گول// گول میں من مانی کرایہ ، اور لوڈنگ ایک معمول سا بن چکا ہے اوراب گاڑیوں نے حدیں بھی پار کر دی ہیں۔ جہاں سات سواریاں بٹھانی مطلوب ہیں وہیں دس سے گیارہ سواریوں پر بھی چلتا تھا لیکن اب یہاں پر بارہ سے پندرہ سواریاں ایک معمول بن چکا ہے اور چھت بھی خالی نہیں ہوتا ہے اس طرح سے یہاں یہ ماحو ل کسی بڑے حادثے کو دعوت دے رہا ہے۔ گول سے ٹھٹھارکہ ، مہا کنڈ وغیرہ سڑکوں پر دوڑنے والی سومو گاڑیاں بے لگام ہو چکی ہیں اور جیسا یہاں پر ان کا ہی راج ہے گزشتہ روز گول بازار سے نکلنے والی سومو کو جب دیکھا کہ فرنٹ سیٹ جہاں ڈرائےور بھی ہوتا ہے ڈرائےور سمیت چار سواریاں بیٹھی ہوئی ہیں جبکہ اس جگہ پر تین سواریاں بٹھانا معلوم ہے اور بیچ والی سیٹ پر جہاں تین سواریاں ہی بیٹھتی ہیں وہاں پر بچے سمیت پانچ سواریاں بٹھائی گئی تھیں اور پیچھے والی سیٹ پر چار تو عام طو رپر بیٹھتی ہیں لیکن جب یہاں نظر دی تو ایسا لگ رہا تھا کہ چھ سے کم نہیں ہیں ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سومو والے نے پندرہ سواریوں سے کم نہیں بٹھائی ہو گی ۔ اگر چہ اس سلسلے میں ایس ڈی پی او گول کو بھی مطلع کیا تھا لیکن تا ہم پولیس نے ابھی تک کوئی کاروائی انجام نہیں دی ۔ مقامی لوگوں نے پولیس سے مطالبہ کیا کہ وہ سومو گاڑیوں کی جانب سے اس طرح من مانی پر قابو پائیںکیونکہ یہ من مرضی سے کرایہ لیتے ہیں وہیں من مرضی سے سواریاں بھی بٹھاتے ہیں ۔ پولیس انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ گول سے جڑنے والی تمام روٹوں کا کرایہ مقرر کر کے ایک ریٹ لسٹ جاری کریں تا کہ عام لوگوں کے ساتھ انصاف ہو۔