پونچھ+سرنکوٹ//سیڑھی خواجہ، سیڑھی چوہانہ، میدانہ،نیڑیاں اور گرد و نواح کے لوگوںنے ہائی سکول سیڑھی خواجہ کے درجہ کوبڑھاکراسے ہائر سیکنڈری سکول بنانے کی مانگ کرتے ہوئے جموںپونچھ شاہراہ بند کرکے احتجاج درج کیا۔ مظاہرین نے ریاستی سرکار، ممبر قانون ساز اسمبلی سرنکوٹ اور محکمہ تعلیم کے خلاف جم کر نعرہ بازی کی ۔احتجاج کی وجہ سے روڈ دو گھنٹے تک بند رہی ۔ مظاہرین نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آزادی سے لیکر اب تک اس علاقہ کو مکمل طور پر نظر انداز رکھاگیاہے اور اب سکول کا درجہ بھی نہیں بڑھایاجارہاجبکہ یہ علاقہ ہائرسکینڈری سکول کیلئے سب سے زیادہ مستحق ہے جہاں کے طلباء کو لسانہ یا سرنکوٹ یاپھر پونچھ جاکر تعلیم حاصل کرناپڑتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ 2014 میں سابق سرکار نے اس اسکول کو ہائرسکینڈری کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن حد تو یہ ہے کہ حالیہ دنوں کے اعلان میں بھی اس کو نظر انداز کر دیا گیا۔انہوںنے کہا کہ حالیہ فہرست میں ہائی سکول پلمہ راجوری، ہائی سکول پٹھانہ تیر مینڈھر ،ہائی سکول سیڑھی خواجہ اور ہائی سکول ساتھرہ پونچھ کا ذکر نہیں کیاگیا اور ان علاقوں کو نظرانداز کردیاگیاہے جو ناقابل برداشت ہے ۔انہوںنے کہاکہ ہائی سکول سیڑھی خواجہ کو ہائراسکینڈری سکول کادرجہ دیاجائے۔ احتجاج کو دیکھتے ہوئے ایس ڈی ایم سرنکوٹ، ایس ڈی پی او سرنکوٹ، ایس ایچ او سرنکوٹ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر پلاننگ (محکمہ تعلیم) موقعہ پر پہنچے اور انہوںنے کہاکہ یہ جائز مطالبہ ہے جس کو حکام کے نوٹس میں لاکر پورا کروایاجائے گا۔ لوگوں نے اس انتباہ کے ساتھ احتجاج ختم کیا کہ اگر ان کی مانگ کو فی الفور پورا نہیں کیا گیا تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گے۔احتجاج کی قیادت سابق سرپنچ محمد دین اورسابق سرپنچ معشوق خواجہ کررہے تھے جبکہ اس موقعہ پرچیئر مین جموں و کشمیر انصاف مؤمنٹ جاوید ریشی ، عباس ملک ،فاروق لون، اکبر ملک، جاوید راتھر، ابرار راتھر، غلام محمد خواجہ، فردوس خواجہ، مختار ملک، بلال خان، منظور ملک، مولوی مشتاق، اقبال ملک، شہناز ملک اور اشرف ملک بھی موجو د تھے ۔احتجاج میں علاقے کے معززین اور سکولی طلباء نے بھی شرکت کی ۔