ڈی ڈی سی اور بلدیاتی انتخابات اپنے آخری مر حلے میں ہیں۔ کشمیری عوام نے وؤٹ دئے ہیں کم یا زیادہ ۔ اس سے کوئی واضح فرق اب نہیں پڑتا کیونکہ بہر حال’’ پولنگ بوتھوں پر لگی ہوئی لمبی قطاریں ساری دنیا کی چینلوں پر بڑھا چڑھاکر دکھائی جارہی ہیں جس کے ساتھ یہ ٹکڑا ضرور ہوتا ہے کہ ’’بھارت ایک بڑا جمہوری ملک ہے اور کشمیریوں کو اس جمہوریت پر پورا بھروسہ ہے ‘‘ لیکن ایک جائزے کے مطابق عوام میں یہ تاثر یا احساس ا بھرتا جارہا ہے کہ ’مسئلہ کشمیر‘ ایک ایسا بنیادی مسئلہ ہے جو بین الاقوامی توجہ کا متقاضی ہے کیونکہ ابھی تک نہ سلامتی کونسل کا وجود مٹ چکا ہے اور نہ اس فورم سے یہ مسئلہ خارج ہوا ہے اور اب اس مسلے کا حل پاک بھارت کی سرکاروں سے ماورا ہے کیونکہ دنیا کے ہر کنفلکٹ یا تنازعہ کو طاقتور اقوام اپنے مفادات کی خاطر سلجھانے کے بجائے الجھانے کی حکمت عملی پر گامزن ہیں۔شاید کشمیری لوگ ورلڈسنیریو یا عالمی منظر نامہ کو باقی دنیا سے بہت بہتر سمجھتے ہیں جس نے اس احساس کو تقویت دی ہے کہ’ وقت‘پھر ایک بار ’ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ‘کے حتمی اصول پر چل نکلی ہے اور جس کے پاس لاٹھی ہے وہ سب کچھ ہانک سکتا ہے جیسے اسرائیل ’حال‘ میں ساری دنیا کو ہانک رہا ہے یا میرے خیال میں تاریخ گواہ ہے کہ یہی اصول ازل سے اس دنیا میں رائج رہا ہے۔
اس لئے کشمیری عوام بھی جینے کے لئے ان بنیادی ضرور یات کی طرف توجہ مبذول کر رہے ہیں جو ان نام نہاد جمہوری نظاموں میں بھی ابھی تک کہیں رینگ رہی ہیںاگر چہ اس نظام میں یہ بنیادی ضرورتیں بھی ووٹ کا یرغمال ہوچکی ہیں ۔اور وہ ضرور تیں عوام میں بجلی ،پانی، سڑکوں کے علاوہ روز گار کا نام ہیں۔دوسری وجہ یہ بھی رہی ہے کہ شاید الاینس کو ووٹ دینا عوام کا ایک بڑا حصہ آخری آپشن سمجھتا ہے۔ ان کا یہ قیاس اور گمان ہے کہ اب چھوٹے سے لیول پر بی جے پی کو دور رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور یہ خیال ہی وہ نیو کلیس بنا ہے جس نے’الائنس‘ کو نہ صرف جنم دیا ہے بلکہ اپنے ابتدائی بیانات کے الٹ، جن میں انہوں نے انتخابات میں حصہ نہ لینے کاواضح اعلان کیا تھا،وہ انتخابات میں غیر مشروط طور پر حصہ لے رہے ہیں ۔ یا تیسری وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ ان کی سیاسی دکانوں پر اب کوئی مال نہ رہنے کے باوجود دکانوں کوکھلا رکھنا ایک مجبوری ہے ۔
