امتیاز خان
سوشل میڈیا کا استعمال ہماری زندگی کا لازمی جز بن چکا ہے۔ زندگی کا کوئی بھی مرحلہ ہو، اسے سوشل میڈیا پر رسمی و غیر رسمی دوستوں اور بعض اوقات اجنبی افراد کے ساتھ بھی شیئر کرنا ایک معمول کی بات بن چکی ہے۔آج کا انسان بظاہر تاریخ کے سب سے مربوط (Connected)دور میں جی رہا ہے۔ ہماری انگلیاں ایک سکرین پر حرکت کرتی ہیں اور ہم دنیا کے دوسرے کونے میں بیٹھے شخص سے سیکنڈوں میں رابطہ کر لیتے ہیں۔ انسان کے پاس فیس بک اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر ہزاروں’فرینڈز‘اور’فالوور‘ ہیں، مگر المیہ یہ ہے کہ جب دل اداس ہو، تو دل کی بات سننے والا شاید ایک بھی نہیں ملتا۔سوشل میڈیا نے ہمیں دنیا سے جوڑا ضرور ہے، مگر اس جوڑ توڑ کے عمل میں ہمیں اپنے آپ سے اور اپنے پیاروں سے بہت دور کر دیا ہے۔
انسانی زندگی خیالات کا مجموعہ ہے جس کے ابلاغ کا سفر قلم، کاغذ اور ریڈیو سے ہوتا ہوا آج انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا تک پہنچ چکا ہے۔ جہاں سوشل میڈیا نے تعلیم، سائنس اور معیشت میں انقلابی آسانیاں پیدا کیں، وہاں اس کے بے دریغ استعمال نے معاشرتی بے راہ روی، دین سے دوری اور ذہنی پریشانی جیسے سنگین مسائل کو جنم دیا ہے۔آج کے جدید دور میں انٹرنیٹ نے دنیا کو ایک گلوبل ولیج بنادیا ہے، جس سے نہ صرف معلومات تک رسائی تیز ترین ہو چکی ہے بلکہ ہر فرد کیلئے اپنے نظریات دوسروں تک پہنچانا انتہائی آسان ہو گیا ہے۔اس دوران سوشل میڈیا نے روایتی حدود کو توڑ کر عام انسان کو طاقتور ترین آواز بنا دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر فوری مکالمے اور رابطے کی ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔وہ دور اب ایک خواب معلوم ہوتا ہے جب شام ڈھلتے ہی محلے ، گھروں کے صحن اور بیٹھکیں آباد ہوا کرتی تھیں۔ لوگ ساتھ بیٹھ کر سکھ دکھ کی باتیں کرتے تھے، ایک دوسرے کے چہرے کے تاثرات سے اس کے اندر کا حال جان لیتے تھے۔ آج کی تصویر بالکل مختلف اور بھیانک ہے۔ اب لوگ ساتھ بیٹھتے تو ہیں، مگر ساتھ ہو کر بھی ساتھ نہیں ہوتے۔ ایک ہی جگہ بیٹھے چار افراد ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے اپنی اپنی سکرینوں کی دنیا میں گم ہوتے ہیں۔ وہ جسمانی طور پر ایک دوسرے کے قریب ہیں، مگر ذہنی اور جذباتی طور پر ان کے درمیان ہزاروں میل کے فاصلے حائل ہو تے ہیں۔
سوشل میڈیا کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ اس نے زندگی کی حقیقت کو ’نمائش‘میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہاں ہر کوئی اپنی خوشیوں کی دکان سجائے بیٹھا ہے۔ کوئی اپنی نئی گاڑی کی تصویر شیئر کر رہا ہے، کوئی ہوٹل کے کھانے کی کہانی (Story)لگا رہا ہے اور کوئی اپنی پرمسرت ازدواجی زندگی کا ڈھونگ رچا رہا ہے۔ اپنی کامیابیوں اور ظاہری خوبصورتی کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے ان کی زندگی میں کوئی دکھ، کوئی پریشانی ہے ہی نہیں۔جب ایک عام انسان، جو زندگی کی تلخ حقیقتوں اور روزمرہ کے مسائل سے نبرد آزما ہے، ان چمکتی دمکتی سکرینوں کو دیکھتا ہے، تو وہ لاشعوری طور پر اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں کی ان مصنوعی زندگیوں سے کرنے لگتا ہے۔ نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ خود ترسی، احساسِ کمتری اور اپنے ادھورے پن کا وہ شدید احساس جو انسان کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتا ہے۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ جو کچھ سکرین پر نظر آ رہا ہے، وہ زندگی کا صرف ایک ’ایڈیٹڈ(Edited)‘حصہ ہے، پوری سچائی نہیں ہے۔یہ وہ خاموش درد ہے جو ہماری نوجوان نسل کو سب سے زیادہ متاثر کر رہا ہے۔ ایک نوجوان رات بھر آن لائن رہتا ہے،ویڈیوز اور دیگر چیزیںشیئر کرتا ہے، اجنبیوں کے کمنٹس کا جواب دیتا ہے، مگر بستر سے اٹھتے ہی اسے شدید خالی پن کا احساس ہوتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اس ڈیجیٹل بھیڑ میں اس کے جذبات کو سچے دل سے سمجھنے والا کوئی ایک بھی نہیں۔
