زاہد بشیر
گول // سب ڈویژن گول اور اس سے ملحقہ علاقوں میں زرعی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور نوجوانوں کو خود روزگار کی جانب راغب کرنے کے لیے شہد کی مکھی پالنے سے متعلق سات روزہ تربیتی پروگرام کامیابی کے ساتھ جاری ہے، جسے مقامی عوام کی جانب سے بھرپور سراہا جا رہا ہے۔یہ تربیتی پروگرام مرکز برائے زراعت و دیہی ترقی کے زیر اہتمام محکمہ زراعت رام بن کے اشتراک سے منعقد کیا جا رہا ہے جبکہ اس کے اخراجات جموں و کشمیر بینک کی جانب سے سماجی ذمہ داری کے تحت برداشت کیے جا رہے ہیں۔یہ تربیت ایک ہفتہ پر مشتمل ہے جس میں سے دو دن مکمل ہو چکے ہیں جبکہ مزید پانچ دن کی تربیت ابھی باقی ہے۔ اس دوران شرکاء کو شہد کی مکھیوں کی نگہداشت، بیماریوں سے تحفظ، شہد کی پیداوار میں اضافہ اور شہد کو بہتر انداز میں محفوظ و فروخت کرنے کے طریقوں کے بارے میں عملی اور نظری دونوں طرح کی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔مقامی لوگوں ، نوجوانوں اور کسانوں نے اس اقدام کو نہایت مفید قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی تربیت سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں بلکہ لوگ خود کفیل بھی بن سکتے ہیں۔ لوگوںکا کہنا ہے کہ اگر اس کے ساتھ مالی معاونت اور منڈی تک رسائی بھی فراہم کی جائے تو یہ شعبہ ایک منافع بخش ذریعہ معاش بن سکتا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس پروگرام میں خود امدادی گروپوں اور قومی دیہی روزگار مشن سے وابستہ خواتین اور نوجوان بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، جس سے خواتین کی معاشی خود مختاری کو فروغ مل رہا ہے۔محکمہ زراعت کے مطابق شہد کی مکھی پالنے کے شعبہ کو فروغ دینے کے لیے حکومت کی جانب سے مختلف اسکیمیں دستیاب ہیں جن کے تحت دلچسپی رکھنے والے افراد کو تقریباً اسی فیصد تک مالی رعایت فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ آسانی سے اس پیشے کا آغاز کر سکیں۔ اس کے علاوہ تربیت مکمل کرنے والوں کو مزید رہنمائی بھی فراہم کی جاتی ہے۔محکمہ زراعت نے علاقے کے نوجوانوں، کسانوں اور دیگر دلچسپی رکھنے والے
افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ اس جاری تربیتی پروگرام سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس میں شرکت کریں کیونکہ ابھی پانچ دن کی تربیت باقی ہے جو ان کے مستقبل کے لیے نہایت سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ اس طرح کے عوامی فلاحی پروگرام اگر مستقل بنیادوں پر جاری رکھے جائیں تو ضلع رام بن خصوصاً گول جیسے دور دراز علاقوں میں بے روزگاری کے خاتمے اور معاشی بہتری میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