دمشق //شام کے صدر بشارالاشد ایک ایسی درخواست پر غور کر رہے ہیں جو کینسر میں مبتلا سات بچوں کے فوجی محاصرے میں موجود علاقے، مشرقی غوطۃ سے انخلا سے متعلق ہے۔برطانوی خیراتی ادارے کے ایک مشیر ہمیش دی بریٹن گورڈن نے بتایا ہے کہ صدر اسد کے پرائیویٹ دفتر نے کہا ہے کہ وہ اگلے ہفتے اس حوالے سے فیصلہ کریں گے۔یہ سات بچے مشرقی غوط میں موجود ان 130 بچوں میں شامل ہیں جنھیں فوری علاج کی ضرورت ہے۔خیال رہے کہ دمشق کے نواحی علاقے گذشتہ چار برس سے فوج کے زیر قبضہ ہیں۔رواں ماہ کے آغاز میں امدادی ادارے ریڈ کراس نے کہا تھا کہ 'مشرقی غوطۃ میں زندگی 'ناممکن' ہوتی جا رہی ہے، اور وہاں صورتحال 'خطرناک نقطے پر پہنچ چکی ہے۔'یاد رہے کہ اقوام متحدہ وہاں سے طبی بنیادوں پر متاثرین کے انخلا کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ اب تک درجنوں شہری حالیہ دنوں کی حکومتی بمباری سے ہلاک ہوئے اور بہت سے بچے خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔مشرقی غوط میں کام کرنے والے طبی ادارے یونیئن آف میڈیکل کیئر اینڈ ریلیف آرگنائزیشن کے معاون بریٹن گورڈن نے بتایا کہ 'ہم سمجھتے ہیں کہ صدر اسد اس بارے میں سوچ رہے ہیں۔ ہم ان سے براہ راست بات چیت کے لیے انھیں منگل کو دوبارہ فون کریں گے۔