اگرچہ انسان خود کو مہلک بیماریوں سے بچانے کیلئے نئی نئی ترکیبیں سوچتا ہے ،وہیں وہ خود کیلئے موت کا سامان بھی مہیا کررہا ہے اور اپنے آپ کو جوکھم میں ڈال کر نشہ آور چیزوں کا استعمال کررہا ہے ۔آج کل نشہ آور چیزوں کا استعمال کثرت کے ساتھ ہورہا ہے ۔نشہ ایک ایسی لاعلاج بیماری ہے جس نے دنیا کی آبادی میں سے لگ بھگ ایک تہائی حصے کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ منشیات کا مطلب ہے کثرت کے ساتھ ایسی چیزیں استعمال میں لاناجن سے انسان کے جسم، حافظہ، دماغ اور کردار سازی پر بْرے اثرات مرتب ہورہے ہیں اور اسی وجہ سے انسان اپنا قوت باختہ بھی کھو بیٹھتا ہے ۔ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ منشیات کا کثرت سے استعمال سوہان روح ثابت ہورہا ہے اور ایسے اشخاص ،جو نشہ کے عادی ہوتے ہیں وہ ذہنی دباؤ (Depression )کاشکار ہوتے ہیں۔ نشے کی لت زیادہ تر ان اشخاص میں پائی جاتی ہے جو جسمانی اور جذباتی طور سے حوصلہ شکنی کا شکار ہوتے ہیں اوربیروزگاری، گھریلو جھگڑے اور مفلسی جیسے سماجی بدحالی کا شکار افراد بھی نشہ آور چیزیں استعمال کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں ۔جو اشخاص منشیات کے عادی ہوتے ہیں، ان میں موذی بیماریاں لاحق ہونے کے خطرات قوی ہوتے ہیں اور وہ پھیپھڑوں کے کینسر جیسی موذی بیماریوں کو دعوت دے رہے ہیں ۔اس سال پولیس سے حاصل کئے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق چھاپوں کے دوران ہیروئن، گانجا، چرس وغیرہ کی تقریباًہزاروں کلو گرام مقدار ضبط کی گئی اور نشہ آور ادویات کی کئی لاکھ بوتلیں اور گولیاں بھی برآمد کی گئیںجبکہ چھاپوں کے دوران ڈرگ استعمال کرتے ہوئے سینکڑوں نوجوان رنگے ہاتھوں پکڑے گئے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ نوجوانوں میں منشیات کا استعمال تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے اور نشہ آور چیزوں کا استعمال میں لانا نوجوان نسل میں فیشن بن گیا ہے۔
نفسیاتی معالجین کہتے ہیں کہ ان کے پاس روزانہ ایسے سینکڑوں نوجوان کولایا جارہا ہے جو افیم، چرس، ہیروئن، کوکین، براؤن شوگر، شراب اور کئی دوسرے نامعلوم نشہ آور مرکبات کے استعمال کے نتیجے میں جسمانی، نفسیاتی اور جذباتی امراض کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹروں اور پولیس کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف غیر قانونی منشیات تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ فارماسیوٹیکل ادویات کو بھی اب نشے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں صحت عامہ کو لاحق خطرات میں تمباکو نوشی ہے ۔تمباکو کے استعمال کنندگان میں سے آدھی تعداد موت کے گھات اتر جاتی ہے۔ ہرسال ( 82)بیاسی لاکھ افراد تمباکو نوشی کے باعث لقمہ اجل بنتے ہیں جن میں70لاکھ وہ افراد ہیں جو بلا واسطہ جبکہ 12لاکھ افراد وہ ہیں جو بالواسطہ تمباکو کے مہلک اثرات کو قبول کرتے ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ خصوصی برائے جرائم ومنشیات کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً ساڑھے تین کروڑ لوگ منشیات کے استعمال کے باعث متاثر ہیں جبکہ7 میں سے فقط ایک فرد ہی علاج معالجہ حاصل کرپاتا ہے۔
اگر غور کیا جائے تو تعلیمی اداروں کے طلباء بھی کثرت سے منشیات کا شکار ہورہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تعداد ان طالب علموں کی ہے جو جامعات یا کالجوں میں زیر تعلیم ہیں جو جامعات وکالج انتظامیہ پر سوالیہ نشان پیدا کررہا ہے کیونکہ ان کی بے بسی سے منشیات فروشی کا دھندا پنپ رہا ہے۔ والدین کی اپنے بچوں سے عدم توجہی بھی اس برائی کا باعث بن رہی ہے ۔ہماری اسی بے حسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جموں و کشمیر حکومت نے حال ہی میں یہ فیصلہ لیا ہے کہ کشمیر وادی میں67 شراب کی دکانیں کھولی جائیں گی۔ یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے ۔آپ سوچئے کہ اگر یہاں شراب کی دکانیں کھولی جائیں گی تو ہمارا کیا حال ہوگا ۔اگر یہاں شراب کی دکانوں کو کھولا گیا تو نوجوان مزا چکھنے کیلئے ایک دو گھونٹ ضرور پئے گا کیونکہ یہ کشمیریوں کی فطرت ہے کہ وہ ہر چیز کا مزا چکھنے کی آڑمیں رہتا ہے۔
