔ آزادی سے لے کر ممنوہن حکومت تک مسلمان ہر جگہ سماجی اور سیاسی میدانوں میں اپنی موجود گی کو کم وبیش احساس دلاتے رہے اور مولانا ابوالکلام آزاد سے لے کر جانے مانے مسلم قائدین بھی متحرک و فعال دیکھئے گئے مگر اُن کا ہرکوئی فائدہ اُن کی ذات تک محدود رہا۔ہندوستانی مسلم قائدین کی صف میں زیادہ تر ایسے لوگ ر ہے کہ جن کو مسلمان ہونے پر اصرار تھا یا نہیں مگر اپنے آپ کو پیدائشی کانگریسی کہلانے میں وہ فخر محسوس کرتے ر ہے۔ ہمیں اس شہر کے ایک مولانا یاد آتے ہیں جن کے بارے میں روایت ہے کہ ان کے مراسم مہاراشٹر کے ایک بڑے لیڈر اور وزیر اعلیٰ سے ایسے قریبی تھے کہ اکثر اس کے گھر مسلمانوں کے کھانے کی دیگ پہنچایا کرتے تھے۔ ان مولانا کے نام کے ساتھ اگر کسی کارنیک کی یادمسلمانوں کے ذہن میں باقی ہے تو  بس یہ کہ انہوں نے بعض فساد زدہ علاقوں سے مسلمانوں کو نکال باہر کر نے میں اپنا تھوڑا بہت کردار ادا کیا تھا مگر انہی کے قرطاس ِکردار پر ایک دو نہیں بلکہ کئی مسلمانوں کے ساتھ بد عنوانیوںاور جرائم کے الزامات بھی درج ہیں۔کہتے ہیں کہ اللہ سب گناہ توبہ کی شرط کے ساتھ معاف کردیتا ہے مگر کسی بندے نے بند گان ِ خدا کا حق مارا ہو تو اللہ کے نزدیک اپنی تمام تر نیکیوں کے باوجود وہ شخص حق اور حق دار کا مجرم بنا رہے گا۔ اس ضمن میںاللہ کےسزا و جزا کا اصول سب کو معلوم ہے۔قدرت کا نظام عجب ہے کہ وہ کبھی کبھی کسی کے منہ سے ایساکچھ کہلوا دیتا ہے کہ جس سے سورج کی طرح حقیقت روشن ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پرمہاراشٹر کے مسلم سیاسی منظر نامے میں رفیق زکریا کا نام 
نہایت نمایاں ہے، وہ مہاراشٹر میں کئی بار وزیر بھی رہے اور پارلیمان ک رُکن بھی، ان کی پوری زندگی ایک مسلم لیڈر کے طور پرمشخص ہے۔ مسلمانوں کے تئیں ان کے’’ کارناموں‘‘ کا کوئی پر چہ بھی ہے کہ لوگوں کے ذہن میں نقش ہو؟ ہمارے ذہن میں اُن سے متعلق کچھ باتیں ایسی ہیں جن سے واقعی ہماری ’’اوقات‘‘ واضح ہوجاتی ہیں۔
 مثلاً جب 1992 میں1993 ممبئی کا مسلمان مارا جارہا تھا تو اُنہوں نے سینکوں کو جزیہ دینے کی بات کی تھی۔ ان کا یہ فرمانا کہ : میں نے اپنی عمر کا بڑا حصہ ریاستی اور ملکی سیاست میں گزارا ہے۔ لہٰذا عمر کے آخری حصے میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہمارا برادرانِ وطن میں بالخصوص کانگریسیوں میںکوئی دوست کوئی ہمدرد نہیں۔۔۔اس اہم بات میں ہماری’’ اوقات‘‘ کی کہانی چھپی ہوئی ہے۔رفیق زکریا کی اس اعتراف یا ’’انکشاف‘‘ سے ایک سوال پیدا ہوتاہے کہ اس ملک میں ہم پیدا ہوئے اورصدیوں سے رہ رہے ہیں اور رہیں گے بھی مگر ایسا کیوں ہے کہ ہم نے برادرانِ وطن میں اپنا کوئی دوست، کوئی ہمدرد نہیں بنایا؟ یہ معاملہ بھی غور طلب ہے کہ دشمن تو ہم نے اپنوں میں بھی خوب بنائے۔ کیا ہمیں اس سوال پر کچھ سوچنے کی ضرورت ہے یا صرف ’’وہن ‘‘( زندگی سے زیادہ محبت موت سے زیادہ کراہت )ہی میں تازیست مبتلا رہیں گے؟
