پچاس سالہ مشہور وکیل اپنے شہر سے تقریبا ً ایک سو کلو میڑ دور سے پچھلے دو سال سے اپنی بیوی اور پانچ سالہ بچے کے ساتھ میرے پاس لگاتار آرہا تھا، موصوف گفتگو کے آرٹ سے بخوبی واقف تھا ۔الفاظ کا چنائو اورلفظوں کی جادوگری خوب جانتا تھا۔ بڑی شائستہ گفتگو کر تا آپ دنیا کے کسی بھی موضوع پر گھنٹوں بات کر سکتے تھے ۔اپنی اسی مہارت ‘ زبان کی کمائی خوب کھا رہا تھا‘ گفتگو کی مہارت کی وجہ سے وکالت بھی خوب چل رہی تھی ۔حیران کن کام یہ کیا کہ پانچ شادیا ں کر چکا تھا، جوان لڑکیوں کو یقینا اِسی چاشنی والی گفتگو سے ہی گھیرتا ہوگا ۔ ایک بار میں نے جب اتنی زیادہ شادیوں کے بارے میں سوال کیا تو چالاکی سے بولا جناب میں عورتوں کا رسیا نہیں ہوں ،بے اولادی کی وجہ سے اتنی شادیاں کی ہیں ۔پانچویں بیوی سے جب اللہ تعالیٰ نے بیٹا دیا تو اُس کے بعد میں نے شادی نہیں کی ‘ ایک بیٹے کے بعد خدا نے دوسرا بچہ نہیں دیا تھا ،اسی سلسلے میں دونوں میاں بیوی میرے پاس بھی آرہے تھے ۔گفتگو کی جادوگری کی وجہ سے میرے بھی قریب ہو گئے تھے، جب بھی موقع ملتا میری مدح سرائی کر تے تصوف اورروحانیت پر بھی گفتگو کر لیتے ۔اپنی سخاوت کے بھی خوب چرچے کر تے۔ کبھی تو لگا تار آتے کبھی درمیان میں مہینوں غائب ہو جاتے ۔ آج بھی کئی مہینوں کے بعد آئے تھے ،آ ج نہ تو اُن کی آنکھوں میں ذہانت چالاکی چمک رہی تھی اور نہ ہی چہرے پر بھر پور زندگی گزارنے والے وکیل صاحب تھے لیکن آج تمام رنگوں سے دور بلیک اینڈ وائٹ تصویربنے پیکر لاچارگی بے بسی پریشانی اورماندگی زندہ لاش کی طرح بیٹھے تھے۔ میں اس ناخوشگوار تبدیلی پر بہت حیران تھا کیونکہ مجھے ہمیشہ سے ہی زندگی سے بھر پور لوگ بھاتے ہیں جو ہر حال میں رب ِکریم پر خوش اور صابر رہتے ہیں۔شاکر لوگوں کے چہروں پر ایک خاص قسم کا روحانی سکون آمیز تبسم ہو تا ہے، جواُ ن کی باطنی خوشی و اطمینان کا اظہار ہو تا ہے اور جو زندگی کے نشیب و فراز میں ہمیشہ مسکرا کر زندگی کے مسائل کا مردانہ وار مقابلہ کر تے ہیں لیکن آج وکیل صاحب اُجڑے گلشن کی تصویر پیش کر رہے تھے۔ جو شخص ہمیشہ استری شدہ مایہ لگے سفیدلٹھے اور سیاہ واسکٹ میں ملبوس ہو تے تھے، آج کئی دن پرانے سلوٹوں والے کپڑوں میں ‘شیو کئی دن کی بڑھی ہوئی ‘ بالوں میں کلربھی نہیں لگا ہوا تھا، ایک دم بوڑھے نظر آرہے تھے۔ وکیل صاحب کی اس قدر ناخوشگوار تبدیلی نے مجھے فوری طور پر اُن کی طرف متوجہ کر دیا۔ میں سب کو چھوڑ کر وکیل صاحب کی طرف بڑھا اور جاتے ہی پوچھا وکیل صاحب خیر ہے؟ آپ نے اپنی یہ کیا حالت بنا رکھی ہے؟ سب ٹھیک ہے نا ؟کو ئی پریشان کن مسئلہ ہے جو آپ اس خراب حالت میں میرے پاس آئے ہیں ؟ وکیل صاحب میرے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور کہا سر میں لٹ گیا، برباد ہو گیا، میری کل متاعِ حیات لٹ گئی ‘ میںکہیں کا نہیں رہا۔ وکیل مجھ سے لپٹا ایسی باتیں کر تا جا رہا تھا اور ساتھ میںپھوٹ پھوٹ کر رو بھی رہا تھا۔ جب وہ خوب رو چکا تو ہم دونوں جا کر اُس کی کار میں بیٹھ گئے ۔کار میں بیٹھ کر وکیل صاحب اب دھاڑیں مار کر اونچی آواز میںرونا شروع ہو گئے بلکہ اب تو رونے دھونے کے ساتھ انہوں نے اپنے آپ کو پیٹنا بھی شروع کر دیا۔ میں حیران و پریشان وکیل صاحب کی حالتِ زار دیکھ کر پریشان ہو رہا تھا کہ وکیل صاحب کے ساتھ ایسا کون ساواقعہ حادثہ ہو گیا جو مضبوط طاقت ور چالاک اورذہین ترین انسان بے بس کمزور بچوں کی طرح رو رہا تھا۔ میں نے حوصلہ دیتے ہو ئے کہا: جناب آپ پریشان نہ ہوں، کچھ نہیں ہو تا اللہ سب بہتر کرے گا ۔آپ جس بات مسئلے پر رورہے ہیں ،اللہ تعالیٰ سب اچھا کر دے گا،تو وکیل صاحب روتے ہو ئے بولے :جناب !اچھا ہی تو نہیں ہو سکتا ‘ میری پریشانی کا کوئی حل اس دنیا میں موجود نہیں ہے، اب میں بس گندی نالی کے کیڑے کی طرح اسی طرح سسک سسک کر تڑپ تڑپ کر اپنی جان دوں گا دنیا بھر کے خزانے دولت جاگیریں بادشاہی مل کر بھی میری پریشانی کو دور نہیں کر سکتے، میرے غم کا پہاڑ جو میری سانس کی نالی پر لٹکا ہے، یہ اسی طرح رہے گا ۔میں اب اِس غم دکھ پریشانی پچھتاوے بے بسی کے پہاڑ کے نیچے اِسی طرح سسک سسک کر جان دوں گا، میری زندگی کے اچھے دن رخصت ہو گئے۔ اب میں بربادی پریشانی کی چتا پر جھلس جھلس کر مروں گا ۔کو ئی میری مدد نہیں کرے گا نہ ہی کو ئی کر سکتا ہے۔ وکیل صاحب مسلسل پریشانی مایوسی کی باتیں کر رہے تھے ساتھ میں دھاڑیں مار کر روبھی رہے تھے ۔ میرے حوصلہ دلاسہ دینے کے الفاظ اُس کی سماعت سے ٹکرائے بغیر ہی ہوا میں تحلیل ہو رہے تھے ۔میں پریشانی وبے بسی کی تصویر بنا اُن کو روتے پیٹتے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ وہ کو ن سا غم پریشانی ہے، جس کا اس دُنیا میں اب کو ئی بھی علاج نہیں ہے ۔ جب وکیل صاحب خوب رو چکے تو میری طرف دیکھ کر بولے پروفیسر صاحب میں آپ کے پاس آج مسئلے کا حل لینے نہیں آیا بلکہ اقرارِ جرم کر نے آیا ہوں ۔ شاید اِسی بہانے اللہ تعالیٰ میری آخرت ٹھیک کر دے یا میرے انجام کو دیکھ کر کسی اور دھوکے باز الفاظ کے جادوگر کو سبق مل جائے ،میں اپنے گناہوں کا اعتراف کر نے آیا ہوں، جناب میں بچپن سے بہت چالاک اورذہین شاطر تھا۔الفاظ کی جادوگری کا حسن خوب جانتا تھا جواُن ہوا تو وکالت میں داخلہ لیا ،کلاس میں میرے کلاس فیلو کو ایک لڑکی پسند آگئی، لڑکی بہت شریف تھی، بہت کو شش کے بعد بھی لڑکی نہ مانی تو دوست نے میری مدد مانگی کہ کسی طرح اس لڑکی کو میرے کمرے میں لائو جو اُس نے پرائیویٹ گھر لیا ہواتھا ،وہاں پر اب میں میدان میں آیا۔ اُس لڑکی سے دوستی کی کوشش کی الفاظ کی جادوگری سے میں جلد ہی اُس معصوم کو اپنے جال میں لے آیا، اپنی محبت میں گرفتار کیا۔ میں دن کو رات کہتا تو لڑکی بھی دن کو رات کہتی، وہ میرے اشاروں پر ناچتی۔ پھر ایک رات میں اُس بے چاری کو اُس ظالم دوست کے گھر لے گیا اور وہاں چھوڑ کر واپس آگیا اور چلتے چلتے حالات نے یہ موڑ لیا کہ لڑکی نے بالآخرخو دکشی کر لی۔ میں وکیل بن گیا ۔شادی کی تو پتہ چلا میرے اندر اولاد پیدا کر نے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ پہلی بیوی چھوڑ گئی تو دوسری پھر تیسری شادی کی پھر چوتھی شادی کی چند ماہ کے بعد ہی بیوی مجھے چھوڑ کر بھاگ جاتی ،پھر میں نے انتہائی غریب لڑکی سے شادی کی تاکہ بھاگے نہ۔ اس نئی بیوی سے حیران کن طور پر بیٹا پیدا ہوا تو میں سمجھا حکیم کی دوائی نے کام کر دیا ہے لیکن میرے ساتھ دھوکہ ہو اتھا ،ایک ایسا دھوکہ جس کو زبان پر لانے سے قاصر ہوں ۔ پروفیسر صاحب کی اس داستان سرائی کا مطلب میں خوب سمجھا ۔ انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: جناب !میںنے کسی کو دھوکہ دیا تو خدا نے مجھے کڑوا سبق دیا، اب، دن رات شرمندگی ، پشیمانی اوربے بسی کے دوزخ میں جلتا ہوں۔ میری سزا کا عمل اسی دنیا ئے فانی میں ہی جار ی ہو چکا ہے جو قوتِ گویائی کے غرور میں کسی کو دھوکا دیتا ہے، فطرت خدا پھر اُس کو اپنے کئے کی سزا کے طورزندہ لاش بنا دیتا ہے ۔