سائنسی خبر نامہ…!!!
انس مرزا
پیارے بچو! دنیا میں ایندھن کی دو اقسام پائی جاتی ہیں ایک قسم وہ ہوتی ہے، جسے ایک بار استعمال کے بعد دوبارہ استعمال نہیں کیا جاسکتا، اسے ناقابل تجدید توانائی کہا جاتا ہے۔ ایندھن کی دوسری قسم وہ ہوتی ہے ،جسے ایک بار استعمال کے بعد بھی دوبارہ استعمال کیا جاسکتا ہے اسے قابل تجدید توانائی کہتے ہیں۔ آج ہم آپ کو ایسے ایندھنوں کے بارے میں بتارہے ہیں،جنہیں صرف ایک بار ہی استعمال کیا جاسکتاہے، انہیں انگریزی میںNonrenewable source of energyکہاجاتا ہے۔ ان میں کوئلہ، پیٹرولیم، قدرتی گیس اور نیوکلیائی توانائی energy necular شامل ہیں۔
پیٹرولیم
یہ زمین کی گہرائی میں پایا جاتا ہے، جسے کھدائی کرکے پائپوں کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔ یہ بھی ان درختوں اور جانوروں کی باقیات سے بنا جو لاکھوں سال قبل کیچڑیا لاوے میں دب کر سڑ گئے تھے۔ کوئلے کی طرح پیٹرولیم ایندھن بھی ایک بہت طویل عرصہ تک زمین کی اندرونی گرمی اور دبائو کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ زمین سے نکالے جانے کے بعد، ریفائنری میں صفائی سے قبل یہ خام یعنی کچی حالت میں ہوتا ہے اور پیٹرولیم کہلاتا ہے۔ صفائی کے بعد پیٹرولیم کو فرنیس آئل، گیسولین اور ڈیزل جیسے ایندھنوں کی شکل میں تبدیل کرلیا جاتا ہے ،جسے پھر گاڑیوں کے انجنوں، کارخانوں کی مشینوں، طیاروں، بحری جہازوں اور گھروں میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
کوئلہ
کوئلے میں کاربن کا عنضر نمایا ہوتا ہے جو اس کا 50 فیصد سے زیادہ وزن 70 فیصد سے زیادہ بناتا ہے۔وہ درخت جو کسی وجہ سے زمین میں دفن ہوجاتے ہیں ہزاروں سال بعد حرارت اور دباو کی وجہ سے کوئلہ بن جاتے ہیں۔کوئلے کے کئی فوائد ہیں، کوئلہ توانائی کے حصول یا صنعتی ایندھن کا سب سے بڑا وسیلہ ہے اور خاص طور پر دیگر ایندھنوں کے مقابلے میں بہت سستا ہے، کوئلے کو بجلی پیدا کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور آسانی سے ذخیرہ شدہ بھی ہے۔
قدرتی گیس
کوئلہ اور پیٹرولیم کی طرح قدرتی گیس بھی اسی طریقے اور اتنی ہی مدت کے زمینی عمل کے نتیجے میں وجود میں آتی ہے۔ زمین میں لاکھوں سال سے دبی ہوئی جانوروں اور درختوں وغیرہ کی باقیات میں پیدا ہونے والی کیمائی اور مرکباتی تبدیلی کے نتیجے میں کوئلے اور پیٹرولیم بننے کے عمل سے بڑی مقدار میں گیس بھی پیدا ہوتی ہے۔ اس گیس کے بہت بڑے بڑے بلبلے زمین کی گہرائی میں پھنسے ہوتے ہیں جنہیں تلاش کرکے پائپوں کی مدد سے نکالا جاتا ہے۔ قدرتی گیس کو صنعتوں اور گھروں میں توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے علاوہ اب گاڑیوں کے انجنوں میں متبادل ایندھن کے طور پر بھی استعمال کیا جارہا ہے۔
نیوکلیئر توانائی
ایندھن کا یہ ذریعہ سائنس کی مدد سے گزشتہ صدی میں ایجادد کیا گیا۔ اس کا دارومدار "نیوکلیئر فیوژن‘‘ کہلانے والے ایک سائنسی عمل کے نتیجے میں ایٹم کی علیحدگی سے پیدا ہونے والی زبردست حرارت(heat) پر ہوتا ہے۔ "نیوکلیئر فیوژن‘‘ کے دوران "یورنیم 235 " نامی کیمیائی مادے کا مرکز یا نیوکلیس، نیوٹران نامی ایٹمی جزو سے ٹکراتا ہے جس سے یورنیم کا ایٹم ٹوٹ کر الگ ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں زبردست حرارت پیدا ہوتی ہے، جسے پانی اْبالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پانی اْبلنے سے پیدا ہونے والی بھاپ کے ذریعے بڑے بڑے جنریٹر چلائے جاتے ہیں اور ان سے بجلی پیدا کی جاتی ہے۔
مناسب الفاظ لگا کر محاورے مکمل کریں…!!!
