گول کو الگ سے اسمبلی حلقہ کا درجہ دیا جائے

گول//جموںو کشمیر میں اسمبلی حلقوں کی حد بندی کا زور وشور جاری ہے اور چھ جولائی سے کمیشن کی آمد جموںو کشمیر کے سلسلے میں نئی اسمبلی حلقوں کی حد بندی کے سلسلے میں گول میں تمام پارٹیاں ایک ہو گئی ہیں اور گول کو الگ سے اسمبلی حلقہ کا درجہ دینے کی مانگ کی ہے ۔ اس سلسلے میں آج ڈی ڈی سی چیر پرسن ضلع رام بن ڈاکٹر شمشادہ شان ، ڈی ڈی سی ممبر گول داڑم چوہدری سخی محمد کے علاوہ تقریباً تمام سرپنچوں و پنچوں و معزز شہریوں سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے اس میٹنگ میں شرکت کی ۔ ڈاک بنگلہ میں میٹنگ میں تمام پارٹیوں سے تعلق رکھنے والوں نے پارٹی بنیاد سے اوپر اُٹھ کر گول کو اسمبلی حلقہ کا درجہ دینے کی زور دار مانگ کی ۔ یہاں پر مقررین نے کہا کہ گول جو 1996سے قبل گول گلاب گڑھ اسمبلی حلقہ کے ساتھ تھا اور اُس کے بعد نئی اسمبلی حلقوں کی تشکیل کے بعد گول کو ارناس کے ساتھ جوڑا گیا جس کا کسی بھی طرح کا کوئی جوڑ نہیں تھا لیکن سادہ لوح لوگوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکا گیا اور تب سے لے یہاں کی عوام اس چکی میں پسے جا رہے ہیں ۔ مقررین نے کہا کہ جہاں ایک طرف سے ارناس کے دور دراز علاقوں کے ساتھ نا انصافی ہوئی عین اسی طرح سے گول کے ساتھ بھی نا انصافی ہوئی ہے۔ گول جو انتظامیہ کے لحاظ سے ضلع رام بن کے ساتھ پڑتا ہے اور اسمبلی اس کی ضلع ریاسی کے ساتھ ہے۔ گول کے ساتھ ہمیشہ سے نا انصافی ہو تی آ رہی ہے اب وقت آ گیا ہے کہ گول کو الگ سے اسمبلی حلقہ کی مانگ جائز ہے اور اس جدوجہد میں یہاں تمام پارٹیاں یکزبان ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر گول کو الگ سے اسمبلی حلقہ کا درجہ نہیں دیا گیا تو ہم عدالت عالیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے سے بھی گریز نہیں کریں گے ۔ اس موقعہ پر ایک یاداشت الیکشن کمیشن آف انڈیا ، لفٹننٹ گورنر جموںو کشمیر ، حدی بندی کمیشن کے نام جاری کیا جس میں تمام پارٹیوں ، سیاسی و سماجی شخصیات و سول سوسائٹیوں نے دستخط کئے ۔