راجا ارشاد احمد
گاندربل //محکمہ آبپاشی کی مبینہ لاپرواہی اور غفلت شعاری کے سبب ضلع گاندربل میں زرعی اراضی کو سیراب کرنے والی متعدد نہریں ختم ہونے کے دہانے پر پہنچ گئی ہیں۔ ان آبپاشی نہروں کی برسوں سے نہ ہی مرمت کی گئی اور نہ ہی صفائی وغیرہ کا کام شروع کیا گیا ، جبکہ رواں سال فصل کی تیاریوں کا موسم شروع ہونے میں چند ہی دن باقی رہ گئے ہیں، جس کی وجہ سے سینکڑوں ایکڑ زرعی زمین اور میوہ باغات کا وجود خطرے میںہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق گاندربل میں واقع ہزاروں کنال زرعی اراضی اور ہزاروں ایکڑ پر پھیلے میوہ باغات محکمہ آبپاشی کی لاپرواہی اور غفلت شعاری سے تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، کیونکہ دھان کی پنیری، مختلف اقسام کے میوہ کے باغات کو پانی کی اشد ضرورت ہوتی ہے لیکن نہ ہی ان کنالوں کی صفائی کی جارہی ہے اور نہ ہی مرمت وغیرہ۔یہ آبپاشی نہریں کوڑے دان میں تبدیل ہوکر رہ گئی ہیں ۔ ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی کو سیراب کرنے والی آبپاشی کنالوں جن میں لار کنال،ڈب واکورہ کنال،بابہ کنال،پادشاہی کنال،صفاپورہ کنال سمیت دیگر نہروں میںکوڑاکرکٹ پایا جاتاہے، جس وجہ سے متعدد علاقوں کے زمینداروں، کاشتکاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔.ان نہروں پر ہزاروں کنال دھان کی اراضی اور ہزاروں ایکڑ پر پھیلے میوہ باغات کا وجود قائم ہے۔ اگر ان آبپاشی نالوں اور نہروں پر وقت رہتے صفائی اور مرمت کا کام نہیں کیا گیا تو فصل بننے کے امکانات کم ہوجائیں گے۔ متعدد علاقوں کے زمینداروں کا کہنا ہے کہ ڈب کنال واکورہ سے نسبل میں واقع درجنوں علاقوں میں موجود ہزاروں کنال زرعی اراضی اور میوہ باغات کو سیراب کرتی ہے۔. نسبل میں ہزاروں کنال دھان کی اراضی کو میوہ باغات میں تبدیل کردیا گیا لیکن اب پانی نہ ہونے کے سبب ان میوہ باغات کا وجود بھی خطرے میں ہے۔ان آبپاشی نہروں سے چند سال پہلے انتہائی صاف و شفاف پانی بہتا رہتا تھااور ملحقہ علاقوں کی آبادی اس نہر کے پانی کو آبپاشی کے علاوہ پینے ،دھونے اور نہانے کیلئے استعمال کرتے تھے لیکن بدقسمتی سے آج ان نہروں کی صورتحال انتہائی پریشان کن اور تشویشناک بنی ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ آبپاشی ڈویژن گاندربل کے متعلقہ عملہ کی لاپرواہی ،غفلت شعاری کی وجہ سے یہ نہریں دم توڑ بیٹھی ہیںاور ہزاروں کنال زراعی اراضی کو سیراب کرنے والی یہ نہریں کوڑے دان کی صورت اختیار کرچکی ہے ،جس میں رہایشی کالنیوں کا فضلہ ،کوڑا کرکٹ کے علاوہ ناکارہ بوتلوں اور پالتھین کے ڈھیر لگ گئے ہیں جبکہ کئی علاقوں میں نہروں کے کناروں پر ناجائز تعمیرات کھڑی کی گئی ہیں جس سے ہزاروں کنال زراعی اراضی بنجر ہونے کا خدشہ لاحق ہوگیا ہے۔ ان نہروں پر ہر سال کروڑوں روپے خرچ کئے تو جاتے ہیں سینکڑوں ملازمین ان نہروں کی دیکھ بھال کے لئے تعینات تو کئے گئے ہیں لیکن زمینی حقائق کچھ اور بیان کررہے ہیں۔. مقامی کاشتکاروں اور زمینداروں نے ضلع انتظامیہ گاندربل سے مطالبہ کیا ہے کہ ان آبپاشی نہروںکی فوری طور پر صفائی اور مرمت کا کام مکمل کیا جائے تاکہ رواں سال کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