عظمیٰ نیوز سروس
ممبئی//سال 2026 ہندوستانی شیئر بازار کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کے محاذ پر ایک چیلنجنگ سال ثابت ہو رہا ہے۔ غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (FPI) نے مئی کے مہینے میں بھی فروخت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ہندوستانی ایکویٹی بازار سے بڑے پیمانے پر سرمایہ نکال لیا۔نیشنل سیکورٹیز ڈپازٹری لمیٹڈ (NSDL) کے اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 32 ہزار 963 کروڑ روپے مالیت کے حصص فروخت کیے۔ اس کے ساتھ ہی رواں سال کے پہلے پانچ مہینوں کے دوران ہندوستانی بازار سے مجموعی طور پر تقریبا 2.25 لاکھ کروڑ روپے کا غیر ملکی سرمایہ نکل چکا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق یہ رجحان گزشتہ سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔
سال 2025 کے پورے بارہ مہینوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مجموعی طور پر 1.66 لاکھ کروڑ روپے نکالے تھے، جبکہ 2026 میں صرف پانچ ماہ کے دوران ہی یہ رقم 2.25 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہے۔مارکیٹ ماہرین کے مطابق کمزور کارپوریٹ منافع، روپے کی مسلسل گرتی ہوئی قدر اور عالمی منڈیوں میں بہتر منافع کے مواقع غیر ملکی سرمایہ کاروں کے انخلا کی بڑی وجوہات ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کے تیز رفتار اخراج کو معیشت کی مجموعی صحت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے ایک منفی اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔رواں سال کے دوران فروری واحد مہینہ رہا جب غیر ملکی سرمایہ کار خالص خریدار کے طور پر سامنے آئے۔ اس ماہ انہوں نے 22 ہزار 615 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی، جو گزشتہ 17 مہینوں میں کسی ایک ماہ کی سب سے بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری تھی۔ تاہم اس کے بعد صورتحال دوبارہ تبدیل ہو گئی۔جنوری میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے 35 ہزار 962 کروڑ روپے نکالے تھے، جبکہ مارچ میں ریکارڈ 1.17 لاکھ کروڑ روپے کا سرمایہ بازار سے واپس لے لیا گیا۔ اپریل میں بھی 60 ہزار 847 کروڑ روپے کا خالص انخلا ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مئی میں مزید تقریبا 33 ہزار کروڑ روپے نکال لیے گئے۔