’گائوں کی اور پروگرام‘کے3مراحل ناکام ثابت:میر

سرینگر// پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر نے الزام لگایا کہ جموں و کشمیر حکومت نے’’ گائوں کی اور پروگرام‘‘ کے بارے میں بلند بانگ دعوئے کئے وہ ایک مذاق تھا جو صرف کاغذوں تک ہی محدود رہا ہے اور زمینی سطح پر دیکھنے کو نہیں ملا۔ پارٹی کے دفتر سرینگر میں غلام احمد میر نے’’کانگریس چلی پنچایت کی اور‘‘ کے نام سے 45 روزہ طویل پروگرام کا اعلان کیا جس کے تحت جموںکے ہر پنچایت اور گاؤں میں میٹنگیں ہوں گی۔اس موقعہ پر غلام احمد میر نے نامہ نگاروں کو بتایا’’میں آپ کو بتاتا چلوں کہ جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے ’ گائو ںکی اور پروگرام‘‘  کے پہلے مرحلے میں لوگوں سے ملاقات کا اعلان کیا تھا اور شاید وہ کاغذات اپنے ساتھ گوا لے گئے اور ان کے بعدنئے لیفٹنٹ گورنر جی سی مرمو نے ’ گائو کی اور پروگرام‘‘ کے دوسرے مرحلے کا اعلان کیا اور انہوں نے وہی کیا جو ملک نے کیا تھا۔‘‘ میر نے کہا کہ اب حال ہی میں لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے ’ گائوں کی اور پروگرام‘‘  تیسرے مرحلے کا آغاز کیا اور گائوں اور ’’پنچایتوں کا نقشہ تبدیل کرنے کے لمبے دعوؤں کے ساتھ کشمیر اور جموں کے مختلف حصوں میں میٹنگیں منعقد کی گئیں‘‘۔انہوں نے کہا کہ کانگریس کی یہ رائے ہے کہ پچھلے تین برسوں میں’ گائو ںکی اور‘‘ مہم کے تینوں مراحل میں کچھ نہیں ہوا ہے۔انہوںنے کہا’’ پہاڑوں کو ہلانے کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے ہیں‘‘۔ انہوں نے دعوی کیا کہ’ گائو ںکی‘‘ مہموں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ میر نے کہا کہ کانگریس لیڈران اس پروگرام کے تحت ہر پنچایت کا دورہ کریں گے اور’’کانگریس چلی پنچایت کی اور‘‘کے عنوان سے یہ معلوم کیا جائیگا کہ جموں و کشمیر حکومت نے اصل میں کیا کِیاہے۔انہوں نے کہا یہ مہم 45 دنوں تک جاری رہے گی جس کے تحت جموں و کشمیر کے ہر گاؤں میں میٹنگیں ہوں گی جہاں کم از کم 30 سے 50 افراد سرپنچوں اور پنچوں سمیت شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں کسی بھی پیش رفت سے متعلق کانگریس سرکار کو خاکہ پیش کرے گی۔