محمد تسکین
بانہال // جموں و کشمیر میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا نے مجوزہ کٹرہ،ریاسی،مہور،گلاب گڑھ،نندی مرگ،کولگام شاہراہ کو فور لین بنانے کے منصوبے کیلئے ڈیٹیلڈ پروجیکٹ رپورٹ (DPR) تیار کرنے کی غرض سے کنسلٹنسی خدمات کا ٹینڈر جاری کر دیا ہے۔ یہ مجوزہ شاہراہ کولگام ضلع میں قومی شاہراہ نمبر 44سے جوڑنے کا منصوبہ ہے۔ حکومت ہند کے ای-پروکیورمنٹ پورٹل پر دستیاب ٹینڈر کے مطابق یہ اقدام اس اہم اور مجوزہ شاہراہ منصوبے کے منصوبہ بندی اور فزیبلٹی مرحلے کا آغاز تصور کیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے سے جموں خطے اور جنوبی کشمیر کے درمیان دور دراز پہاڑی علاقوں کے راستے رابطہ مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔ٹینڈر کی تفصیلات کے مطابق مجوزہ شاہراہ کٹرہ، ریاسی، مہور، گلاب گڑھ، نندی مرگ اور کولگام جیسے اہم علاقوں سے گزرے گی اور بعد میں قومی شاہراہ نمبر 44 سے جڑ جائے گی، جو سرینگر سے کنیا کماری تک ملک کی سب سے طویل قومی شاہراہ ہے۔این ایچ اے آئی کے علاقائی دفتر جموں کی جانب سے یہ ٹینڈر حوالہ نمبر JKDIV/14/2025-NHAI-RO Jammu/E 290669 کے تحت جاری کیا گیا ہے۔ منصوبے کو ڈی پی آر تیاری کیلئے اوپن کنسلٹنسی ٹینڈر کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔سرکاری تفصیلات کے مطابق آن لائن ٹینڈر جمع کرانے کی آخری تاریخ 22 جون 2026 مقرر کی گئی ہے جبکہ تکنیکی ٹینڈر 23 جون 2026 کو کھولے جائیں گے۔ حکام کے مطابق ڈی پی آر تیار کرنے والی کنسلٹنسی کمپنی مجوزہ سڑک کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے گی، جن میں روڈ الائنمنٹ، ٹنلز اور پلوں کی ضرورت، اراضی حصول، ماحولیاتی اثرات کا جائزہ، ٹریفک کا تخمینہ اور منصوبے کی متوقع لاگت شامل ہیں۔ ان تمام نکات کی جانچ کے بعد ہی تعمیراتی مرحلے کیلئے حتمی منظوری پر غور کیا جائے گا۔