آسمان سے گرا۔۔۔۔۔۔۔میں اٹکا۔
اندھا کیا چاہے، دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ناچ نہ جانے۔۔۔۔۔۔۔ٹیڑھا۔
آدھا۔۔۔۔۔۔۔۔، آدھا بٹیر۔
اپنے منہ میاں۔۔۔۔۔۔۔۔ بننا۔
دھوبی کا کتا۔۔۔۔۔۔ کا نہ گھاٹ کا۔
الٹا۔۔۔۔۔۔۔ کوتوال کو ڈانٹے۔
جیسا۔۔۔۔۔ ویسا بھیس۔
۔۔۔۔۔۔۔۔کیا جانے ہنس کی چال۔
سر منڈواتے ہی۔۔۔۔۔۔ پڑنا۔
جوابات:کھجور ،آنکھیں،آنگن ، تیتر، مٹھو،گھر،چور، دیس،کوا ،اولے
گُد گُدیاں…!!!
ایک دیہاتی
ایک دیہاتی شہر میں آیا اور ٹیکسی میں بیٹھ گیا کچھ دیر بعد جب اس نے میٹر دیکھا تو اس میں 200 روپے بنے تھے جبکہ اس کے پاس صرف 150 روپے تھے۔ دیہاتی گھبرا کر بولا:’’روکو روکو‘ گاڑی واپس لے چلو اور جہاں پر 150 روپے بنے تھے مجھے وہاں اتار دو‘‘۔
ایک کاہل شخص
ایک کاہل شخص کے مکان میں آگ لگ گئی آس پاس کے لوگ آگ بجھانے کے لیے دوڑے لیکن وہ مزے سے بیٹھا رہا اس سے ایک شخص نے پوچھا: ’’تعجب ہے تمہارے گھر میں آگ لگ گئی ہے اور تم اطمینان سے بیٹھے ہو‘‘، کاہل آدمی نے جواب دیا: ’’میں اطمینان سے کہاں بیٹھا ہوں، بلکہ میں تو بارش کے لیے دْعا کررہا ہوں‘‘۔
ماتم
ایک شخص اپنا رنگین ٹی وی اور وی سی آر اٹھائے سمندر کی طرف جا رہا تھا۔ راستے میں اس کا دوست ملا اور اس نے حیرانی سے پو چھا۔ ’’ کیا ماجرا ہے؟‘‘ وہ بولا۔’’خو دکشی کرنے جا رہا ہوں اور ٹی وی، وی سی آر ساتھ لے کر ڈوبوں گا۔ میری بیوی مجھ پر نہ سہی ان چیزوں کی محرومی کا تو ماتم کرے گی۔‘‘
آگ
ایک آدمی نے فائرسٹیشن فون کیا اور بولا’’دیکھئے میں نے حال ہی میں اپنا باغ سنوارا ہے میں نے اس میں بیش قیمتی پودے لگائے ہیں۔‘‘ ’’کیا اس میں آگ لگ گئی ہے۔‘‘دوسری طرف سے پو چھا گیا۔ ’’کچھ پودے تو بالکل ہی نایاب ہیں۔ میں نے انہیں بڑی مشکل سے حاصل کیا ہے‘‘۔ ’’دوسری طرف سے بڑی غصے بھری آواز آئی۔’’دیکھئے جناب! یہ فائرسٹیشن ہے، گل فروشی کی دکان نہیں‘‘۔ ’’معلوم ہے مجھے! ذرا غور سے میری بات سنئے، میرے پڑوس میں آگ لگ گئی ہے اور میں نہیں چاہتاکہ جب آپ لوگ آگ بجھانے آئیں تو میرے باغ اور پودوں کو نقصان پہنچائیں۔‘‘
بوجھو تو جانیں…!!!
