عظمیٰ نیوز سروس
جموں// کشمیر ٹریڈرز اینڈ مینوفیکچررز فیڈریشن (کے ٹی ایم ایف)نے بدھ کو جموں میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے ملاقات کی اور وادی بھر کی تاجر برادری کو درپیش مشکلات پر تبادلہ خیال کیا۔موصولہ بیان کے مطابق وفدکے ٹی ایم ایف صدر محمد یاسین خان کی قیادت میں اور سینئر عہدیدار قاضی توصیف پر مشتمل تھا۔میٹنگ کے دوران کے ٹی ایم ایف وفدنے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کاروباری شعبہ اپنے مشکل ترین مراحل میں سے گزر رہا ہے اور بازاروں؎؎ میں سیلز میں زبردست کمی دیکھی جا رہی ہے اور تاجروں کو غیر معمولی مالی بحران کا سامنا ہے۔انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجر بڑھتے ہوئے مالیاتی دبا ئوکا شکار ہیں جو بینک واجبات، زیادہ سود کے بوجھ اور مالیاتی اداروں کی طرف سے انتہائی محدود ورکنگ کیپیٹل سپورٹ کی وجہ سے ہیں۔ وفد نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ خاطر خواہ ریلیف میکانزم کے بغیر بہت سے طویل عرصے سے قائم کاروباری اداروں کیلئے کام کو برقرار رکھنا یا لگاتار معاشی مسائل سے نکلنا مشکل ہو رہا ہے۔کے ٹی ایم ایف نے سرینگر اور دیگر اضلاع میں روایتی بازاروں کو جدید بنانے کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا۔میٹنگ کے دوران لگاتار آتشزدگی کے واقعات کی بڑھتی ہوئی تعداد پر بھی بات کی گئی جس نے مارکیٹوں میں بار بار تباہی مچائی اور تاجروں کو بھاری نقصان پہنچایا۔وفد نے وزیر اعلیٰ کو بتایا کہ یہ مسائل منظم کاروباری زونز کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں اور اس سے شاپ فرنٹ، صارفین کی نقل و حرکت اور مارکیٹ کے مجموعی نظم و ضبط میں خلل پڑ رہا ہے۔بیان کے مطابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے وفد کو بغور سنا اور یقین دلایا کہ تمام حقیقی مسائل کو بروقت حل کیا جائے گا۔انہوں نے لاکھوں تاجروں کی نمائندگی کرنے میں کے ٹی ایم ایف کے اہم کردار کو بھی تسلیم کیا اور مل کر کام کرنے کے لیے حکومت کی رضامندی کا اعادہ کیا۔