26ماہ جون کو ہر سال انسداد منشیات کا عالمی دن کے طور پر منایا جارہا ہے جس کا مقصد منشیات کے نقصانات کے حوالے سے آگاہی اور انکے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا ہے مگر وقت کا تقاضا ہے کہ اسکولوں، جامعات اور کالجوں کے علاوہ حکومتی اداروں کی طرف سے اس موضوع پر تحقیقی ومعلوماتی پروگرام منعقد ہونے چاہئیں تاکہ آنے والی نسلیں منشیات کے مہلک اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔ اس کے علاوہ منشیات کے موضوعات کو اسکولوں و یونیورسٹیوں کے مروجہ نصاب تعلیم میں شامل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ملک گیر آگاہی مہم شروع کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں موثر اقدامات اٹھائے تاکہ ملک سے نشہ جیسی بدکاری کا خاتمہ کیا جاسکے۔ اگرچہ ہندوستان میں1986میں انسداد منشیات قانون سامنے آیا مگر پھر بھی یہاں بڑے پیمانے پر نشہ آور چیزوں کا استعمال کثرت سے ہورہا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت اس کو لیکر کتنی سنجیدہ ہے۔ انسٹی چیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیرو سائنس سرینگر کی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ نوجوان جس نشے کا استعمال کثرت سے کرتے ہیں، وہ نکوٹین ہے اور اس کی شرح94.5فیصد ہے۔ تحقیق کے مطابق افیون کا استعمال65.7فیصد،بھنگ کا استعمال 45.5فیصد بیخود کرنے والی ادویات 35.4فیصد اور شراب51.2فیصد لوگ استعمال کرتے ہیں اور زیادہ تر منشیات استعمال کرنے والوں کی عمر14سے 30سال تک کے نوجوانوں کی پائی جاتی ہے ۔ یہ ایک چونکا دینے والی بات ہے کہ نوجوان لڑکیوں کی ایک خاصی تعداد بھی منشیات کا استعمال کرتی ہیں اور یہ برائی آج کل ایک بڑے سماجی مسئلہ کی حیثیت میں اْبھر رہی ہے۔اگرچہ کالج اور یونیورسٹی طلباء و طالبات نشے کو فیشن کے طور پر اپناتے ہیں مگر بعد میں اْن کا یہی شوق یا فیشن عادت اور مجبوری بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں بہت سارے لوگ فیشن کے طور پر کئی نشہ آور چیزیں استعمال میں لاتے ہیں ۔مرکزی وزارتِ صحت اور خاندانی بہبود کی مارچ 2020رپورٹ کے مطابق گْٹکا کھانے والوں اور پان چبانے والے نوجوانوں کی تعداد ہندوستان میں تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے ۔یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ حکومت منشیات کے مضر اثرات سے واقف ہوکر بھی نشہ آور چیزوں کا دھندا کرنے والوں اور فیکٹریوں کو اجازت نامے License اجراء کرتی ہے اور نشیلی اشیاء کا کاروبار عین حکومت و انتظامیہ کے ناک کے نیچے ہوتا ہے۔ اس کی زندہ مثال ہمیں ایک مہینہ پہلے ہی ملی جب ہندوستانی حکومت نے تمام خوردونوش کے چیزوں پر پابندی عائد کی مگر شراب کے کاروبار کو جاری رکھنے کے احکامات صادر کئے۔ اگرچہ عوامی مقامات، جن میں اسکول ، کالج اور یونیورسٹیاںشامل ہیں ،کے آس پاس نشہ آور چیزوں پر پابندی عائد ہے۔تاہم اس دھندے کا کاروبار کرنے والے کالجوں اور اسکولوں کے صرف کچھ ہی گز میں ان چیزوں کو فروخت کرتے ہیں۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ نچلی سطح پر ان قوانین کی دھجیاں اڑا ئی جاری ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ منشیات پر قابو پانے کے لیے ہمیں حکومتی سطح پر کام کرنے کے علاوہ عوامی سطح پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ والدین، اساتذہ اور سماجی تنظیموں کو اس بارے میں اپنی ذمہ داری نبھانے کی ضرورت ہے اور اس برائی پر قابو پانے کیلئے ہمیں خود پرہیز کرنے کے علاوہ اپنی اولاد پر چوبیس گھنٹے نظررکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ذرائع ابلاغ یعنی ریڈیو، ٹیلیویژن، اخبارات ورسائل کے ذریعے سے بھی منشیات کی تباہ کاریوں اور مضر اثرات کو اْجاگر کرکے عوام کو اس برائی سے نجات دلانا ناگزیر بن چکا ہے۔
رابطہ : خانپورہ کھاگ،موبائل نمبر7006259067