عام اور غریب لوگوں کی جدید طبی سہولات تک رسائی کو ممکن بنانے کے لئے مرکزی حکومت نے پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا(پی ایم جے اے)نام کی انقلابی سکیم شروع کی ہے۔ ہندی لفظ ’’آروگیہ‘‘ کا مطلب ہے بیماری سے پاک۔ سکیم کے تحت بنیادی معلومات کی جانچ کے بعد ہر شہری کو ایک سنہری پرچی یعنی گولڈ کارڈ ملتا ہے، جسے دکھا کر وہ ہندوستان کے کسی بھی ہسپتال میں اپنا یا اپنے اقرباء کا مفت علاج کرواسکتا ہے۔ علاج پر مصرف کی حد پانچ لاکھ روپے مقرر ہے۔
ظاہر ہے جدید دور میں بیماریاں جس قدر پیچیدہ ہیں اسی قدر اُن کا علاج بھی مہنگا ہے۔ایسے میں پی ایم جے اے واقعی ایک انقلابی قدم ہے جس کی سراہنا کی جانی چاہئے۔ دسمبر کے اواخر میں وزیراعظم نریندر مودی نے انٹرنیٹ کے ذریعہ کے جموں کشمیر میں اس سکیم کا افتتاح کیا اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ چالیس روز کے دوران دس لاکھ سے زیادہ گولڈ کارڈ تقسیم کئے گئے ہیں اور ڈیڑھ سو سے زیادہ شہریوں نے کارڈ سے استفادہ کرتے ہوئے مختلف ہسپتالوں میں علاج کروایا ہے۔
یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ کشمیر کے مقابلے جموں میں انتظامیہ بہت فعال ہے اور افسروں کی تساہل پسندی یا عملے کی کہالت کسی بھی سکیم کو عملانے میں مانع نہیں ہوتی۔
لیکن کشمیر کا تو باوا آدم نہیں نرالا ہے، یہاں مرکزی حکومت کی سکیموں پر لوازمات کی اتنی دیواریں چڑھائی جاتی ہیں کہ عام لوگ ان سکیموں سے ہی توبہ کرلیتے ہیں کْجا کہ ان سے فائدہ اٹھاسکیں۔ میں ذاتی طور بھی اس سکیم سے بہت متاثر ہوا۔ اوسط درجے کا ایک پینشنر ہونے کے ناطے میں نے بھی اس سکیم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی، لیکن لوازامات کی خانہ پری کے دوران جو کچھ ہوا وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیر میں مسئلہ پالیسی کا نہیں بلکہ پالیسی پر ناقص عمل کا ہے۔ آئیے میں آپ کو اُن مراحل کی سیر کراتا ہوں جو کشمیر میں ایک عام شہری کو گولڈ کارڈ حاصل کرنے کے لئے دیکھنے پڑتے ہیں۔
پہلا دِن: مردم شماری میں اندراج نہیں !
حسب ِ اعلان میں نزدیکی خدمت سینٹر پہنچا جہاں معلوم ہوا کہ میں اور میرے اہل خانہ کا تو ریکارڈ میں اندراج ہی نہیں ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 2011 کی مردم شماری میں ہمیں شامل ہی نہیں کیا گیا۔ میں ایک دم بوکھلا کر گھر واپس آیا اور وہ رسید ڈھوند نکالی جو مردم شماری سٹاف نے بوقتِ ریکارڈ مجھے تھمائی تھی۔ واپس خدمت سینٹر پہنچا تو معلوم ہوا کہ ریکارڈ سے صرف میرا نام غائب نہیں بلکہ کشمیر کی غالب اکثریت کو درج ہی نہیں کیا گیا۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ حکام پر جب اپنی غلطی کا انکشاف ہوا تو اس کا علاج یہ نکالا گیا کہ ایسے افراد کا دوبارہ اندارج کیا جائے گا اور اس عمل کے بعد اُنہیں گولڈ کارڈ کا اہل قرار دیا جائے گا۔
فائنانشل کمشنر ہیلتھ کی طرف سے باقاعدہ حکمنامہ موجود ہے جس میں بتایا گیا کہ بعض متعلقہ افسروں کی طرف سے لوگوں کی شہریت کنفرم کی جائے گی اور بعد میں متعلقہ تحصیل دار معاملے کی سفارش کرے گا۔ اس سارے عمل کے لئے سرکاری طور پانچ دن مقرر کئے گئے ہیں، اور میں پہلا دن گنوا چکا تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مردم شماری کے لئے تعینات سٹاف کو معطل کیا جاتا ، اس قدر بڑی غلطی کے مرتکب ملازمین کے خلاف کاروائی ہوتی اور ایک مثال قائم ہوجاتی کہ موٹی تنخواہیں لینے کے باوجود ملازمین حساس معاملات میں بھی غفلت کیسے برت سکتے ہیں۔ لیکن اُلٹا یہ ہوا کہ دوبارہ اندراج کا عمل اس قدر پیچیدہ اور مشکل بنادیا گیا کہ عمررسیدہ شہری، بیوہ عورتیں اور سادہ لوح عوام در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں تاکہ اْن کی فائل گولڈ کارڈ کے اجراء کی اہل ہوجائے۔
