کپوارہ// زچلڈارہ راجواڑ ہندوارہ کے ہائر اسکینڈری اسکول میں پرنسپل کی کرسی پچھلے پانچ برسوں سے خالی ہے جبکہ اسکول میں بنیادی سہولیات کے فقدان کی وجہ سے طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔اگرچہ مذکورہ ہائر سکینڈری سکول کا درجہ 1999میں بڑھا دیا گیا لیکن آج تک سکول کی حالت وہی ہے جو 21سال قبل تھی ۔مقامی لوگو ں کے مطابق مذکورہ ہائر سکینڈری سکول میں طلاب کی ایک بڑی تعداد تعلیم حاصل کر رہی ہے تاہم633طلاب کے لئے محض 6کمرے دستیاب ہیں ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ جگہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے زیر تعلیم طلاب کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔مقامی لوگو ں کے مطابق سکول کے لئے چار عمارتی ڈھانچے اس وقت دستیاب ہیں لیکن سارے کے سارے ڈھانچے خستہ حالت میں ہیں ۔والدین کا کہنا ہے کہ 2005کے تباہ کن زلزلہ سے سکول کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا اور آج تک سکول کی نئی عمارت تعمیر کرنے کے لئے کوئی بھی اقدام نہیںکیا گیا ۔والدین کا کہنا ہے جگہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے سکول انتظامیہ نے سکول کے متصل گرلز ہو سٹل کو بھی سکول کے لئے استعمال میں لایا ہے لیکن پھر بھی طلاب کو تعلیم حاصل کرنے میں دقتو ں کا سامنا ہے ۔والدین کا کہنا ہے کہ اس وقت سکول میں جگہ کی کمی سب سے بڑا مسئلہ ہے اور آج تک سکول کی طرف کوئی بھی توجہ نہیں دی گئی ۔والدین کا کہنا ہے کہ 5سال قبل سکول کے پرنسپل کو یہا ں سے تبدیل کیا گیا لیکن 5سال گزر جانے کے با جود بھی پرنسپل کی کرسی خالی پڑ ی ہے جس کی وجہ سے سکول کے انتظامی امور متاثرہورہے ہیں ۔مذکورہ ہائر سکینڈری سکول میں تدریسی عملہ کی بھی کمی ہے ۔مقامی لوگو ں کے مطابق سکول میں اس وقت تاریخ اورماحولیاتی سائنس پڑھانے کے لئے کوئی بھی استاد تعینات نہیں ہے جس کی وجہ سے مذکورہ مضامین پڑھنے والے طلاب کی تعلیم متاثر ہورہی ہے ۔سکول میں زیر تعلیم طلاب نے کشمیر عظمیٰ کو بتا یا کہ سکول بنیادی سہولیات سے محروم ہیں کیونکہ یہا ں پر نا ہی کھیل کا میدان ہے اور نہ ہی لیبارٹری ہے جس کے نتیجے میں طلاب کو مشکلات کا سامنا ہے ۔مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ ہائر سکینڈری سکول میں طلاب کو در پیش مسائل کے حوالہ سے انہوں نے آج تک سرکار سے کئی بار فریاد کی لیکن تا حال لوگو ں کی فریاد کواَن سناکردیاگیا ۔مقامی لوگو ں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ہائر سکینڈری سکول زچلڈارہ را جواڑ کی طرف توجہ دیں اور سکول میںطلاب کو در پیش مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں ۔اس حوالہ سے چیف ایجو کیشن آفیسر کپوارہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم ان سے رابطہ نہ ہو سکا ۔