ہلاکتوں میں فتح ڈھونڈنا دلی کا فریب ِ نظر

۔1990کی دہائی میں عسکریت نے جب کشمیر کے ’’اسٹیٹس کو‘‘یا جوں کی توں صورتحال کے تسلسل کو توڑنے کا بگل بجادیا تو دیکھتے ہی دیکھتے کشمیری نوجوانوں کا ایک بہت بڑا طبقہ اس کی طرف مائل ہوگیا اور ’’مجاہدین‘‘کے مقدس اور باوقار نام سے معروف ہونے لگے ۔عوام میں بندوق کے لئے نرم گوشہ ہی نہیں بلکہ عقیدت اور مسرت کے جذبات دیکھنے کو ملے ۔ایسا لگا کہ صدیوںسے دبے کچلے عوام کو اپنی محرومیوں اور ستم سامانیوں کا مداوا ملا ہو۔عوامی پذیرائی نے بندوق کو ایسی شہرت اور عزت بخشی یعنی گلیمرائز کیا کہ وہ لوگ بھی ’’مجاہد‘‘بن گئے جو بندوق کو مرتبے کی نشانی سے بڑھ کر دبدبے کا ہتھیار سمجھنے لگے ،بعض بالادستی کے بھوت کے شکار ہوئے ،کچھ نے تو زن ، زر اور زمین کیلئے اس کا استعمال کیا ۔بعض قاضی اور فقہا بن گئے اور اپنی اپنی شریعت نافذ کرنے لگے ۔گو اس ’’جنون ‘‘میں بھی بعض لوگ اپنے مقصد اولین پر اپنی نگاہیں مرکوز کرتے رہے اور مختلف قسم کی آلائشوں سے اپنے دامن کو بچاتے رہے ،تاہم اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ چند استثنیٰ کو چھوڑ کر بندو ق اپنی پاکیزگی اور تکریم اور مقصدیت سے وفا نہ کرسکا اور یہیں سے بعد میں ایک دوسرے کو برداشت نہ کرنے اور بدنام زمانہ اخوان نامی سرکاری بندوق بردار تنظیم کو ابھرنے کا موقعہ ملا۔
آج جو نوجوان بندوق اٹھائے ہوئے ہیں،اُن میں یہ قدر مشترک ہے کہ وہ کامل ذہنی و فکری یکسوئی کے ساتھ اس میدان میں آچکے ہیں ،اپنی تمام تر آسائشوں،گھر کی رونق و خوشیوں ،اپنے شاندار کیرئر ،مالی منفعتوں اور آسودگیوں کو عظیم تر مقصد پر قربان کرکے آچکے ہیں ۔وہ جانوں کا نذرانہ لے کر آئے ہیں ۔انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ مدمقابل فوجی قوت کے لحاظ سے کتنا طاقتور ہے ،اور کس قدر مادی وسائل سے مالا مال ہے ،وہ بس ہتھیلی پر سررکھ کرچھینے گئے حقوق کی بازیابی کیلئے سامنے کھڑے ہیں ۔اسی صدق و وفا اور بے داغ سیرت و کردار کی تاریخ اپنے لہو سے رقم کرکے وہ اس فانی دنیا سے چلے جاتے ہیں تو پوری فضاء سوگوار ہوتی ہے ۔بے شک سرکاری لغت میں ایسے لوگوں کو ’’دہشت گرد‘‘،’’بھٹکے ہوئے ‘‘اور ’’گمراہ ‘‘کہاجاتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ سرکاری بیانیہ اس بیانیہ کے ساتھ کوئی تعلق ہے جو عوام میں ان کے حوالے سے پایا جاتا ہے ؟ اسی سوال میں وہ جواب بھی پنہاں ہے جو فورسز اہلکاروں اور عسکریت کے حامی ان نوجوانوں کے مابین تصادم کے خطرناک مقامات پر عوام کو اکٹھا ہونے اور پھر وہاں ہلاک ،زخمی ،اپاہج بننے اور بینائی سے محروم ہونے کے محرک وجوہات پر پوچھا جاتا ہے ۔
