عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//سرینگر پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے قابلِ اعتماد اطلاعات کی بنیاد پر، جو ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر خوف پھیلانے، عوامی نظم و نسق میں خلل ڈالنے اور غیر قانونی سرگرمیوں کو ہوا دینے کے ارادے سے جھوٹے، من گھڑت اور گمراہ کن مواد کی گردش سے متعلق تھیں،ممبر پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی اور سرینگر میونسپل کارپوریشن کے سابق مئیر جنید عظیم متو کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں۔
اس ضمن میں جاری بیان کے مطابق زیرِ بحث مواد بظاہر مسخ شدہ بیانیے اور غیر مصدقہ معلومات کی تشہیر کی عکاسی کرتا ہے جو عوامی بے چینی اور سماجی ہم آہنگی میں خلل کا سبب بن سکتا ہے۔ اس نوعیت کی دانستہ گمراہ کن مہمات امن، سلامتی اور مجموعی استحکام کے لیے سنگین خطرہ تصور کی جاتی ہیں۔
بیان کے مطابق اسی سلسلے میں ایف آئی آر نمبر 02/2026 اور ایف آئی آر نمبر 03/2026 بھارتیہ نیایا سنہتا (BNS) کی دفعات 197(1)(d) اور 353(1)(b) کے تحت سائبر پولیس اسٹیشن، سری نگر میں درج کئے گئے ہیں۔ دونوں مقدمات کی تفتیش شروع کر دی گئی ہے اور جاری ہے۔
سری نگر پولیس نے عوامی امن اور قانون و نظم برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ آن لائن مواد شیئر کرنے سے قبل معلومات کو سرکاری اور مستند ذرائع سے ضرور تصدیق کریں اور غیر مصدقہ مواد کی تشہیر سے گریز کریں جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی یا عوامی نظم کو متاثر کر سکتا ہو۔
بیان کے مطابق قانون کے مطابق مزید کارروائی حسبِ ضرورت عمل میں لائی جائے گی۔