پہلے بری خبر سناؤں گا۔ سوشل میڈیا اخبارات اور دیگر ذرایع ابلاغ سے ہر کسی نے سنا کہ بہت سارے نوجوان ہارٹ اٹیک سے چل بسے۔کسی نے یہ تعداد29اورکسی نے تعداد کچھ اور بتائی ہے۔ ایک بات مسلم اور روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اب ہارٹ اٹیک نوجوانوں میں عام بات ہے۔وہ زمانہ گیا جب نوجوان اپنے بزرگوں کو مرنے کے بعد کاندھوں پر اٹھایا کرتے تھے ۔اب عمر رسیدہ بزرگ ہی اپنی اولاد کو کاندھوں پر اٹھاکر قبرستان لے جاتے ہیں۔
وقت بدل گیا ہے۔نوجوانوں میں دل کے امراض بڑی تیزی سے اپنی جگہ لے رہے ہیں۔یہ بری خبر ہے۔دوسری طرف اچھی اور حوصلہ افزا خبر یہ ہے کہ اس پر بڑی آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے۔ جی ہاں یہ ممکن ہے، شرط صرف یہ ہے کہ سماج کے سبھی نوجوان ماہرین کے مشوروں پر صد در صد عمل کریں۔
ہمارے سماج میں جب بھی کوئی نیا مسئلہ پیش آتا ہے تو اکثر لوگ مشکوک نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے ہیں مثلا کرونا وائرس جب کشمیر میں پھیلنے لگا تو اسے سازش قرار دیا گیا۔ اسی طرح نوجوانون میں ہارٹ اٹیک کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہونے کے بارے میں بھی اکثر لوگ اپنی اپنی راے قائم کرتے ہیں ۔کچھ لوگ اسے ایک قسم کے سگریٹ برانڈ سے نتھی کرتے ہیں اور کچھ لوگ اصرار کرتے ہیں کہ سرکار اور طبی ماہرین فوری تحقیقات شروع کرکے بنیادی وجوہات کا پتہ لگاییں۔ وہ لوگ اپنی جگہ بالکل صحیح ہیں۔
شاید عام لوگ اس بات سے واقف نہیں ہوں گے کہ پچھلے تیس برسوں سے امریکہ میں نوجوانوں میں ہارٹ اٹیک کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے اور ہندوستان میں بھی یہی حال ہے ۔اس ملک میں امراض قلب سے مرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ان مرنے والوں میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ایک وقت تھا جب ہارٹ اٹیک صرف عمر رسیدہ افراد میں تشخیص دیا جاتا تھا اور کوئی طبی ماہر سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ چالیس سال سے کم عمر کے افراد بھی ہارٹ اٹیک میں مبتلا ہو سکتے ہیں مگر اب یہ ایک حقیقت ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں امراض قلب کی شرح تیزی سے بڑھتی جارہی ہے۔ ایسا کیوں؟۔
دنیا کے متنازعہ خطوں میں نامساعد حالات کی وجہ سے لوگ ذہنی طور متاثر ہوتے ہیں۔جب سے یہاں نامساعد حالات کی وجہ سے حالات بدل گئے ،ہمارے سماج کا شیرازہ بکھر گیا۔ بچے ،نوجوان، بوڑھے، مرد، عورتیں بار بار ہڑتال، کرفیو اور دیگر بندشوں کی وجہ سے اپنے اپنے گھروں میں محصور ہوتے رہے۔طرز زیستن و خوردن بدل گیا۔تفریح اور ورزش خواب بن کے رہ گئے۔گھروں میں محصور لوگ ذہنی دباؤ کھچاؤ اور تناو کے شکار ہوتے رہے۔