اس مضمون میں ہم اس پر بات نہیں کریں گے کہ کووڈاور ملک کے اندرونی انتشار کے باوجود یہ وقت انتخابات کے لئے کیوں چنا گیا ہے؟کشمیر کے سیاسی میدانوں میں دو اہم پارٹیاں انتخابات کے حوالے سے اپنا کھیل پیش کر رہی ہیں اور کئی باتیں ان ٹیموں میں ایک دوسرے کے ساتھ نہ صرف موافقت رکھتی ہیں بلکہ بہت ہی یکساں بھی ہیں اور اس پر ستم ظریفی یہ کہ ان میں فارورڈ لائن کے کھلاڑی بھی ان ہی ٹیموںسے اِدھر اُدھرآتے جاتے رہے ہیں۔ اسلئے پلیئر ان ٹیموں کی حکمت عملیوں پر نظر بھی رکھتے ہیں اور کھلاڑیوں کے کھیل اور تکنیک کو بھی خوب سمجھتے ہیں ۔ ایک ٹیم الائنس کہلاتی ہے اور ’’مکافات عمل ‘‘ نے اُن ساری ٹیموں کو اس نام کی چھتر چھایا مہیا کی ہے جو کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کی حریف تھیں۔ جنہوں نے جموں و کشمیر میں مرکز کے تحت سرکاریں پیدا کی ہیں اور کشمیری عوام سے مکمل علیحدگی اختیار کرکے مرکزی مفادات کی بے پناہ نگہبانیاں کرتی رہی ہیں۔یہ ٹیم جو ۵ اگست کے پس ِ منظرمیں ا بھر آئی اور جس کی سر براہی فا روق عبداللہ کر رہے ہیں ، اس میں پی ڈی پی اور سجاد لون وغیرہ کی پارٹیاں ہیں ، جنہیں موجودہ سرکار’’ ٹکڑے ٹکڑے گینگ ، پاکستانی الائنس ،دیش دشمن‘‘ وغیرہ کے کئی ناموں سے موسوم کرتی ہے لیکن حق یہ ہے کہ یہ پارٹی ان زمروں میں کسی طرح نہیں پڑتی ۔ اس کے لئے صرف ایک جملہ کافی ہوگا کہ تاریخ گواہ ہے کہ شیخ عبداللہ نے عوام کی خواہشات ،آرزؤں اور امنگوں کے خلاف بھارت کے ساتھ الحاق کو ترجیح دی تھی جس کے نتیجے میں آج بھی کشمیر بھارت کا حصہ قرار پاتی ہے اور اگر بی جے پی اس کی قدرداں اور قدر شناس نہیں تو یہ ان کا ظرف اور تاریخ سے نابلد ہونے کا عکاس ہے لیکن تاریخ کو بدلا نہیں جاسکتا۔
یہ الائنس اپنا موقف اور بیانیہ یوں رکھتا ہے کہ وہ35-Aاور370 کی واپسی کے لئے جدوجہد کریں گے۔جدوجہد کے لئے ان کے پاس کون سے میدان ہیں، اس بارے میں یہ خاموش ہیں سوائے اس کے کہ ایسا کہنے کے لئے ان لوگوں نے سپریم کورٹ کے دائرے میں بال پھینک رکھی ہے اور ’’اپنی پارٹی‘‘ بھی سپریم کورٹ کاحوالہ دبے دبے الفاظ میں ضرور دے رہی ہے لیکن واشگاف الفاظ میں واضح اور صاف موقف رکھتی ہے کہ یہ گمراہ کن پروپگنڈا ہے۔یہ باتیں جو گئی ہیں ، ماضی تھا اور نہ تو ماضی کے ساتھ مستقبل میں جیا جاسکتا ہے اور نہ آگے بڑھا جاسکتا ہے ۔شاید ان کا کہنا اسطرح سے ہے کہ ’’370اور35-Aکی لاشوں کو اپنے کندھے پر سوار رکھ کر آپ آگے سفر نہیں کر سکتے ۔ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی جیسی ہند نوازپارٹیوں کو ٹکڑے ٹکڑے اور پاکستان نواز گینگ سے تشبیہ دینا اُن افراد کے دل کو بہلاسکتی ہے جنکی خمیر ہی منافرتوں اور تعصب سے گوندھی گئی ہو۔ اس کے بر عکس ’’اپنی پارٹی ‘‘ بقول سید الطاف بخاری صرف نو مہینے کا بچہ ہے اور کچھ اورنظریہ اور سوچ و فکر کی غماز ہے ۔
