اختر معراج
دل سے کبھی نام و نشان مٹا نہیں گیا تھا۔
ایک نئی مصیبت نے جیسے اچانک چار دیواری پر دستک دی تھی۔
گھر کے اندر رہ کر کسی نے اس کی باتیں نہیں سنیں مگر اس کی آواز اس قدر در و دیوار سے ٹکراتی کہ پورے محلے کو خبر ہو جاتی۔
’’روز کوئی نہ کوئی بہانہ سامنے آ ہی جاتا ہے… مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ بہتر یہی ہوگا کہ آپ خود اس سے بات کریں، مجھ سے اب برداشت نہیں ہوتا۔‘‘
’’ٹھیک ہے بھئی، غصہ مت ہو۔ میں خود دیکھ لوں گی۔ تمہارے والد صاحب جوں ہی گھر آئیں، مجھے اطلاع کرنا۔‘‘
’’راشد کہاں ہے؟‘‘
’’کھیت میں گیا ہوگا۔ جب سے آیا ہے، بس وہیں جاتا ہے۔ مجھے لگتا ہے… وہ کسی کی محبت میں پڑ گیا ہے۔‘‘
’’نہیں نہیں، ایسا مت کہو۔ شادی کو چند ہفتے باقی ہیں۔ پندرہ سال جس لڑکی سے محبت کی ہو، اسے وہ اتنی آسانی سے نہیں بھول سکتا۔ یہ آپ کی غلط فہمی ہے، امی۔‘‘
’’بڑی عجیب لڑکی ہو رضیہ! اپنے ہی بھائی کے بارے میں ایسا سوچتی ہو؟‘‘
’’جو سچ ہے، اسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا… پھر آپ کی مرضی۔‘‘
رضیہ یہ کہہ کر چلی گئی، مگر اس کے الفاظ کمرے میں ایسے ٹھہر گئے جیسے کسی نے سچائی کو قید کر دیا ہو۔
شام ڈھلنے لگی تھی۔ دروازے پر دستک ہوئی۔
راشد اپنے والد کے ساتھ اندر آیا۔ اس کے چہرے پر عجیب سی تھکن اور آنکھوں میں چھپی بے چینی صاف نظر آ رہی تھی۔
’’راشد، تم سے کچھ بات کرنی ہے…‘‘
’’ابھی نہیں امی… میں تھکا ہوا ہوں…‘‘
وہ سیدھا اپنے کمرے میں چلا گیا۔
ماں نے اسے جاتے دیکھا، اور دل میں ایک انجانا سا خوف اتر آیا۔
رات گہری ہو چکی تھی۔
ماں نے آخرکار ہمت کر کے راشد کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
’’راشد… دروازہ کھولو بیٹا…‘‘
دروازہ کھلا۔
’’یہ تمہاری خاموشی… آخر بات کیا ہے؟‘‘
راشد کی آنکھیں نم تھیں۔
’’امی… میں نے بہت کوشش کی… مگر میں اسے نہیں بھول پایا…‘‘
’’کسے…؟‘‘
’’وہ لڑکی… جس سے میں پندرہ سال سے محبت کرتا ہوں…‘‘
ماں ساکت رہ گئیں۔
’تو بتایا کیوں نہیں؟‘‘
’’کیونکہ ابو کبھی مانتے نہیں… اور اب میری شادی طے ہو چکی ہے…‘‘
اسی لمحے رضیہ دروازے پر آ کھڑی ہوئی۔
’’میں نے کہا تھا نا امی… سچ یہی ہے…‘‘
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
کچھ دیر بعد ماں نے آہستہ سے کہا:
’’کل ہم اس لڑکی کے گھر جائیں گے…‘‘
اگلے دن فضا میں عجیب سا تناؤ تھا۔
وہ تینوں اس گاؤں کی طرف گئے جہاں وہ لڑکی رہتی تھی۔
دروازہ کھلا۔
ایک ضعیف عورت سامنے آئی۔
’’جی؟‘‘
’’ہم… آپ کی بیٹی سے ملنے آئے ہیں…‘‘
عورت کی آنکھوں میں حیرت ابھری… پھر ایک گہرا سناٹا۔
’’آپ کو… نہیں بتایا گیا؟‘‘
’’کیا؟‘‘
’’وہ… اب اس دنیا میں نہیں رہی…‘‘
یہ الفاظ جیسے بجلی بن کر گرے۔
راشد کے قدم لڑکھڑا گئے۔
’’نہیں… یہ نہیں ہو سکتا…‘‘
عورت نے آہستہ سے کہا:
’’دو سال پہلے… اس کی شادی کہیں اور کر دی گئی تھی… مگر وہ اس رشتے کو قبول نہ کر سکی… دن بدن ٹوٹتی گئی… اور ایک دن…‘‘
بات ادھوری رہ گئی، مگر سب کچھ واضح ہو چکا تھا۔
راشد کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
’’وہ کھیت… جہاں میں جاتا ہوں… وہ وہیں آیا کرتی تھی…‘‘
اس کی آواز ٹوٹ گئی۔
گھر واپس آ کر سب کچھ بدل چکا تھا۔
اب وہ آوازیں جو دیواروں سے ٹکراتی تھیں… خاموش ہو گئی تھیں۔
راشد پہلے کی طرح کھیت تو جاتا تھا، مگر اب وہاں کوئی انتظار نہیں تھا، صرف یادیں تھیں۔
چند ہفتوں بعد اس کی شادی ہو گئی۔
اس نے زندگی کو قبول تو کر لیا… مگر دل کے کسی کونے میں ایک نام ہمیشہ کے لئے دفن ہو گیا۔
کبھی کبھی سچی محبتیں شور نہیں کرتیں…
وہ بس خاموشی سے ختم ہو جاتی ہیں…
مگر ان کی گونج…
ہمیشہ در و دیوار سے ٹکراتی رہتی ہے۔
���
سرینگر، کشمیر
موبائل نمبر؛7780819606