لوگوں میں ذہنی بیماریوں کی شرح بڑھتی گئی۔ اس سے ہائی بلڈ پریشر ،شوگر اور خون میں چربی میں اضافہ جیسی بیماریوں کی شرح بڑھتی گئی۔چونکہ یہ بیماریاں خاموش قاتل ہوتی ہیں، ان کے علایم جلدی ظاہر نہیں ہوتے ہیں، اسلئے یہ بیماریاں مریض کے اندر پنپتی رہتی ہیں اور وقت آنے پر دل کی بیماریوں کی صورت میں سر اٹھاتی ہیں ۔نوجوان طبقہ ذہنی پریشانیوں سے نجات پانے کے لیے سکون آور، خواب آور اور دیگر نشہ آور ادویات استعمال کرنے لگے ۔شراب نوشی نوجوانوں میں عام ہونے لگی۔چوں کہ یہاں ڈرگ ایکٹ پوری طرح لاگو نہیں ہے ،اس لیے نوجوانوں کو آسانی سے نشہ آور ادویات مل جاتی تھیں۔انہوں نے اپنی مرضی کے مطابق دوائیاں استعمال کیں۔ ایک اہم ترین بات یہ ہے کہ لوگوں کا طرز زندگی یکسر بدل گیا۔نوجوان ایک تیز رفتار الٹرا ماڈرن زندگی گزارنے لگے ۔وہ مہینوں کا کام دنوں میں ،دنوں کا کام منٹوں میں اور منٹوں کا کام سیکنڈوں میں کرنے لگے۔
وہ آرام کیے بغیر برق رفتاری سے دوڑنے لگے۔ اس تیز رفتار زندگی میں وہ صحت مند کھانے پینے کی طرف توجہ نہیں دے سکے ۔وہ بازاروں میں فاسٹ فوڈ ،جنک فوڈ سے عشق کر بیٹھے۔ورزش تو دور کی بات، ان کے پاس دو قدم چلنے کے لیے بھی وقت نہیں رہا۔ وہ کاروں اور بائیکوں کا استعمال کرتے رہے۔ ناقص غذا اور سستی کی وجہ سے وزن میں اضافہ ہوتا گیا ۔خون میں شوگر ،کولسٹرول اور دیگر قلب مخالف چربی جمع ہوتی رہی ۔یوں بیچارہ دل متاثر ہو تا رہا اور پھر یہاں نوجوانوں میں جنرل ہیلتھ چیک اپ کا تصور ہی نہیں ہے۔ اسلئے خاموش قاتل بیماریاں دل کو اندر اندر سے کمزور کرتی گئیں اور ایک روز ہارٹ اٹیک…نامساعدحالات میںاکثر لوگ بالخصوص نوجوان ڈپریشن جیسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہوئے۔ ڈپریشن میں مبتلا ہوکر وہ نشہ آور ادویات کااستعمال کرنے لگے اور یہ بات مسلم ہے کہ ڈپرشن میں مبتلا مریض گھر کے اندر ہی بیکار زندگی گزارتا ہے اور یا تو بہت زیادہ کھاتا ہے یا کھانے پینے کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتا ہے، سگریٹ نوشی اور شراب نوشی کی طرف راغب ہو جاتا ہے ۔اس طرح اس کے دل کی بیماریوں میں مبتلا ہونے کے امکانات روشن ہو جائے ہیں۔
دل انسانی جسم کا وہ انمول اور اہم ترین عضو ہے جو چوبیس گھنٹے بنا استراحت کیے اپنا کام انجام دیتاہے۔ بافی اعضاء شاید کچھ دیر کے لئے آرام کر سکیں مگر دل اگر ایک لمحہ کے لئے دھڑکنا بند کرے تو انسان زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔دل جسم کے تمام اعضاء کو خون سپلائی کرتا ہے مگر دن رات لگاتار کام کرنے کے لئے اسے بھی خون کی ضرورت پڑتی ہے۔کورونری شریانیں دل کو لگاتار خون پہنچاتی ہیں۔اگر کسی وجہ سے ان میںرکاوٹ پیش آئے اور دل کے کسی حصہ کو خون نہ پہنچے تو وہ حصہ مر جاتا ہے۔ چوں کہ دل اسٹارلنگ قانون کے تحت کام کرتا ہے مطلب یا تو دل کے سبھی عضلات کام کرتے ہیں یا کوئی کام نہیں کرتا ہے۔ اس لیے جب دل کا کوئی حصہ خون نہ ملنے کی وجہ سے مرجاتا ہے تو ہارٹ اٹیک پیش آتا ہے اور انسان لقمہ اجل بن جاتا ہے۔