کچھ نقاط ابھارنے کی کوشش میںشاید آپ دونوں کی کیمسٹری سے اچھی طرح واقف ہوں۔ پہلے یہ کہ سید الطاف بخاری جموں و کشمیر کے دولت مند ترین افراد میں شمار ہوتے ہیں ۔ ڈائیتھین کی وجہ سے بہت ہی معروف بزنس ٹائیکون ہیں ۔پہلی بار سیاسی آسمان پر اُس وقت طلوع ہوئے جب مفتی مر حوم نے پی ڈی پی کی سنگ بنیاد ڈالی تھی ۔امیرا کدل حلقے سے انتخابات جیتے اور اسمبلی میں آگئے۔ پی ڈی پی ہی میں منسٹری کے پد پر فائض ہوئے۔ سیاسی بیک گرائونڈ نہ رکھنے کے باوجود الطاف صاحب سیاسی پینترے بازی اور سیاسی قلابازیوںکے ماہر ہیں۔آخر کار سید الطاف بخاری نے 8 مارچ2020کو’’ا پنی پارٹی ‘‘ کے نام سے یہ پارٹی لانچ کی۔ جمہوریت میں اس بات پر کوئی قدغن نہیں اور نہ ہی کسی شہری پر کوئی نئی سیاسی پارٹی بنانے اور چلانے کی پابندی عائد کی جاسکتی ہے لیکن کسی بھی نئی پارٹی کے خدو خال اور عناصر تراکیبی اس پارٹی کے اہداف اور منازل سمجھنے میں آسانیاں فراہم کرتے ہیں۔ دیکھا جائے تو نئے ماحول میں یوں بھی بہت زیادہ مغز کھپائی کی کوئی ضرورت نہیں بنتی کیونکہ تمام نئی اور پرانی سیاسی پارٹیوں کا آخری مقصد ’’اقتداربرائے ذات ‘‘ہوکررہ گیا ہے جس سے تعمیر و ترقی کے لباس میں ملبوس کیا جاتا ہے۔ اس نئی پارٹی نے بھی تعمیر و ترقی کو ہی اپنا اوڈھنا بچھونا بنایا ہے ۔ اپنے روڈ میپ میں جموں و کشمیر کوریاست کا درجہ واپس دلانے اور جموں و کشمیر کے باشندوں کو زمین اور ملازمتوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کی بات کی ہے۔اس نئی پارٹی نے35-A اور دفعہ370کا کوئی تذکرہ اپنے جاری کردہ روڈ میپ میں نہیں کیا ہے بلکہ ان کا واضح نظریہ ہے کہ یہ سب قصہ ٔپارینہ ہے ۔پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ زمینی سطح پر ملازمتوں اور کشمیر کی سر زمین اور 370اور35-Aکے ساتھ جڑی ضمانتوں کی نگہبانی کیسے اور کن دائروں میں رہ کر کریں گے ؟یہ واضح نہیں اور ایسے کسی روڈ میپ کا یہ تذکرہ نہیں کرتے .ہاں یہ پارٹی بھی سپریم کورٹ کی بات ضرور کرتی ہے لیکن مکمل بے دلی کے ساتھ ، کیونکہ ابھی کل ہی بخاری صاحب نے اپنے پارٹی کنونشن میں واضح کیا ہے کہ ’’ جذباتی اور گمراہ کن سیاست اب قصہ پارینہ ہوچکی ہے اور ہم زمینی حقائق کو نظر انداز نہیں کرسکتے ‘‘۔ان کے مو قف کو بالکل واضح انداز میں یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ ’’جو کچھ بھی موجود ہے اس پر قناعت اور صبر کیا جائے ‘‘ اور کشمیر کی ترقی کے ترانے بلند آواز اور سریلے سروں میں گائے جائیں اور اس کیلئے ’’ ا لائنس ‘‘میں جمع بہت پرانے سیاسی بر گدوں کو سیاسی منظر نامے سے اپنے بڑھاپے اور ایک طویل مدت تک ، نمک کی ڈلیوں اور سبز رومالوں کے بل پر مسترد کیا جائے ۔
