بلا شبہ ہماری نوجوان نسل ہمارے معاشرے کا بیش قیمت سرمایہ ہے، جس کی فکری و عملی حالت پر ہمارے معاشرےکی تعمیر و ترقی کا انحصار ہے۔ اگر یہ نسل راہ راست پر ہو تو ہمارے معاشرے کا مستقبل روشن اور تابناک ہوگا، بصورت ِ دیگر ہمارا معاشرہ زوال اور بگاڑ کا شکار ہوجائے گا۔موجودہ دورِ جدید میں بھی ہمارے معاشرے کےبیشتر نوجوانوں کے پاس دنیا کی تمام آسائشیں اور سہولیات تومیسر ہیں، لیکن اُن کے ظاہری زندگی کے خدو خال اور طرزِ عمل کو دیکھ کر واضح ہورہا ہے کہ جہاں اُن کے اندر اسلامی تعلیمات موجود نہیں ،وہیں اُن میں اسلامی احکام کا شعور اور عمل مفقود ہے،نیز اُن کا لباس بھی مغربی طرز کاہوتا ہے،جبکہ سَر اور داڑھی کے بالوں کے حوالے سے بھی اسلامی ہدایات کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔
یہ نوجوان اپنے جسمانی وضع قطع میں مغرب زدہ ہوکر تعلیماتِ اسلامی سے دور ہو چکے ہیں۔ان میںایسی غیر اسلامی عادات پروان چڑھ رہی ہیں،جن میں ہاتھوں میںکنگن ،کانوں میں بالیاں اور گلے میںلاکٹ و زیورات پہننا شامل ہے۔ اکثر نوجوانوں کے پاس موبائل فون اور ایئر فون ہوتا ہے ، مگر نماز اور اذان کی آواز سن کر بھی اس کا جواب دینے یا نماز ادا کرنے کا وقت اُ نہیں نہیں ملتا،گویا ان کی مصروفیات میں دین اور روحانیت کی کوئی جگہ نہیں اور یہی بے حسی اُنہیں دین سے مزید دور کر رہی ہےاور یہ نوجوان نسل سمجھ ہی نہیں پارہی ہے کہ اُس کا جسم و روح، دونوں اللہ کی امانت ہے۔اُسے یہ بات تک یاد نہیںکہ اُس کاوجود خود اُس کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے اور اس کی حفاظت کرنا بھی لازماً اُس کا فرض ہے۔ ہمارے نوجوان کو سمجھنا ہوگا کہ اللہ نے یہ جسم اور روح انسان کو اس لئے دی ہے تاکہ انسان اس دنیا میں اُس کی رضا کے مطابق زندگی گزاریں۔
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کا نوجوان جسمانی صحت کی طرف تو بہت توجہ دیتا ہے، لیکن روحانی امراض کی طرف سے آنکھیں بند کئے ہوئے ہے۔آج کے نوجوان کو چاہیے کہ اسلامی احکام کی طرف رجوع کرے، اپنی ذات اور اپنے معاشرے کے اصلاح کی فکر کرے اور نیک طرزِ عمل اور عبادات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ اس طرح وہ اپنی دنیاوی کامیابی کے ساتھ آخرت میں بھی سرخرو ہو سکتے ہیں۔بے شک انسان نے ظاہری جسمانی بیماریاں پہچان لی ہے اور اُن کا علاج بھی کرتا ہے، مگر روح کی بیماریوں سے بدستور غفلت برتتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے کے زیادہ تر نوجوان نماز چھوڑ دیتے ہیں، روزے سے دور بھاگتے ہیں، سگریٹ نوشی، شراب نوشی اور دیگر منشیات کا استعمال کرتے ہیں، موسیقی اور فلموں میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں،غلط کام کرتے ہیں، اپنےوالدین اور بہن بھائیوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے اور ایسے بے شمار گناہ کرتے ہیں،جن سےاُنہیں روحانی طور پر نقصان پہنچتا ہے۔لیکن اُنہیں اس بات کا احساس نہیں کہ وہ کس تباہی کی طرف جارہے ہیں ۔
ہمارے معاشرے کے مسلم نوجوانوں کے لئے یہ بات سمجھنا ضروری ہےکہ اُن کی زندگی ایک امانت ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہے اور جسے اللہ کے احکامات کے مطابق ہی استعمال کرنا ہےاور شرعی احکام کے تحت اس کی حفاظت بھی کرنا ہے۔ مگر آج کے دور میں نوجوان ظاہری صحت و طاقت کو اہمیت دیتے ہیں، لیکن روحانی پاکیزگی اور اس کی بیماریوں سے غفلت برتتے ہیں۔یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ہمارا نوجوان کہاں جا رہا ہے اور اُس کی منزل کیا ہے؟افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج ہمارا نوجوان اپنی شناخت اور مقصد کو بھول چکا ہے، جو کبھی دین کے اصولوں کو اپنائے ہوئے تھا، آج مغربی تہذیب کی اندھی تقلید میں گم ہوگیا ہے، جس کے ہاتھ میں قرآن ہونا چاہیے تھا، آج اس کے ہاتھوں میں مغربی افکار اور اشتراکیت کی کتابیں ہیںجبکہ اللہ اکبر کی صدائوں کے بجائے آج اُس کی زبان سے بے حیائی کی باتیں نکلتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انتہائی شفقت ، محبت، حکمت اور عزم کے ساتھ اپنےمعاشرے کی اِس گمراہ نوجوان نسل کو ساحل ِ سکون تک لانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔بھٹکے ہوئے نوجوانوں کو دین کی طرف بُلائیں اور اُنہیں راہ ِراست کی طرف گامزن کریں۔