گرلز ہائر سیکنڈری سکول گواڑی کا پرنسپل عرصہ دراز سے مبینہ طورغیر حاضر | تدریسی عملہ و پنچائتی نمائندوں کا احتجاج، حکام سے سخت کارروائی کا مطالبہ

ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع کی سب ڈویژن گندوہ میں واقع گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول گواڑی کے پرنسپل پچھلے کئی ماہ سے غیر حاضر رہنے پر تدریسی عملہ نے پنچائتی نمائندوں کے ہمراہ ایس ڈی ایم دفتر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے حکام سے سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔احتجاجی مظاہرین میں شامل تدریسی عملہ نے کہا کہ جب سے ملک و جموں و کشمیر میں کووڈ 19 کا بحران پیدا ہوا ہے تب سے ایک بار بھی پرنسپل سکول میں حاضر نہیں ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پرنسپل کی عدم موجودگی سے جہاں تدریسی و غیر تدریسی عملہ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں سرکاری کام کاج بھی متاثر ہوا ہے اور ہائر سیکنڈری سکول کی حالت پرائمری اسکول سے بھی بدتر ہو چکی ہے۔انہوں نے پرنسپل پر طلباء و عملہ کے ساتھ غیر اخلاقی برتاؤ کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔مظاہرین نے پرنسپل کی نااہلی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرکار کی طرف سے ادارہ کی مرمت کے لئے واگذار کی گئی رقم کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گرلز ہائر سیکنڈری سکول گواڑی میں تین سو زائد طالبات زیر تعلیم ہیں لیکن ان کے استعمال کے قابل ایک بیت الخلاء بھی موجود نہیں ہے۔ادارہ میں تعینات عملہ کا مزید کہنا ہے کہ پرنسپل کی غیر موجودگی میں ان کی تنخواہیں وقت پر نہیں ملتی ہیں بلکہ دستخط کرنے کے لئے ذاتی خرچہ پر ایک ملازم کو جموں بھیجنا پڑتا ہے اور وہاں بھی وہ دستخط کرکے راضی نہیں ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملہ کو متعدد بار اعلیٰ حکام کی نوٹس میں لایا گیا لیکن تاحال کوئی کارروائی عمل نہیں لائی گئی۔انہوں نے اس سلسلہ میں سب ڈویژنل انتظامیہ کو ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔اس دوران بی ڈی سی چیئرمین چنگا محمد عباس راتھر نے بھی پرنسپل کی غیر حاضری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عرصہ دراز سے وہ ڈیوٹی پر نہیں آتے ہیں جس کے نتیجے میں سرکاری کام کاج کے ساتھ ساتھ تدریسی وغیر تدریسی عملہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک پروپیگنڈہ کے ساتھ پرنسپل نے ادارہ کو صفر پر پہنچایا ہے ۔واضح رہے کہ پرنسپل کے خلاف اس سے پہلے بھی طلباء و تدریسی عملہ نے احتجاجی مظاہرے کئے ہیں لیکن حکام نے کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی ہے۔