1۔ پانی کے ا ندر ہی بولے پانی مانگے جب منہ کھولے
2۔ جب آیا چپکے سے آیا کبھی رُلایا کبھی ہنسایا
پڑے رہے ہم ایک جگہ پر اُس نے سب کچھ ہمیں دکھایا
3۔ بازو اور ٹانگیں ہیں آٹھ انتڑیاں ہیں نو سو ساٹھ
4۔ اک حد تو گرمی کھائے کوئی پھر بھی جوش دلائے
گور اُس کی تاب نہ لائے گھر کو چھوڑ کے بھاگا جائے
5۔ چار ہیں رانیاں اور اِک راجا ہر ایک کام میں ان کا ساجھا
جوابات
1۔مینڈک،2۔خواب،3۔چارپائی اور انسان،4۔دودھ کا اُبال
5۔اُنگوٹھا اور انگلیاں
خیالـی پــلاؤ
قرۃالعین
ایک دفعہ شیخ چلی بازارگئے،وہاں کسی سپاہی نے تیل کا کپا خریدا اور انھیں بلاکر کہا ’’ارے میاں! یہ کپا اٹھا کر میرے گھر تک لے چلو۔ دو آنے مزدوری دوں گا‘‘۔ شیخ چلی نے بہت اچھا کہہ کر کپا سر پر اٹھا لیا اور دل ہی دل میں خیالی پلائوپکانا شروع کیا کہ دو آنے ملیں گے تو ایک مرغی خریدوں گا اور پھر اس کے انڈوں میں سے بہت سے بچے نکلیں گے۔ پھر انہیں بیچ کر ایک بکری لے لوں گا۔ اس کے بچے بڑے ہو جائیں گے تو انہیں بیچ کر ایک بھینس لے لوںگااْسے بیچ کر کچھ زمین خرید لوں گا۔ پھر اپنی شادی کر لوں گا تو بال بچے بھی ہو جائیں گے۔ میں جب کھیت پر سے بھینس کے لئے چارہ کا گٹھا سر پر اٹھا کر گھر میں آئوں گا تو بچے میری ٹانگوں سے چمٹ جائیں گے اور کہیں گے کہ ابا آئے، ابا آئے۔ میں انہیں جھڑک کر ہٹو ہٹو کہتا ہوا کٹھا زمین پر پٹک دوں گا۔ یہ خیال آتے ہی شیخ نے تیل کے کپے کو چارے کا گٹھا سمجھ کر زمین پر دے مارا اور تیل سارے کا سارا زمین پر بہہ گیا۔ تیل کے مالک نے کہا۔ ارے نالائق کیا تو نشے میں ہے کہ دس روپئے کا تیل گرا کر سب خاک میں ملا دیا۔ شیخ چلی نے جواب دیا ’’تم تو دس روپئے کو روتے ہو، میرا سارا کنبے کا کنبہ غارت ہو گیا۔
ایک سمجھدارکسان!
