کیسی یہ سودا گری!

ـآسمان پر گھنے بادل چھائے ہوئے ہیں۔بلند و بالا کہسار اُن کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔پہاڑوں سے رواں ہونے والی چھوٹی چھوٹی تیز رفتار ندیاں شورِ محشر بپا کررہی ہیں،جیسے فریاد کررہی ہو کہ ہائے یہ پہاڑ گھنے بادلوں کی لپیٹ میں آگئے،کوئی مسیحا انہیں بچانے آجاؤ!۔نیچے زمین پر ایک پُر اسرار شخص ،جس کی آنکھیں سرخ ہیں اور جس کے چہرے سے گماں ہوتا ہے کہ یہ کوئی لٹیرا ہے،ایک جال بچھا رہا ہے۔معصوم جانوروں کو لبھانے کے لیے اُس نے جال کے اندر چند میٹھی چیزیں بھی رکھ دیں۔دور سے ایک ننھا سا جانور اس جال کو دیکھتا ہے،اُسے ابھی اتنی سوجھ بوجھ نہیں کہ وہ یہ سمجھ سکے کہ جال کیا ہوتا ہے اور قید ہونا کیا ہوتا ہے۔وہ جال کے اندر رکھی ہوئی چیزوں کی طرف مائل ہوتا ہے اور اُن کی طرف دوڑنے لگتا ہے۔اُس سے تھوڑی دور کھڑا اُسی کی نسل کا ایک بڑا جانور اُسے روکنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ اُس کی بات پر کان نہیں دھرتا اور جال کی طرف دوڑے چلا جاتا ہے۔
’’واہ سر! اس پینٹر(Painter) نے تو واقعی کمال کردیا ہے۔کیا کاری گری ہے‘‘۔شاکر نے جب یہ شکاری اور جال والی پینٹنگ دیکھی تو اُس کے منہ سے بے ساختہ توصیفی کلمات نکلے۔
’’اور شاکر!یہ جان کر تو تم اور بھی چونک جاؤ گے کہ یہ مصور تمہاری ہی طرح ایک ایشیائی(Asian)ہےــ۔‘‘
شاکر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے لندن آیا تھا۔وہ بڑا شریف اور محنتی لڑکا تھا، اس لیے وہ جلد ہی ایک انگریزپروفیسر کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔تھومس رچ نامی اس انگریز پروفیسر نے آج شاکر کو اپنے گھر بُلایا تھا،جہاں اُس کی نظر اس شکاری اور جال والی پینٹنگ پر پڑی۔
’’اس مصور کا واقعی کوئی جواب نہیں واہ!،ویسے سر کیا نام ہے اس کا اور کہاں رہتا ہے؟‘‘
’’یہ ایک خاتون ہے،سفینہ گلزار نام ہے۔یہاں سے چند ہی میل کے فاصلے پر اُس کا ایک چھوٹا سا کمرہ ہے،اکیلے رہتی ہے وہاں۔‘‘پروفیسر تھومس رچ نے شاکر سے جواباً کہا۔
’’سر میں ضرور اُن سے ملنے کی کوشش کروں گا ‘‘۔
شاکر کو سفینہ گلزار نامی اس مصور سے ملنے کے لیے زیادہ تگ و دو نہیں کرنی پڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سفینہ گلزار چالیس بیالیس برس کی ایک خوبرو عورت تھی لیکن اُس کے چہرے پہ کافی جھریاں گھر کر چکی تھی ۔آنکھوں کے اندر ایک عجیب اضطراب تھا،درد تھا،ایک انجانا کرب تھا۔وہ اُس پھول کی مانند لگ رہی تھی جو خزاں کی آمد کے ساتھ ہی اپنی خوشبو اور خوبصورتی کھو کر مرجھا جاتا ہے۔وہ اکیلے رہتی تھی اس چھوٹے سے کمرے میں ۔چہرے پہ ایک مستقل اُداسی چھائی رہتی تھی۔۔۔۔۔