دونوں پارٹیاں الحاق تسلیم کرتی ہیں ۔دونوں کی خمیر میں الحاق کا حتمی پانی نمی بخشتا ہے ۔الائنس ’’اپنی پارٹی ‘‘کے بارے میں اپنے حلقوں میں کیا تاثر دیتی ہے اور کن بنیادوں پر مخاصمت پر آمادہ ہے ، ایک یہ کہ ’’ اپنی پارٹی ‘‘بی جے پی کی بی ٹیم ہے ۔ظاہر ہے کہ اس کامقصد یہ ہوسکتا ہے کہ اس پارٹی کو بی جے پی کا ہی آشیرواد حاصل ہے۔یہ عوام کے لئے ایک گورکھدھندے کی بات ہے۔ نہیں تو کشمیر کی کونسی سرکار اب تک مرکزی سرکار کی بی ٹیم نہیں رہی ہے کیونکہ جہاں ایک بار شیخ محمد عبداللہ نے کانگریسیوں سے سوشل بائیکاٹ کی کال دی تھی ، انہیں جنازوں سے محروم کیا تھا اور انہیں گندی نالے کے کیڑے کہا تھا ،وہاں انہوں نے اور فاروق عبداللہ نے ایک مدت تک ان کی شراکت میں اقتدار سنبھالا تھا ، اور 75 کا اندرا عبداللہ ایکارڈ، جس نے شیخ صاحب کو اقتدار پر بٹھایا تھا، وہ بھی کانگریس کے ساتھ باہوں میں باہیں ڈالنے اور بڑی پیاری قربتیں بڑھانے کا اظہار تھا ۔اقتداری سیاست جس میں کوئی اور منزل اور اہداف ہی نہ ہوں، اسی طرح کے کھیل تماشوں کی آماجگاہ ہوتی ہے ۔
5 اگست کے بعد کشمیر نشین سبھی ہند نواز سیاسی جماعتوں کا بیانیہ مکمل طور پر بدل چکا ہے۔ کل تک این سی کا موقف اور سارا مال ہی’’ اٹانومی‘‘کے گوداموں سے موصول ہوتا تھا اور پی ڈی پی کی شو روم بھی ایک مبہم لفظ سیلف رول پر ٹکی تھی۔دیکھا جائے تو اُس وقت بھی الفاظ کے ہیر پھیر کے بغیر دونوں جماعتوں کا مطلوب اقتدار تھا اور آج بھی معمولی الفاظ کے ہیر پھیر کے بغیر دونوں میں کوئی واضح فرق کہیں سے نظر نہیں آتا ۔بغور جائزے سے اسی بات کا ادراک ہوتا ہے کہ رنگ ڈھنگ ، چال ڈھال اور شکل و صورت کے لحاظ سے دونوں میں کوئی واضح فرق نہیں۔ اس کے بغیر کہ میک اپ اور لپ اسٹک کا طرزاستعمال تھوڑا سا مختلف ہے۔ بی جے پی کے امید وار بھی ان انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ۔میں نے ان کا تذکرہ اس لئے نہیں کیا کیونکہ ریفری صاحباں آخری لمحات میں بھی میچ کے نتائج بدل دیتے ہیں جس طرح سے ایک زمانے میں ’’مف‘‘ اور نیشنل کانفرنس کے انتخابی نتائج غیر متوقع اور حیراکن رہے تھے۔ یہ بات یوں لکھی ہے کہ وقت کا پہیہ جو گھومتا ہے کسی کے روکے نہیں رکتا اور آپ زمانے کے مکافات عمل پر کسی طرح باندھ نہیں باندھ سکتے ۔
رابطہ ۔سوپور کشمیر
برقی پتہ۔[email protected]