راجوری //راجوری قصبہ کے دو ہائراسکینڈری سکولوں میں تعینات عملے کو سالانہ ساڑھے پانچ کروڑ روپے بطور تنخواہ ادا کی جارہی ہے لیکن اسکولوں کی کارکردگی کا یہ حال ہے کہ حالیہ نتائج 23.5تک محدود رہے ہیں۔ان دونوں سکولوں میں کل 962طلاب زیر تعلیم ہیں جن پر فی طالبعلم 56867.42روپے خر چ ہورہے ہیں۔ ذرائع نے بتایاکہ دونوں سکولوں میں 99ملازم تعینات ہیں جن کوسیشن 2017-18میں 5کروڑ47لاکھ اور6ہزارو464روپے بطور تنخواہ ادا کی گئی ہے۔ یہ اعدادوشمار دونوں سکولوں سے حاصل کئے گئے ہیں۔ذرائع نے بتایاکہ گزشتہ سیشن میں ہائراسکینڈری سکول بوائز راجوری میں پچاس ملازم تعینات تھے جبکہ اسی طرح سے گورنمنٹ ہائراسکینڈری سکول گرلز میں تعینات ملازمین کی تعداد 49تھی۔ذرائع نے بتایاکہ بوائز ہائراسکینڈری سکول میں گزشتہ سیشن کے دوران 480طلاب زیر تعلیم تھے جبکہ گرلز سکول میں 482طالبات زیر تعلیم رہیں۔تاہم ان دونوں ہی سکولوں نے دسویں اور بارہویں کے بورڈ امتحانات نتائج میں مایوس کن کارکردگی پیش کی۔ہائراسکینڈری سکول بوائز کے کل 107طلبا بارہویں جماعت کے امتحان میں شامل ہوئے جن میں سے صرف پچیس ہی کامیاب قرار پائے اور اس طرح سے مجموعی طور پر بارہویں کے نتائج 23رہے جبکہ دسویں میں 59طلبا شامل ہوئے جن میں سے صرف اٹھارہ پاس ہوئے اور نتائج 30فیصد رہے۔اسی طرح سے گرلز سکول میں بارہویں کے امتحانات میں 132طالبات نے شمولیت کی لیکن ان میں پاس ہونے والی صرف 26تھیں۔اس طرح سے نتائج کاتناسب20فیصد تک محدود رہاجبکہ دسویں میں 87میں سے صرف 18طالبات پاس ہوئیں اور نتائج کا تناسب 21فیصد ہی رہا۔ طلباکے نتائج اور عملہ کو دی جارہی کروڑوں روپے تنخواہ کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہوجاتاہے کہ نتائج انتہائی مایوس کن ہیں۔ذرائع نے مزید بتایاکہ گزشتہ سیشن کے دوران بوائز ہائراسکینڈری سکول کے عملے کی ماہانہ تنخواہ 23لاکھ 11ہزار اور87روپے تھی جبکہ گرلز سکول کیلئے عملے کی تنخواہ 22لاکھ،47ہزاراور785روپے رہی ہے۔اعدادوشمار کے مطابق پورے سیشن کے دوران بوائز ہائراسکینڈری سکول نکالی گئی تنخواہ 2کروڑ،77لاکھ 33ہزار44روپے تھی جبکہ گرلز سکول سے نکالی گئی تنخواہ 2کروڑ69لاکھ73ہزار420روپے تھی۔اس طرح سے مجموعی طور پر دونوں سکولوں کے عملے کیلئے اس سیشن کے دوران پانچ کروڑسینتالیس لاکھ چھ ہزار اور 464روپے بطور تنخواہ ادا ہوئے۔محکمہ تعلیم کے ایک سینئر افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایاکہ حالانکہ تنخواہ کسی بھی ادارے کیلئے ثانوی حیثیت رکھتی ہے تاہم دونوں اداروں کی ناقص کارکردگی تشویش کا باعث ہے کیوںکہ دونوں ہی ادارے ضلع صدر مقام میں واقع ہیں جہاں عملے کی قلت یا بنیادی ڈھانچے کی فراہمی جیساکوئی مسئلہ ہی درپیش نہیں۔ان کاکہناہے کہ ان سکولوں کے پاس مناسب عملہ اور دیگر سہولیات ہیں جس کے باوجود اس طرح کے نتائج حیران کن ہیں۔ذرائع کاکہناہے کہ دونوں ہی سکولوں میں تعینات عملہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے لیکن پھر بھی اتنے خراب نتائج کئی طرح کے سوالات کھڑے کرتے ہیں۔