تقریباً تین دہائیاں گز ر چکی ہیں جب سے ملی ٹینسی (عسکریت )کشمیر میںشروع ہوئی اور آج 15سے30برس تک کے جو نوجوان تصادم کی جگہوں کی طرف رخ کرتے ہیں ،وہ جان کر یہ پُر خطراقدام اٹھاتے ہیں کہ ان کو وہاں سے ’’دودھ اور مٹھائی ‘‘ملنے والی نہیں ہے بلکہ یہ بہت کچھ کھونا ہی ہے ،شاید زندگی سے بھی ہاتھ دھونا ہے یا رندھا بن کر واپس گھر لوٹنا ہے یا کسی ٹارچرسیل میں صعوبتیںجھیلنا ہے ۔پہلے کریک ڈائون ہوتاتھا تو نوجوان سمیت سب لوگ بھاگ جاتے تھے ۔خوف اور ڈر ان کا تعاقب کرتا تھا لیکن آج کا نوجوان خوف اور ڈر سے اپنے آپ کو کب کے آزاد کرچکا ہے (ڈر وہاں ہوتا ہے جہاں مفادات اور آسائشوں سے محروم ہونے کا غم ہو)۔پھر عشروں خود کو ایک بڑی جیل میں مقید رہنے سے اس کی نفسیات پر بھی یقینا منفی اثرات پڑتے ہیں ۔سپورٹس ۔ جس پر آج کل زیادہ زور دیاجاتا ہے ،زیادہ سے زیادہ اس کی جسمانی نشو نما کو ایڈرس کرتا ہے مگر ان تاریخی ناانصافیوں اور حصار ِ جبر کو یہ کس طرح ایڈرس کرے جو جھوٹے وعدوں سے عبارت ہیںاور جو اس کے پورے قلب و ذہن کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔آج کے نوجوان نے تشدد کے سائے میں آنکھیں کھولیں اور پھر تعلیم کے حصول اور عملی مشاہدے سے وہ فریب اور جعلسازی کے اس پورے ڈھانچے کو سمجھ سکا جس پر بڑے بڑے دعوئوں کی قصرتعمیر کی گئی ،لیکن عملی دنیا میں جس کی حقیقت پانی کے بلبلے سے زیادہ کچھ نہیں۔
آج کے نوجوان نے چاہے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی طرف رخ کیا یا زندگی کے کسی اور شعبے میں قدم رکھا ،یا سپورٹس میں ہی منہمک کیوں نہ رہا ہو،وہ ا س عسکری نوجوان کے خلوص ِ نیت اور بے نیازی اور جذبہ ایثار پر سر ِ تسلیم خم کرتا ہے جو اپنی پوری متاع ِ حیات لے کرسوئے منزل چل پڑا حالانکہ جانتا ہے کہ اس کی شلف لائف کچھ زیادہ نہیں ۔اسی لئے کریک ڈائون کریک ڈائون میں محصور عسکری نوجوان کے ساتھ وہ خود کو جوڑ پاتا ہے اور اس کو بچانے کی خاطر خطرات بھی مول لینے پر تیاررہتا ہے ۔علاوہ اس کے ہمیں یہ یاد بھی رکھنا ہے کہ یہ عسکری نوجوان پتھروں سے جنم نہیں لئے ہوئے ہیں ،درختوں کی پیداوار نہیں ہے ،پہاڑوں سے اتر کر نہیں آئے ہیں۔ان کی مائوں نے کوکھ میں ان کو پالا ہے اور آخری لمحے تک ان کے احباب و اقارب ان کی دید کیلئے ترستے رہے ۔ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ پڑوس میں کوئی انکائونٹر ہو رہا ہو اور وہ اُف تک بھی نہ کریں۔پھر ، جیسا کہ میں نے شروع میں لکھا ، آج کی ملی ٹینسی اور نوے کی دہائی کی ملی ٹینسی میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ لوگ سیرت و کردار کے مجسمے ہیں اور معاشرے کے لگ بھگ تما م طبقوں ۔ امیرو غریب ،نوکری پیشہ یا زیر تعلیم سے تعلق رکھتے ہیں۔اگر چہ الگ الگ تنظیموں سے منسلک ہیں مگر سوچ اور اپروچ میں بکھرائو اور تنظیمی رقابتوں کے شکار نہیں۔وہ اپنی مائوںکو سوگوار چھوڑ کراور تمام آسائشوں اور تن آسانیوں کو لات مار کراور روشن مستقبل کی ضمانتوں کو ٹھکرا کرہر دم اپنے کندھوں پر صلیب اٹھائے اپنے اسی کردار اور عظمتِ فکر کے زندہ اشتہار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بستیوںکی بستیاں ان کی گرویدہ ہیں۔