عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//جموں و کشمیر میں کانگریس کے کارکنان نے پیر کو انڈو،امریکی تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی۔سرینگر میں کانگریس کے درجنوں کارکنان اور لیڈراں کانگریس ہیڈ کواٹرکے دفتر ایم اے روڈ پر جمع ہوئے اور مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین کی قیادت بانڈی پورہ کے رکن اسمبلی نظام الدین بٹ کر رہے تھے۔
احتجاجی کارکنوں نے پارٹی دفتر سے ایم اے روڈ کی طرف مارچ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا تاہم پولیس کی بھاری نفری نے مظاہرین کو باہر نکلنے سے روک دیا اور دفتر کا دروازہ بند کر دیا، جس کے باعث مظاہرین کو وہیں احتجاج کرنا پڑا۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے نظام الدین بٹ نے کہا کہ حکومت نے اس تجارتی معاہدے کے ذریعے ملک کی خودمختاری اور عالمی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے دور رس اقتصادی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اقتصادی صورتحال پہلے ہی کمزور ہے اور اس معاہدے سے عام شہری کے ساتھ ساتھ ملک کی اقتصادی بنیاد بھی متاثر ہوگی۔ ان کے مطابق حکومت نہ آئین کا خیال رکھ رہی ہے، نہ ملک کی خودمختاری کا اور نہ ہی جموں و کشمیر کی شناخت اور عوامی مسائل کا ہے۔اس موقعہ پرایک زبانی قرارداد منظور کی گئی جس میں مرکزی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ ہندوستان کی سلامتی اور اقتصادی مفادات کو بچانے کے لیے ’ذلت آمیز‘ معاہدے کو منسوخ کرے۔پارٹی بیان کے مطابق بارہمولہ، کپواڑہ، شوپیاں، اننت ناگ، کولگام، پلوامہ، گاندربل اضلاع میں ضلع صدور سمیت پارٹی کے کئی لیڈروں کو حراست میں لے لیا گیا اور احتجاج کی قیادت کرنے سے روک دیا گیا۔