شاکر نے سلام دُعا کے بعد سفینہ گلزار کے سامنے اُس کے آرٹ کی کافی تعریف کی ،خاص کر اُس کی شکاری اور جال والی تصویر کی اور پھر وہ اُس سے پوچھنے لگا،’’جیسا کہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ مجھے آپ کی وہ شکاری اور جال والی پینٹنگ کافی پسند آئی۔اُس نے مجھے ایک عجیب تجسس اور کشمکش میں ڈالا۔جب سے اُس پینٹنگ کو دیکھا من میں بس ایک ہی بات گھوم رہی ہے کہ آخر آپ کی اُس پینٹنگ کا تھیم کیا ہے،آپ کون سا پیغام دینا چاہتی ہیں اُس سے،آپ کو نسی کہانی بیان کررہی ہے اُس میں؟‘‘
سفینہ اورشاکر اُس کے چھوٹے سے کمرے کے سامنے بنی ایک خوبصورت پارک میں دو کرسیوں پر براجمان تھے۔
شاکر کا سوال سُن کر وہ سوچوں کے گہرے سمندر میں غوطہ زن ہوگئی ۔پھر اُس نے ایک سرد آہ بھری اور تھکی ہوئی آواز میں کہنے لگی،’’اس پینٹنگ کا تھیم میں خود ہو،یہ میری اپنی کہانی ہے۔‘‘
شاکر مبہوت ہوکر سُننے لگا۔
’’میری ماں اور اکلوتا بھائی ایک کار حادثے میں مارے گئے۔میں تب ڈھائی سال کی تھی۔میرے ابا اس صدمے سے کافی ٹوٹ گئے تھے لیکن پھر میرا معصوم سا چہرہ دیکھ کر اُنہیں جینے کا ایک سہارا ملا۔اُنہوں نے میری خاطر زندگی گزارنے کا عہد کر لیا۔وہ پیشے سے ایک چھوٹے سے سرکاری ملازم تھے۔مجھے بڑے لاڑ پیار سے پالا پوسااور مجھے تعلیم دی۔میں نے جب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو میرے اندر ایک عجیب سی اُداسی آگئی۔اُداسی کی وجہ یہ تھی کہ کالج میں میری ساری ہم جماعت سہلیوں کے پاس مال و دولت تھا،عیش و عشرت تھی،گاڑیاں تھیں،بنگلے تھے۔میرا والد مجھے وہ سب کچھ نہ دے سکا تھا۔دن گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ اُداسی ایک جنون میں تبدیل ہوگئی ۔میرے پاس بچپن سے ہی ایک ہُنر تھا،مصوری۔میں اُسی کا استعمال کرکے خوب دولت کمانا چاہتی تھی لیکن جہاں میں رہتی تھی وہاں اس فن کی کوئی خاص قدر و قیمت اور وقعت نہیں تھی۔
ایک دن نمائش میں ایک انگریز سیاح کو میری ایک پینٹنگ کافی پسند آئی اور اُس نے مجھے اُس کی چار گُنا قیمت ادا کی۔وہ میرے فن سے کافی متاثر ہوا اور اُس نے مجھ سے کہا کہ اگر میں اُس کے ساتھ لندن چلوں تو وہ میرے ساری پینٹنگز کو بھاری قیمت پر فروخت کرے گا اور میں راتوں رات کروڑ پتی بن جاؤ گی۔میں نے ابا سے اس بارے میں بات کی لیکن اُنہوں نے اجازت دینے سے صاف انکار کردیا۔وہ مجھ سے کہنے لگے کہ خدانے جتنا دیا ہے اُسی پر قناعت کرنا سیکھ لو،زندگی سکون سے گزرے گی لیکن میں نے اُن کی ایک نہ سُنی اور اُن کی مرضی کے بغیر ہی اُس سیاح کے ساتھ لندن چلی آئی۔
یہاں پہنچ کر مجھے اُس شخص نے ایک بڑے سے بنگلے کے اندر لیا۔جب ہم دونوں وہاں داخل ہوئے تومیں نے ایک چالیس ،پچاس سالہ آدمی کو دیکھا۔مجھے دیکھ کر اُس کی آنکھوں پہ سرخی چھا گئی۔میں اُنہیں اپنی پینٹنگز کا خریدار سمجھ بیٹھی اور اُن سے کہنے لگی،’’کیا آپ ہی میری ساری پینٹنگز خریدیں گے‘‘۔کمرے میں موجود اُن دونوں نے زوردار قہقہے لگائے اور کہنے لگیں،’’نادان عورت!یہاں صرف جسموں کو خریدا جاتا ہے!!!‘‘
���
برپورہ پلوامہ کشمیر
رابطہ؛9596203768