دوسرا دن: مخلص پٹواری، مغرور وارڈ افسر
کبھی کبھی سسٹم کی غلطی کو اپنی قسمت سمجھ کر سادہ لوح شہری آگے بڑھتے ہیں۔ یہی میں نے بھی کیا۔ مردم شماری میں ہوئی بے ضابطگیوں پر ناراض ہونے کی بجائے میں نے بھی انتظامیہ کے اُس جگاڑ کا بیڑا اُٹھایا جو اس غلطی کا ازالہ کرنے کے لئے متعارف کیا گیا تھا۔ ایک نیا فارم اجراء کیا گیا تھا۔ لیکن میں دفتر پہنچا تو بتایا گیا کہ فارم یہاں نہیں باہر فوٹو سٹیٹ والے سے پچاس روپے کے عوض خریدنا ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ اربوں روپے کے بجٹ میں ایک عدد فارم بھی نہیں، وہ بھی باہر سے خریدنا ہے۔
خیر، اس فارم پر نصف درجن افسروں کے ستخط مطلوب تھے اور سائل کو خود الگ دفاتر کے چکر لگا کر یہ دستخط کروانے تھے۔ فارم پر پٹواری، میونسپل وارڈ افسر، سٹورکیپر(گھاٹ منشی)، تحصیل سپلائی افسر، محلے کی آشا ورکر، بلاک میڈیکل افسر اور آخر پر تحصیل دار کے دستخط کروانے تھے۔ بہر حال میں نے کمر کس لی۔ متعلقہ دستاویزات لے کر میں پٹواری کی تلاش میں نکلا۔ میں جب کرن نگر میں پٹواری کے دفتر پہنچا تو حیران رہ گیا۔ پٹواریوں کی پہچان ہی کچھ ایسی ہے کہ صفدر حْسین کا دفتر دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ باقاعدہ دفتر، اور کورونا کی وجہ سے بہترین فاصلے کا انتظام اور باقاعدگی سے ہورہے کام کو دیکھ کر میںحْسین صاحب کی تعریف کئے بنا نہ رہ سکا۔ لیکن صفدر صاحب دستخط کرنے سے ہچکچائے اور کہا کہ پہلے دیگر افسران کا دستخط ہوجائے تو وہ بھی کریں گے۔
کافی منت سماجت کے بعد وہ راضی ہوئے ا ور دستخط کرلیا۔ لیکن اْن کا رویہ نہایت معقول اور ہمدردانہ تھا۔ اْن کے شفاف رویے اور مشفقانہ طرزعمل نے مجھے لوازمات کا یہ مشکل سفر طے کرنے کا حوصلہ دیا۔میں نے فوراً راشن گھاٹ کی راہ لی، لیکن اُدھر پہنچا تو سٹورکیپر صاحب گھر جاچکے تھے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ گھر جاکے دستخط لے لوں، اُن کے گھر پہنچا تو اُنہوں نے بھی طرح طرح کے سوال کئے مگر بہرحال دستخط کرڈالا۔
تیسرا دن: وارڈ افسر کو لگا وہ جج بن گیا !
آشا ورکر دراصل سوشل ویلفیئر محکمہ کے زیرنگرانی چلنے والی بہبودِ اطفال کی ایک سکیم کے تحت کام کرنے والی ایک خاتون ہوتی ہے جو بستیوں میں حاملہ خواتین کی مدد کے لئے ہوتی ہے۔ کشمیر میں روایتی طور ایسی خواتین کو دھائی کہتے ہیں۔ لیکن حکومت نے اس عمل کو باقاعدہ صحت عامہ کے ساتھ جوڑ کر اچھا کام کیا ہے۔ لیکن آشا ورکر کو ڈھونڈنا بھی کارِ دارد والا معاملہ ہے۔ کسی طرح میں نے اپنی متعلقہ آشاورکر کو ڈھونڈ لیا تو اْس نے بھی بہت چائو سے دستخط کیا۔ اب باری تھی میونسپلٹی کے وارڈ افسر کی۔ ظاہر ہے وارڈ میں اُن کا کام گشت ہوتا ہے تو اس بہانے سے وہ کبھی دفتر میں نہیں ملتے۔ دفتر سے پتہ چلا کہ کس طرف گئے ہیں تو میں اُسی طرف نکلا اور ڈھونڈ نکالا۔ میں نے فائل دکھائی تو وارڈ افسر نے تیوری چڑھائی، ایسا لگا میں کسی عدالت میں جج کے سامنے ہوں اور وہ میرے خلاف چارج شیٹ کا معائینہ کررہے ہیں۔کہنے لگے ’’آپ کی جانچ ہوگی، آپ سارے کاغذ لائو، مجھے دیکھنا ہوگا کہ ٓاپ کون ہیں، کہاں رہتے ہیں۔‘‘ اس جواب سے میں حیران بھی ہوگیا اور مشتعل بھی۔ حالانکہ سرکاری حکمانے میں وارڈ افسر کا نام نہیں ہے، لیکن تحصیل دار نے جب درخواست کو مارک کیا تو اُس نے سبھی لوگوں کو ذکر کرتے ہوئے وارڈ افسر لکھ دیا تھا، میں بے بات پوری واضح کردی اور بتادیا کہ یہ دراصل حکومت کی غلطی ہے اور مردم شماری میں ہوئی غلطی کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ جیسے تیسے وارڈ افسر نے طویل بحث اور اپنی افسری کا مظاہرہ کرنے کے بعد دستخط کردئے۔
