اشرف چراغ
کپوارہ// بیرو ن ریاست ہماچل پردیش میں کشمیری شال پھیری کرنے والے افراد نے اس بات کو لیکر بلاس پور میں احتجاج کیا کہ آئے روز انہیں گنڈے موالی ہراساں کر رہے ہیں ۔یہ احتجاج انہو ں نے اس وقت کیا جب دو روز قبل ایک کشمیری شال پھیری کرنے والے نوجوان جہانگیر احمد کو غنڈوں نے مار پیٹ کے علاوہ ان کا مال بھی چھین لیا ۔پیر کے روز ہماچل کے مختلف شہریو ں میں رہائش پذیر کشمیر ی شال پھیری کرنے والے لوگ کام پر نہیں گئے اور بلاس پور میں جمع ہو کر روز روز کے ہرا ساں کرنے پر خاموش احتجاج کیا ۔احتجاج میں شامل ان شال فرشو ں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ ایک دہائی سے ہماچل میں شال پھیری کرتے ہیں اور جب وہ ہر سال اکتوبر ،نومبر مہینوں میں ہماچل آتے ہیں تو پہلے انہیںوہ مالک مکان جس میں وہ عارضی رہائش اختیار کرتے ہیں اپنے تمام دستاویزات دیتے ہیں اور بعد میں یہا ں کے مقامی پولیس تھانو ں میں رپورٹ کر کے با ضابطہ طور اجات نامہ حاصل کرتے ہیں لیکن ا سکے باجو د بھی انہیں بلا وجہ تنگ طلب کیا جاتا ہے بلکہ اب آئے رو ز غنڈ ے موالی انہیں ہرا ساں کر رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ 3مہینو ں سے ان کا کا روبار خطرے میں پڑ گیا ہے اور مشکل سے یہا ں مزدوری کرتے ہیں ۔انہو ں نے الزام لگایا جس نوجوان کو دو روز قبل مارا پیٹا اور بعد میں انہیں اسپتال میں دا خل کیا لیکن اس کے باجود بھی اتوار کے روز ایک بزرگ شال پھیری کرنے والے کو بھی ذد کوب کیا گیا اور ان سے شال چھینے کی بھی کوشش کی گئی ۔ان کشمیری شال پھیری کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ ہماچل پردیش میں بے یارو مدد گار ہیں اور ہم وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ اورایل جی منوج سنہا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملہ میں مدا خلت کر کے ایسے واقعات پر روک لگانے کے لئے ہماچل سر کار سے بات کرے تاکہ ان کا کا رو بار میں کسی قسم کے مشکلات در پیش نہ ہو ں کیونکہ ان کا گھر چلانے کا دارو مدار شال پھیری پر ہی ہے ۔