فیاض بخاری
بارہمولہ//ضلع بارہمولہ کا شہرت یافتہ سیاحتی مقام گلمرگ میں سیاحتی سرگرمیاں ایک بار پھر پوری آب و تاب کے ساتھ بحال ہو گئی ہیں۔ گلمرگ گنڈولا کی دوبارہ بحالی کے بعد یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد مئی میں پیش آنے والے حادثے سے پہلے کی سطح تک پہنچ گئی ہے، جبکہ مقامی ہوٹلوں میں گزشتہ دو ہفتوں سے سو فیصد بکنگ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔واضح رہے کہ 25 مئی کو گلمرگ گنڈولا میں فنی خرابی پیدا ہونے کے باعث 300 سے زائد مسافر فضا میں پھنس گئے تھے، جس کے بعد احتیاطی طور پر اس سروس کو تقریباً ایک ماہ کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں جامع تکنیکی اور حفاظتی جانچ کے بعد جون میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے گنڈولا سروس کو دوبارہ عوام کے لیے کھول دیا۔گنڈولا کی بحالی کے بعد گلمرگ، سونہ مرگ اور پہلگام سمیت وادی کے دیگر اہم سیاحتی مقامات پر بھی سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے ہوٹل مالکان، دکانداروں، ٹیکسی آپریٹروں اور دیگر کاروباری طبقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔گلمرگ کے معروف ہوٹل مالک محمد یوسف نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں سے ان کے ہوٹل میں سو فیصد بکنگ ہے۔ ان کے مطابق کئی برسوں بعد اس قدر بہتر سیاحتی سیزن دیکھنے کو ملا ہے اور تمام کمرے پہلے سے ہی بک ہو چکے ہیں۔ ایک مقامی تاجر سجاد احمد نے سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کے بعد خدشہ تھا کہ سیاحت شدید متاثر ہوگی، تاہم صورتحال توقع سے کہیں بہتر ثابت ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سیاحوںکی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ کاروباری افراد کو مسلسل مصروف رہنا پڑ رہا ہے۔دہلی سے گلمرگ کی سیر کے لیے آنے والی ایک سیاح پالک چودھری نے کہا کہ گنڈولا کی سواری دوبارہ شروع ہونے سے ان کا سفر یادگار بن گیا۔ ان کے مطابق گلمرگ کا اصل حسن گنڈولا کی سیر میں پوشیدہ ہے اور اس کے بغیر سیاحت کا لطف ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ایک اور سیاح روہن شرما نے بتایا کہ انہوں نے شدید گرمی سے بچنے کے لیے گلمرگ کا رخ کیا۔ ان کے مطابق یہاں کا خوشگوار موسم، قدرتی حسن اور ٹھنڈی فضائیں ہر سال انہیں اپنی طرف کھینچ لاتی ہیں۔سیاحوں نے وادی میں امن و امان کی صورتحال پر بھی اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ہر مقام پر مناسب سکیورٹی اور سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے باعث وہ خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