ڈوڈہ //ڈوڈہ کی تحصیل کاہرہ کے گاں گلوا جوڑا خرد سے آئے لوگوں نے پیر کے روز ٹھاٹھری گندوہ شاہراہ پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے گذشتہ ماہ مارے گئے تین افراد کے مبینہ قتل کے معاملے میں سست روی اختیار کرنے پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پیر کی صبح مہلوکین کے رشتہ داروں نے کاہرہ کے مقام پر ایک گھنٹے تک احتجاج کیا جس دوران ٹریفک کی آمدورفت بھی معطل رہی۔احتجاجی مظاہرین میں شامل خواتین نے کہا کہ ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔انہوں نے حکام سے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر علاقہ کے نوجوان سیاسی و سماجی کارکن جعفر پڑے بھی مظاہرین میں شامل ہوئے اور اس معاملہ کی تحقیقات میں سست روی برتنے پر افسوس کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ مئی کی 31 تاریخ کی شام کو ہلارن کے اپر گلوا میں دو بچوں سمیت تین افراد کو گولی مار کر ہلاک کیا لیکن ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گذر جانے کے بعد بھی حقائق کو منظر عام پر نہیں لایا گیا اور پولیس کی خاموشی سے عوامی حلقوں میں کئی شک و شبہات پیدا ہوئے ہیں۔اس دوران ایس ڈی پی او گندوہ شہزادہ کبیر متو موقع پر پہنچے اور مظاہرین کو یقین دلایا کہ ایف ایس ایل رپورٹ آنے کے بعد ہی حقیقت سامنے آئے گی۔انہوں نے کہا کہ پولیس اپنے طریقے سے تحقیقات کررہی ہے لیکن شک کی بنا پر کسی کو گرفتار نہیں کیا جاسکتا ہے۔مظاہرین نے احتجاج ختم کرتے ہوئے انتباہ کیا کہ اگر ایف ایس ایل رپورٹ کے بعد بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو وہ بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گے۔واضح رہے کہ 31 مئی کی شام کو جوڑا خرد کے اپر اگلوا میں ایک ہی کنبے کے تین افراد کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا اور ابتدا میں یہ کہا گیا تھا کہ باپ نے اپنے دو بچوں کو گولی مار کر خودکشی کی تاہم بعد میں کئی شک و شبہات پیدا ہوئے اور پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات کا عمل شروع کیا ہے جو ہنوز جاری ہے۔