چوتھا دن: تحصیل سپلائی افسر کے نخرے
محکمہ امورِ صارفین پہنچا، در در بھٹکا اور معلوم ہوا کہ سپلائی افسر موجود نہیں ہیں۔ گیارہ بج چکے تھے، لیکن صاحب دفتر میں نہیں تھے۔آخر کار جب پہنچے تو نہایت باریکی سے کاغذات دیکھے اور بولے : ’’میں دستخط نہیں کروں گا، پہلے تحصیل دار کا دستخط کروا کے لائو‘‘۔ میں نے غصے پر قابو پاتے ہوئے کہا کہ جناب یہ تحصیل دار نے ہی فارورڈ کیا ہے۔ بہت بحث اور منت سماجت کے بعد اِن صاحب سے بھی چھٹکارا ملا لیکن پورا دن نکل چکا تھا۔
آخری دن : کیا یہ فائلیں کوڈے دان میں جاتی ہیں؟
اتنے پاپڑ بیلنے کے بعد میں تحصیل دار کے دفتر پہنچا تو بتایا گیا کہ مجھے ذاتی طور پر چیف میڈیکل افسر کے دفتر جاکر فائل جمع کروانی ہے۔چیف میڈیکل افسر ایک ذمہ دار عہدہ ہے اور نہایت مطلوب پوسٹنگ بھی۔ لیکن شہید گنج میں واقع اولڈ سیکریٹریٹ میں سی ایم او دفتر جائیے تو لگتا ہے کسی کباڈ خانے میں پہنچے ہیں۔ ایک میلے کچیلے اور نیم روشن کمرے میں سی ایم او صاحب ملے، میں نے عرض کیا کہ یہ سب کہاں سبمِٹ کرنا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ جواہر نگر میں ایک مکان میں ایک کمرہ ہے جہاں ایک کلاس فورتھ نرسنگ آڈرلی کو ڈیوٹی لگائی گئی ہے، وہی یہ فائلیں جمع کرتا ہے۔ میرے ساتھ ہی 80سالہ بزرگ شہری اور 65 سالہ بیوہ بھی فائل جمع کروانے پہنچے تو ایک نئے مرحلے کی خبر سن کر وہ سانس لینے کے لئے بیٹھ گئے۔ اگر واقعی گولڈ کارڈ کی حتمی تحصیل دار کے دفتر میں جمع نہیں کرنی تھی تو تحصیل آفس کو لوگوں کو ریڈیو اور اخبار کے ذریعہ مطلع کرنا تھا، اور اگر تحصیل دار کے دفتر میں سائلین کو سی ایم او کے پاس بھیجا جاتا ہے تو تحصیل آفس کو معلوم ہونا چاہئے کہ سی ایم او نے یہ کام ایک آڈرلی کو سونپا ہے اور وہ صاحب جواہر نگر میں کرائے کے کمرے میں موجود ہونگے۔ اپنی قسمت کو کوستے اور سسٹم پر ماتم کرتے ہوئے ہم جواہر نگر پہنچے تو نہایت غیرسنجیدگی سے متعلقہ آڈرلی نے فائلیں لے لیں اور ایک دراز میں دفن کردیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ فائلیوں کی تعداد بہت ہے، ایک یا ڈیڑھ ماہ بعد فون پر پیغام آئے گا کہ کیس کا کیا ہوا۔ حالانکہ سرکاری حکمنامے میں باقاعدہ لکھا ہے کہ گولڈ کارڈ تمام لوازامات مکمل ہونے کے ساتھ صرف پانچ دن میں جاری کیا جائے گا۔
آخری بات
نئی صنعتی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے حکومت نے کہا ہے کہ ’’سنگل وِنڈو‘‘ سسٹم کے تحت غیرکشمیری سرمایہ کاروں کے پراپوزل منظور ہوجائیں گے۔ وزیراعظم کی صحت سکیم ایک انقلابی قدم ہے اور مقامی شہریوں کے لئے ہے، اس کے لئے درجن دروازوں کی پالیسی کس طرح جائز ہے۔ اگر واقعی مردم شماری پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود ریکارڈ درست نہیں ہے، تو اس کا خمیازہ عام شہریوں کو کیوں بھگتنا ہے، کیا یہاں کے ملازم مرکزی سرکار کے منصوبوں کو غیرضروری سمجھتے ہیں، یا پھر مرکزی سرکار یہاں کے ملازمین کی سہل انگاری اور غفلت کو جان بوجھ کر نظرانداز کرتی ہے؟ حکام کو ان سوالوں کا جواب دینا ہوگا۔
(کالم نویس معروف سماجی کارکن ہیں)
رابطہ ۔ 9469679449
ای میل۔ [email protected]