عصر ِ حاضر میںجس تیزی سے انسانی معاشروں میں تہذیبی و سائنسی ترقی بڑھ رہی ہے، اُس سے کئی گنا زیادہ رفتار سےبُرائیاں اور خرابیاں سرایت کرتی چلی جارہی ہیں۔ہرنئی صبح کوئی نیا صدمہ لے کر آتی ہے اور ہر شام کسی نہ کسی افسوسناک واقعے کی لرزا دینے والی داستان سُناتی رہتی ہے۔ان حالات میں بے اختیار یہ سوال ذہن میں جنم لیتا ہے کہ آخر یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟ اس اخلاقی بگاڑ اور سماجی انتشار کی اصل وجوہات کیا ہیں؟ اور کیا یہ صورتحال یوں ہی بڑھتی رہے گی؟ آخر کب اور کیسے اس کا مؤثر اور دیرپا حل تلاش کیا جا سکے گا؟کیونکہ آج کے دور میں اخبارات، نیوز چینلز اور سوشل میڈیا پر ایسی شرمناک ، خوفناک ،درد ناک اور دل دہلانے والی خبریںتسلسل کے ساتھ دکھائی دیتی ہیں کہ ا ب ایسی خبریں ہمارے لئےکوئی غیر معمولی خبر نہیں رہ گئی ہےاور یہ حقیقت ہمارے معاشرے کے اخلاقی زوال اور سماجی بگاڑ کی انتہائی سنگین علامت بنی ہوئی ہے۔ دراصل جب کسی معاشرے میں بُرائیاں عام ہو جائیں اور اِن کو دیکھ کر انسان کا دل لرزنا بند ہو جائے تو اُس معاشرے کی زوال پزیری میں دیر نہیں لگتی۔ آج ہمارا معاشرہ بھی اسی صورتحال کا شکار ہے۔ معاشرے کے اندر اخلاقی قدریںکمزور پڑ چکی ہیں، گھروں اور اداروں کا تربیتی ماحول متاثر ہو چکا ہے اور قانون کی گرفت کمزور ہے۔گھر کسی بھی انسان کی شخصیت سازی کا پہلا اور بنیادی ادارہ ہوتا ہے۔ اگر گھر میں تربیت مضبوط نہ ہو، والدین اپنی اولاد کی نگرانی، اخلاقی رہنمائی اور کردار سازی سے غفلت برتیں تو نوجوان ذہن ماحول کے منفی اثرات کا بآسانی شکار ہو جاتا ہے۔ جدید دور میں ٹی وی، انٹرنیٹ اور موبائل کی بے تحاشا اور غیر مناسب رسائی نے کمسن بچوں اور نوجوانوں کی ذہن سازی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ ایسے میں جب والدین اور اساتذہ تربیت اور کردار سازی پر توجہ نہیں دیتے تو نوجوان نسل بھٹکنے لگتی ہے اور معاشرے میں اخلاقی زوال تیزی سے پھیلتا ہے۔ اسی طرح سماج میں قانون کی کمزور گرفت اور انصاف میں تاخیر بھی جرائم میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ جبکہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری، غربت اور معاشی عدم استحکام معاشرتی ڈھانچے کو کمزور کر دیتے ہیں۔ معاشی تنگی انسان کو ذہنی تناؤ، چڑچڑے پن اور نفسیاتی بگاڑ کی طرف لے جاتی ہےجو بعض افراد میں منفی اور مجرمانہ رویوں کو جنم دیتی ہے، خصوصاً ایسے ماحول میں جہاں قانون کی گرفت کمزور ہو اور اخلاقی تربیت کا کوئی موثر اور مناسب نظام موجود نہ ہو۔ دوسری طرف سوشل میڈیا اور جدید ڈیجیٹل دنیا کی بے لگام رسائی نے بھی اس صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ بغیر نگرانی کے موبائل اور انٹرنیٹ کے استعمال نے نوجوانوں کو ایسے مواد تک پہنچا دیا ہے جو ان کی فطری معصومیت اور سوچ کو بگاڑ دیتا ہے۔ غیر اخلاقی مواد کی آسان دستیابی، نامناسب ویڈیوز اور بے ہنگم آن لائن آزادی نے ذہنی اور سماجی سطح پر تباہ کن اثرات مرتب کئےہیں، جس کے نتیجے میں معاشرہ رفتہ رفتہ عدم توازن اور اخلاقی انتشار کا شکار ہوتا چلاجا رہا ہے۔معاشرتی بُرائیوں کے خاتمے میں اجتماعی ذمہ داری بنیادی اہمیت رکھتی ہے،جو کسی ایک فرد، ایک خاندان یا صرف حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب تک معاشرے کا ہر طبقہ اپنا کردار دیانتداری اور خلوص کے ساتھ ادا نہیں کرے گا، کوئی حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔ بے شک والدین پر لازم ہے کہ وہ گھر میں اپنے بچوں کی تربیت بہتر کریں، ان کی نگرانی کریں اور انہیں اخلاقی کردار، انسان دوستی اور عزتِ نفس کا درس دیں۔ اسی طرح اساتذہ کا فریضہ ہے کہ وہ اسکولوں میں صرف کتابی علم نہ دیں بلکہ کردار سازی، شعور اور انسانی اقدار کو بھی فروغ دیں۔ جبکہ میڈیا کو چاہیے کہ وہ ذمہ دارانہ رپورٹنگ کرے، سنسنی خیزی اور ریٹنگ کے لیے حقیقت سے کھیلنے کے بجائے اصلاحی اور تربیتی پہلو پر توجہ دے۔ حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قانون کی عملداری کو مؤثر بنائے، انصاف کو تیز رفتارو منصفانہ بنائے اور جرم کے خلاف سخت موقف اختیار کرے۔ علمائے کرام پر لازم ہے کہ وہ معاشرے میں اخلاقی بیداری پیدا کریں اور منبروں سے لوگوں کی رہنمائی کریں۔اگر ہم حقیقی معنوں میںچاہتے ہیں کہ آنے والی نسل ایک محفوظ، روشن اور باوقار معاشرے میں پرورش پائے تو ہمیں محض گفتگو نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