ٹنگمرگ//بائزہائی اسکول فیروزپورٹنگمرگ میں طلباء کو جگہ کی کمی کے سبب مشکلات کاسامنا ہے اگرچہ اسکول کیلئے دس سال سے تعمیر ہورہی دوسری بلڈنگ کاکام ابھی بھی مکمل نہیں ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق ٹنگمرگ قصبے کے دامن میں واقع فیروزپورہ میں محکمہ تعلیم نے دس سال قبل گورنمنٹ بائز ہائی اسکول میں جگہ کی کمی کو دور کرنے کیلئے اضافی عمارت تعمیر کرنے کا کام محکمہ آر اینڈ بی ماگام کو تفویض کیا۔محکمہ آر اینڈ بی ماگام نے عمارت کو اگرچہ دس سال قبل تیار کیا تاہم گزشتہ دس سال کے دوران باقی ماندہ کام جس میں کمروں کے دروازے اور کھڑکیاں بشمول چھت کے لیے محکمہ تعلیم نے فنڈس دستیاب کرنے میں آنا کانی کی جس کی وجہ سے یہ اضافی عمارت اسکول کے احاطے میں ایک بدنما داغ بن کے کھڑی ہے۔اسکول میں زیر تعلیم طلاب کے ایک وفد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اسکول میں جگہ کی کمی سے انہیں زبردست مشکلات درپیش ہیں۔ واضح رہے چند برس قبل سابق سیکریٹری ایجوکیشن فاروق احمد شاہ نے بھی اسکول کا دورہ کرکے وہاں موجود والدین کو یقین دلایا تھا کہ بہت جلد اسکول بلڈنگ کیلئے فنڈس وگزار کرکے عمارت کی تعمیر مکمل کی جائے گی اوراسے بچوں کے نام واقف کیا جائے گا تاہم آج تک محکمہ تعلیم نے کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی ۔ یوں یہ اسکول بلڈنگ موسمی حالات کی مار کھاکر خستہ حالی کا منظر پیش کررہی ہے۔بلاک ڈیولپمنٹ کونسلر ٹنگمرگ عبدالغنی میر نے بتایا کہ انہوںنے بھی متعددبار اسکول بلڈنگ کا معاملہ سرکار کی نوٹس میں لایا تاہم ابھی تک محکمہ تعلیم نے بلڈنگ کے لیے درکار فنڈس نامعلوم وجوہات کی بنا پر فراہم نہیں کئے۔اسکول میں زیر تعلیم طلاب کے والدین نے ایل جی انتظامیہ سے اس کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