کہانی
رئیس صدیقی
ایک بارکی بات ہے کہ ایک بادشاہ اپنی سلطنت کے ایک گائوں کا حال چال جاننے کے لئے اپنے وزیر کے ساتھ اپنے محل سے باہر نکلا۔جب وہ اس گائوں پہنچا تو اس نے ایک کمزور بوڑھے کسان کو کھیت جوتتے ہوئے دیکھا۔ بادشاہ وہاںرُکا اور اس نے سوچا کہ کیوں نہ اس کسان سے کچھ سوال کئے جائیں، یہ دیکھنے کے لئے کہ وہ ہماری بات سمجھ بھی پاتا ہے یا نہیں؟
چنانچہ، بادشاہ نے کسان کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا۔تم نے خدا کے نام پر اس کو کیوں نہیں کیا؟…بادشاہ سلامت، میں نے تو کیا تھا، مگر خدا کی مرضی نہیں تھی۔کسان نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا۔ پھر بادشاہ نے دوبارہ یہی سوال کیا کہ خدا کے نام پر تم نے اس کو کیوں نہیں کیا؟… حضور! میں نے کیا تھا، مگر خدا کی مرضی نہیں تھی۔ پھر تیسری بار بادشاہ نے یہی سوال دہرایا۔ کسا ن کا تیسری بار بھی یہی جواب تھا کہ میں نے تو کیا تھا، مگر خدا کی مرضی نہیں تھی۔
بادشاہ نے پھر ایک نیا سوال پوچھ لیا۔ تم اپنا معاملہ کس کے ساتھ کرتے ہو؟… ہم کسان ’بادشاہ‘ کے ساتھ اپنا معاملہ کرتے ہیں۔کسان نے کچھ غور کرتے ہوئے سوال کا جواب دیا۔اگر بادشاہ نہ آئے تو کس کے ساتھ معاملہ کرتے ہو ؟۔ بادشاہ نے پوچھا…پھر ہم لوگ معاملہ ’وزیر‘ کے ساتھ کرتے ہیں۔ کسان نے جواب دیا۔’اگر وزیر بھی نہ آئے تو کس کے ساتھ معاملہ ہوتا ہے؟۔بادشاہ نے پوچھا…پھر معاملہ ’لائق شہزادے‘ کے ساتھ ہوتا ہے۔کسان نے جواب دیا۔
کسان کا جواب سن کر بادشاہ نے اپنے دل میں کسان کی عقل مندی، سوجھ بوجھ اور سمجھداری کی داد دیتے ہوئے اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنی اور بادشاہ کے درمیان ہوئی گفتگو کا مطلب اس وقت تک کسی کو نہ بتائے ،جب تک کہ اس کو انعام میںکافی اشرفیاں نہ مل جائیں۔
بادشاہ اپنے محل واپس آیا اور وزیر سے کہا۔ میں نے جو کچھ کسان سے باتیں کی ہیں، وہ سب تم نے سنی ہیں۔ تم اس گفتگو کا مطلب بتائو۔وزیر باوجود اپنی دانشمندی کے، گھبراگیا اور بادشاہ سے عرض کیا۔جہاں پناہ ! یہ بالکل سچ ہے کہ میں نے آپ اور کسان، دونوں کی گفتگو اچھی طرح سنی مگر میری کچھ بھی سمجھ میں نہ آیا! …اگر مطلب نہیں بتایا تو تم اپنے عہدہ سے محروم ہوجائوگے۔ بادشاہ نے شرط رکھتے ہوئے حکم دیا۔گھبرایا ہوا وزیر گھر آیا اور سوچنا شروع کردیا۔ جتنازیادہ وہ سوچتا، اُتنا ہی زیادہ وہ اور پریشان ہوتا۔ اسے وہ بات چیت بے معنی اور بے سر پیر کی لگ رہی تھی۔ لیکن یہ بات وہ بادشاہ سے نہیں کہہ سکتا تھا۔ اچانک اس کے ذہن میںخیال آیاکہ کیوں نہ اس گفتگو کا مطلب اُس کسان سے ہی دریافت کیا جائے؟