اور نہ صرف ان کے جنازوں میں شرکت کرتے ہیں بلکہ گولیوں اور پیلٹ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بھی ان کے تئیں اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار اپنے الگ ہی انداز میں کرتے رہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ فورسز کے انتباہ کے باوجود نوجوان ان جگہوں کی طرف امنڈ آتے ہیں جہاں عقل جذبات کو قابو کرنے کی لاکھ جتن کرتی ہے ۔یہ بالکل نمرودی آگ میں کود پڑنے کے برابر ہے جب عقل لب ِ ساحل محو تماشا کھڑی ہے ۔بھارت کے فوجی سربراہ نے اگر چہ مقامات ِ تصادم کی طرف جانے والے لوگوں کو عسکری نوجوانوں کا حلیف قرار دیا ہے اور ’’سختی کے ساتھ نمٹنے ‘‘کی ہدایات فورسز کو دئے ہیں تاہم ان مقامات پر شہری ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ سے یہ صاف مترشح ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنی جانوں کی پرواہ نہیں۔اس سال ان ہلاکتوں میں 2017کے مقابلے میں دو گنا اضافہ ہوا۔ساٹھ افراد تصام آرائیوں کی جگہ گولیوں کا نشانہ بنے ، بہت سارے زخمی ،اپاہج اور آنکھوں کی روشنی سے محروم بھی ہوئے ۔
آگ میں کود جانے کا یہ رجحان کشمیری نوجوانوں کی اس بے بسی اوراور دیوار سے لگانے کا فطری نتیجہ ہے جس کے کرب انگیز ماحول میں وہ خود کو پارہے ہیں۔جب آپ پر امن طریقے سے خیالات،احساسات اور جذبات کو اظہارکی زبان دینے کی تمام راہیں مسدود بناتے ہیں اور صرف طاقت کی زبان سے بات کرنے کے ’’کوڈ آف کنڈکٹ‘‘پر عمل پیرا ہیں ،تو کس امن کے نخلستان کی ہم توقع کریں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس حقیقت کا ادراک کر ے کہ کشمیر لااینڈ آڈر کا مسئلہ نہیں ہے ،نہ نوجوانوںکی بیروزگاری سے اس کا کوئی تعلق ہے اور نہ بھارت اور پاکستان کے مابین یہ ایک سرحدی تنازعہ ہے ۔یہ کشمیری عوام کی چاہتوں اور امنگوں سے تعلق ہے اور اس مسئلہ کی متنازعہ حیثیت کو خود بھارت نے تسلیم کیا ہے اور اقوام متحدہ کی پاس شدہ قراردادوں ،جو حق استصواب سے متعلق ہیں،کو خود بھارت نے تسلیم کیا ہے۔علاوہ ازیں ،جیسا کہ خود بھارت کے سابق وزیرداخلہ اور معروف کانگریسی لیڈر چدمبرم کہتے ہیں کہ کشمیریوںکو طاقت سے دبانے کے طریقے سے اس کا حل ممکن نہیں ،بس بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات سے تینوں فریقین ، کشمیرکی معتبر لیڈر شپ ،انڈیا اور پاکستان اس کو مل بیٹھ کر حل کریں ۔یہی ایک طریقہ ہے اس دیرینہ مسئلہ کو حل کرنے کا ۔ستر سال کا تجربہ بتا رہا ہے کہ آہنی ہاتھوں سے کشمیریوں کو دبایا نہیں جاسکتا بلکہ ہر آنیوالے سال کے ساتھ اس اپروچ کا ردعمل بھی مزاحمت میں شدت اور نوجوانوںکا انتہا پسندی اور تشدد کی طرف مائل ہونے کی صورت میںہی نکلتا ہے ۔آخر اس حماقت کو برابر نئی دلّی کیوں دہرا رہی ہے جس سے اس کو ناکامی کے سوا اور کچھ حاصل نہیں ہورہا ہے۔فریب ِ نظر کو وہ آخر کب تک آسودہ چشم سے تعبیر کرتا رہے !
 بشکریہ ہفت روزہ’’ نوائے جہلم ‘‘ سری نگر