گذشتہ ایک ماہ سےمشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی جو صورت حال چلی آرہی ہے، اُس سے یہ بات اُبھرآتی ہے کہ اِس جنگ سے نہ صرف اس خطے میں بلکہ دنیا بھرمیں ایک نئی تبدیلی متوقع ہے ۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی چپقلش ،تلخی اور کشیدگی نے جہاںمغربی ایشیا کی سیاسی حرکیات کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے، وہیںاِسے عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ نیز خلیجی ریاستوں اورایران کے درمیان کشمکش کے مختلف پہلو ،سفارتی بیانات، عسکری نقل و حرکت اور معاشی دباؤ نے مجموعی طور پرجس طرح کا پیچیدہ منظرنامہ تشکیل دیا ہے،اُسے آسان طریقے پر سمجھنا ممکن نہیںرہا،کیونکہ جدید دور کی جنگیں محض میدانِ کارزار تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کا ایک نہایت اہم محاذ اطلاعات، بیانیے اور میڈیا پر بھی قائم ہو چکا ہے۔ دیکھا یہ بھی جارہا ہےکہ بعض اوقات فیصلہ کن برتری اُسی محاذ پر حاصل ہوتی ہے، جہاں رائے عامہ کو ہموار کیا جاتا ہے اور عالمی ذہن سازی کی جاتی ہے، جس سے نہ صرف سفارتی حمایت حاصل کی جاتی ہے بلکہ بین الاقوامی رائے عامہ کو بھی متاثر کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست اور جنگی تنازعات کے نتائج ہمیشہ تدریجی انداز میں اور متعدد سیاسی، عسکری، معاشی اور سفارتی عوامل کے باہمی تعامل سے سامنے آتے ہیں۔ظاہر ہے کہ امریکہ عرصہ ٔ دراز سے مشرقِ وسطیٰ میں فیصلہ کن طاقت کے طور پر اپنا کردار ادا کرتاچلاآ رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اس کی ترجیحات اور حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔آبنائے ہرمزعالمی توانائی کی ترسیل کا ایک نہایت اہم اور حساس راستہ ہے، جس کے ذریعے دنیا کے ایک بڑے حصّے تک تیل اور گیس کی رسد ممکن بنتی ہے۔ اسی وجہ سے یہ محض ایک جغرافیائی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تناظر میں اگر ایران اس اہم آبی گذرگاہ پر کسی نئے انتظامی یا مالیاتی نظام کو متعارف کروانے کی کوشش کرتا ہے تو اسے صرف ایک معاشی اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا،بلکہ یہ اس کی علاقائی خودمختاری کے اظہار، اسٹریٹجک اثر و رسوخ کے استحکام اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں اپنی حیثیت منوانے کی ایک سنجیدہ کوشش بھی ہو سکتی ہے، تاہم اس اقدام کے ممکنہ اثرات کو یک رُخی انداز میں دیکھنا بھی مناسب نہیں ہوگا۔بے شک ایران ایک ایسا ملک ہے جس نے طویل عرصے تک جاری رہنے والی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور علاقائی کشمکش کے باوجود اپنے ریاستی ڈھانچے کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ ایک حد تک اسے منظم اور فعال بھی رکھا ہے۔ یہ پہلو اُسے خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ایک منفرد حیثیت عطاء کرتا ہے۔ اس کا دفاعی نظام، نظریاتی وحدت اور مختلف علاقائی نیٹ ورکس کے ساتھ اس کے تعلقات، اس کی اسٹریٹجک گہرائی اور اثر و رسوخ کو بڑھاتے ہیں۔ یہی عناصر اُسے بیرونی دباؤ کے مقابلے میں ایک خاص حد تک مزاحمت کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں اور اس کے استحکام کے تاثر کو تقویت دیتے ہیں۔ اس تمام تر منظرنامے کے باوجود مزید مستحکم ہونے کا دعویٰ اُسی وقت مکمل طور پر قابلِ قبول قرار دیا جا سکتا ہے جب اس کے داخلی حالات خصوصاً معاشی کارکردگی، عوامی فلاح و بہبود اور سماجی ہم آہنگی بھی اسی استحکام کی عکاسی کریں۔مزید بر آںیہ کہنا کہ عالمی نظام ایک تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے، کسی حد تک دُرست اور قابلِ فہم تجزیہ ہے۔ تاہم اس تبدیلی کو کسی فوری یا اچانک انقلاب کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک تدریجی اور مسلسل عمل کے طور پر سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ درحقیقت، چین، روس اور دیگر اُبھرتی ہوئی طاقتیں عالمی توازنِ قوت کو نئے سانچے میں ڈھال رہی ہیں۔ یہ ممالک نہ صرف معاشی بلکہ عسکری اور سفارتی میدانوں میں بھی اپنی موجودگی کو مؤثر بنا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر طاقت کا ارتکاز بتدریج تبدیل ہو رہا ہے۔
اسی تناظر میں یک قطبی دنیا سے کثیر قطبی نظام کی طرف پیش رفت ایک واضح رجحان کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ لہٰذا یہ کہنا زیادہ قرین حقیقت ہوگا کہ عالمی نظام کی یہ تبدیلی ایک طویل المدت اور کثیر الجہتی عمل ہے، جس کی تکمیل میں ممکنہ طور پر کئی دہائیاں درکار ہوں گی اور جس کے اثرات بتدریج عالمی سیاست اور معیشت پر مرتب ہوتے رہیں گے،لیکن محض طاقت کے توازن کو توڑ دینا یا کسی بڑی قوت کو کمزور کر دینا ہر حال میں پائیدار امن کا پیش خیمہ ثابت نہیں ہوسکتا۔