المیہ یہ ہے کہ ہم نے خلوص، محبت اور صلہ رحمی جیسے عظیم جذبوں کو ’اسٹیٹس‘اور’اسٹوری‘تک محدود کر دیا ہے۔ کسی کے ہاں بچہ پیدا ہو، کسی کی شادی ہو یا خدانخواستہ کسی کے گھر کوئی پریشانی ہو، اب کسی کے دروازے پر جا کر، اس کا ہاتھ تھام کر خیریت پوچھنے یا تعزیت کرنے کے بجائے صرف ایک مناسب ’ایموجی(Emoji)‘یا بنا بنایا ٹیکسٹ میسج بھیج دینا کافی سمجھا جاتا ہے۔ہم نے یہ فرض کر لیا ہے کہ فیس بک کی وال پر ’مبارکباد‘یا’افسوس‘لکھ دینے سے ہمارا حق ادا ہو گیا۔ ہم نے تعلقات کو سستا اور آسان بنا دیا ہے۔ جس تعلق میں وقت کی قربانی، سفر کی تھکن اور آمنے سامنے بیٹھنے کا خلوص شامل نہ ہو، وہ تعلق موم کی گڑیا کی طرح ہوتا ہے جو وقت کی ذرا سی تپش سے پگھل جاتا ہے۔ سوشل میڈیا نے آوازیں تو بہت بڑھا دی ہیں، دنیا کا شور تو آسمان تک پہنچا دیا ہے مگر دلوں کے فاصلے اتنے بڑھا دئے ہیں کہ اب ایک گھر میں رہنے والے بھی ایک دوسرے کیلئے اجنبی بن چکے ہیں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اس دلدل میں دھنستے چلے جائیں گے؟ کیا اس جدید عذاب کا کوئی علاج نہیں؟ علاج بالکل موجود ہے، بشرطیہ کہ ہم اس سکرین کی غلامی سے نجات پانے کا پختہ ارادہ کر لیں۔ہفتے میں ایک دن یا دن کے چند گھنٹے انٹرنیٹ سے مکمل دوری اختیار کریں۔ دسترخوان پر موبائل فون لانے سے گریز کریں۔کتابیں پڑھیں، باغبانی کریں یا کسی کھیل کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ہمیں اپنے بچوں اور نوجوانوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ زندگی ’لائیکس‘اور’ویوز(Views)‘کی محتاج نہیں ہے۔ حقیقی خوشی کسی خوبصورت منظر کو کیمرے میں قید کر کے سٹیٹس پر لگانے میں نہیں بلکہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور روح میں اتارنے میں ہے۔
آج کا انسان ہجوم میں رہ کر بھی تاریخ کا تنہا ترین انسان ہے اور شاید یہی اس جدید، ترقی یافتہ اور سائنسی دور کا سب سے بڑا دکھ ہے کہ ہم نے کائنات کو تو مسخر کر لیا، چاند ستاروں پر کمندیں ڈال دیں مگر اپنے برابر میں بیٹھے انسان کے دل تک پہنچنے کا راستہ کھو دیا۔کوئی بھی آلہ بذات خود اچھا یا برا نہیں ہوتا، اس کا استعمال اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ یہی بات سوشل میڈیا پر صادق آتی ہے۔ اس کا استعمال کرتے وقت محتاط رہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ ہمارا وقت برباد کر رہا ہے۔ اس نے خاص طور پر نئی نسل کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیا ہے۔ ان کی ذہن سازی کی ضرورت ہے۔
انسانی ابلاغ کا سفر قلم و کاغذ سے شروع ہو کر سوشل میڈیا تک پہنچ چکا ہے، جس نے دنیا کو جوڑ تو دیا مگر انسان کو خود سے اور پیاروں سے دور کر دیا۔ بظاہر مربوط نظر آنے والا آج کا انسان تاریخ کے سب سے شدید خالی پن اور تنہائی کا شکار ہے کیونکہ اس نے حقیقی جذبوں اور خلوص کو سکرین کی’نمائش‘،’لائیکس‘اور ’ایموجیز‘کی نذر کر دیا ہے۔ دوسروں کی مصنوعی زندگیوں سے موازنہ نوجوان نسل کو احساسِ کمتری اور ذہنی پریشانی میں مبتلا کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا ایک بہترین خادم ہے لیکن ایک ظالم آقا؛ لہذا اس ڈیجیٹل غلامی اور وقت کی بربادی سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم فون بند کر کے حقیقی رشتوں، کتابوں اور زندگی کی اصل سچائیوں کی طرف لوٹیں، اس سے پہلے کہ ہماری اگلی نسلیں جذبات سے عاری روبوٹ بن جائیں۔