گول//جوں جوں کورونا کیسوں میں اضافہ ہوتاجا رہا ہے اور عید نزدیک آ رہی ہے بازاروں میں بھیڑ بھی بڑھنے لگی ہے او ر کورونا سے بے خوف عوام بلا جھجک کے بازاروں میں دھوم دھام سے پھر رہے ہیں ۔جہاں ایک طرف سے بنک میں صارفین کی بھیڑ کسی خطرے سے کم نہیں وہیں دکانوں میں بھیز بھی کم نہیں ہے ۔ اگر چہ انتظامیہ اور پولیس نے لوگوں کوماسک استعمال کرنے ، سماجی دوریاں پیدا کرنے کے احکامات جاری کئے لیکن وہ صرف سوشل میڈیا اور لوڈ اسپیکر تک ہیں محدود ہیں ۔ زمینی سطح پر کوئی ٹھوس اقدامات نظر نہیں آ رہے ہیں ۔ حالیہ دنوں سلبلہ کو کنٹمنٹ زون قرار تو دیاتھا لیکن وہ صرف برائے نام تھا ۔عید کی شاپنگ کے لئے لوگ بھی بلا خوف پورے عیال کے ساتھ بازاروں کارخ کرتے ہیں جس میں نو زائد بچے جو بناء ماسک کے ہوتے ہیں بازاروں میںٹولیاں لے کر گھومتے ہیں ۔اس طرح سے یہ لوگ نہ صرف دوسروں کے لئے خطرہ ہیں بلکہ اپنے بچوں کا بھی کوئی خیال نہیں رکھتے ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف رشتہ داری ، دوستی کے بجائے کاروائی کی جائے اور لوگوں کو چاہئے کہ وہ ایس او پیز کا خاص خیال رکھتے ہوئے اپنی عیال کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ نہ کریں سخت ضروری کام کے لئے ہی گھر سے نکلیں اور بازار سے ضروری سامان کی خریداری کے لئے پورے پریوار کے بجائے ایک فرد ہی گھر سے باہر نکلے تا کہ بازار میں رش کم ہو اور خطرہ بھی کم ہو ۔