ایجنسیز
نئی دہلی /فٹ بال کی تاریخ میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو وقت کی قید سے آزاد ہو کر امر ہو جاتے ہیں۔ ترکیہ (ترکی) کے عظیم اسٹرائیکر ہاکان شوکر کا 2002 کے ورلڈ کپ میں کیا گیا وہ گول بھی ایسا ہی ایک تاریخی لمحہ ہے، جسے آج بھی ورلڈ کپ کا تیز ترین گول ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔آج ہاکان شوکر اپنے وطن ترکیہ میں حکومت کے عتاب کا شکار ہو کر امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ شخص جو کبھی ترکیہ کا سب سے بڑا فٹ بال اسٹار تھا اور جسے ’’باسفورس کا سانڈ‘‘ کہا جاتا تھا، آج اپنے ملک واپس نہیں جا سکتا۔ لیکن فٹ بال کی تاریخ میں ان کا نام سنہری حروف سے لکھا جا چکا ہے۔جاپان اور جنوبی کوریا میں منعقدہ 2002 کے ورلڈ کپ میں ترکیہ نے 48 سال بعد واپسی کی تھی۔ کپتان ہاکان شوکر کی قیادت میں ترکیہ کی ٹیم نے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ پورے ٹورنامنٹ کے دوران شوکر آٹھ شاٹس مارنے کے باوجود ایک بھی گول نہ کر سکے۔
تنقید کا سامنا تھا، لیکن ان کی قسمت میں کچھ بڑا لکھا تھا۔تیسری پوزیشن کے لیے جنوبی کوریا کے خلاف کھیلے گئے میچ میں جنوبی کوریا نے کک آف کیا اور تین پاسز کے بعد بال ان کے ڈیفنڈر ہونگ میانگ بو کے پاس آئی۔ترکیہ کے الہان مانسز نے بجلی کی تیزی سے گیند چھینی اور اپنے کپتان ہاکان شوکر کی طرف پاس بڑھایا۔شوکر نے کوئی غلطی نہیں کی اور گیند سیدھی جال میں پہنچا دی۔اس وقت گھڑی پر صرف 10.8 سیکنڈز ہوئے تھے۔ اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں شائقین ابھی سنبھلے بھی نہ تھے کہ تاریخ رقم ہو چکی تھی۔اس گول نے 1962 کے ورلڈ کپ میں چیک کھلاڑی واکلاو ماشیک کا 16 سیکنڈ میں گول کرنے کا 40 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا۔ ہاکان شوکر نے میچ کے بعد کہا:”سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ یقین نہیں آیا۔ وہ لمحہ سکون اور بے پناہ خوشی کا تھا۔ میں ورلڈ کپ کا میڈل اور یہ تاریخی گول لے کر گھر واپس لوٹا۔”ترکیہ نے وہ میچ 3-2 سے جیت کر کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ شوکر آج بھلے ہی اپنے وطن سے دور ہوں، لیکن ان کا وہ 10.8 سیکنڈ کا جادو فٹ بال کی تاریخ کا اٹوٹ حصہ بن چکا ہے۔