اسی وقت وزیر کسان کے گھر گیا اور کسان سے بادشاہ اور اسکے درمیان ہوئی بات چیت کا مطلب جاننے کی کوشش کی۔تمہاری اور بادشاہ کی گفتگو کا کیا مطلب ہے ؟…وزیر صاحب، اگر آپ مجھے انعام میں بہت سی اشرفیاں دیں تو میں اس بات چیت کا مطلب بتائوںگا، ورنہ نہیں۔ کسان کو بادشاہ کا مشورہ یاد آ گیا۔اسنے وزیر سے انعام مانگا۔ وزیر نے فوراً اشرفیوں کا انتظام کیا اور بادشاہ کے سوال اور کسان کے جواب کا مطلب دریافت کیا۔
کسان نے ہر سوال اور جواب کا مطلب اس طرح بتایا:بادشاہ کا پہلا سوال یہ تھا کہ ’’میں نے جوانی میں شادی کیوں نہیں کی تاکہ میرے بچے میرے بُڑھاپے میں کام آتے۔‘‘میرا جواب یہ تھا کہ ’’میں نے شادی تو کی تھی، مگر خدا کی مرضی نہیں تھی کہ میرے بچے ہوں‘‘۔’’دوسری … تیسری شادی کیوں نہیں کی‘‘۔ بادشاہ کے دوسرے اور تیسرے سوال کایہ مطلب تھا۔ دوسری — تیسری شادی تو کی تھی، مگر خدا کی مرضی نہیں تھی کہ اولاد ہو‘‘۔ کسان نے دوسرے اور تیسرے سوال کے جواب کا مطلب بتایا ۔ ا ور اگلے سوالوں کا کیا مطلب تھا؟ ۔وزیر نے پھر کسان سے دریافت کیا۔بادشاہ میری کھیتی باڑی کے بارے میں معلوم کررہے تھے اور جو میں نے جواب دیا اس کا مطلب یہ ہے: کسان کے لیے ’بادشاہ‘ ماہ جولائی ہوتا ہے کیونکہ اس وقت مانسون بارش لاتی ہے۔ اگر جولائی خشک گزر جائے تو ہم کسان اگست سے بارش کی امید رکھتے ہیں، اور اس دوسرے مہینے کو ہم لوگ ’وزیر‘ کہتے ہیں۔اگر اگست میں بھی بارش نہ ہو تو ہم لوگ بارش کی امید ستمبر میں رکھتے ہیں۔ جس کو ہم لوگ لائق شہزادہ کہتے ہیں۔
کسان نے اپنی اور بادشاہ کے درمیان ہوئی گفتگو کا مطلب بتایا۔اس طرح کسان کو انعام مل گیا اور وزیر بھی اپنے عہدے پر قائم رہا۔بزرگوںنے سچ کہا ہے کہ صرف پڑھا لکھا آدمی ہی عقلمند نہیں ہوتا ہے ۔کوئی ا ن پڑھ کسان بھی عقلمند ہوسکتا ہے!۔ عقلمندی کا تعلق بات کو اچھی طرح سمجھنے سے ہے!! سمجھ اور سوجھ بو جھ کا تعلق، زندگی کے تجربوں سے ہے !!!
( کہانی کار ساہتیہ اکادمی قومی ایوارڈ یافتہ ادیبِ اطفال، پندرہ کتابوں کے مصنف، مولف، مترجم،افسانہ نگار و شاعر اور ڈی ڈی اردوو آل انڈیا ریڈیو کے سابق آئی بی ایس افسر ، واٹس ایپ گروپ بچوں کا کیفے کے بانی ایڈمن ہیں)
ای میل۔rais.siddiqui.ibs @gmail.com