گول//جہاں مرکزی سرکار نے ہر اڑھائی سو چولہے والے گاﺅں کو سڑک کے ساتھ جوڑنے کاایک مشن شروع کیاتھا اورپی ایم جی ایس وائ(پریم منسٹر گرام سڑک یوجنا) سکیم کے تحت پورے ملک میں اگرچہ کافی چرچاہے لیکن ضلع رام بن کے گول سب ڈویژن میں یہ خواب ابھی تک شرمندہ تعبیرنہ ہوسکا۔ گول کاعلاقہ گاگرہ کلی مستا جہاں چارہزارکے قریب آبادی ہے اوریہ علاقے آج اکیسویں صدی میں بھی سڑک جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ اگرچہ یہاں کاایم ایل اے اٹھارہ سال اقتدارمیں رہااور کئی بارکابینہ کاوزیر بھی رہالیکن وہ بھی مقامی لوگوں کویہ بنیادی سہولیت فراہم کرنے میں ناکام رہا۔ وہیں اب لوگوں میں یہ امیدجاگی تھی کہ سرکار نے لوگوں کے بنیادی مسائل جلدحل کرنے کی خاطر اک نیاموڑلیاجس کے تحت پہلے پنچایتی انتخابات ہوئے۔پھر بی ڈی سی اور اس کے بعد ڈی ڈی سی انتخابات عمل میں لائے گئے اورکہاجارہاتھایہ یہ مقامی نمائندے سہولیات حل کرنے میں موثراقدامات اٹھانے میں کامیاب ہوں گے اورڈی ڈی سی چیئرپرسن کوایک وزیر جتنے اختیارات دینے کی باتیں ہورہی تھیں لیکن یہ سب سراب ثابت ہورہی ہیں۔ ضلع رام بن کے سب ڈویژن گول کے علاقہ گاگرہ کی اگر بات کی جائے تو یہاں کی سڑک قریباً بیس سال سے تشنہ تکمیل ہے ۔گیارہ کلومیٹر سڑک پرہرسال دوچار دن کام لگتاہے۔ گوڈری نالہ میں پل جوکہ اہم ہے لیکن اس پرکام شروع ہونے کے ساتھ ہی ٹھپ ہوکررہ گیا۔مقامی شہریوں عبدالرشیدچندیل،عبدالرحمان سہمت اورمشتاق احمدشیخ نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہاکہ کوئی بھی حکومت اس سڑک کی تعمیرپرکوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔مقامی نمائندوں کے ساتھ ساتھ گورنرانتظامیہ بھی سڑک کومکمل تعمیرکرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ گوڈری نالہ کے مقام پر ایک ماہ قبل ڈی ڈٰ سی چیر پرسن ڈاکٹر شمشادہ شان نے پل کا افتتاح بھی کیا تھا لیکن چند دنوں کے بعد ہی نا معلوم وجوہات کی بنا ءپر پل پر تعمیری کام بند کر دیا گیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ کلی مستا کے مقام سے ہی یہ سڑک سیاست کا شکار ہوئی جس وجہ سے من مرضی اراضی کی کٹائی ہوئی اب یہاں کی عوام چاہتی ہے کہ جہاں سے سڑک کے لئے کٹائی ہوئی اسی کو گاگرہ کے ساتھ جوڑا جائے اور کلی مستا کے مقام پر چند ایک مقامات روڈ کے بیچ میں ہیں جس وجہ سے یہاں سے آگے گاڑی نہیں جا پا رہی ہے اور اگر اس مکان کو ہٹایا جائے گا اور یہاں پر جے سی بی لے کر اراضی کی کٹنگ کی جائے گی تو گاڑی آگے جا سکے گی لیکن آگے سے قریباً ایک ڈیڑھ کلو میٹر پر بقایا ہے جہاں اراضی کی کٹائی کسی بھی صورت میں ضروری ہے تا کہ یہاں علاقے گاگرہ کے ساتھ سڑک کو جوڑا جا سکے ۔انہوں نے گورنرانتظامیہ سے ایک بارپھرمطالبہ کیاکہ جلدازجلد سڑک پردوبارہ کام شروع کیاجائے اورلوگوں کے ساتھ انصاف کیاجائے۔