محمد بشارت
راجوری//ضلع راجوری کے سب ڈویژن کوٹرنکہ میں گجر برادری کے طلبہ کے لئے تعمیر ہونے والا گجر ہوسٹل گزشتہ نو برسوں سے تعطل کا شکار ہے، جس کے باعث عوامی حلقوں میں گہری تشویش پائی جا رہی ہے۔ یہ منصوبہ سال 2017 میں اس امید کے ساتھ شروع کیا گیا تھا کہ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے غریب اور پسماندہ طبقے کے بچوں کو بہتر تعلیمی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی، تاہم طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود آج تک اس منصوبے کی عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔مقامی لوگوں کے مطابق سال 2017 میں جب گجر ہوسٹل کوٹرنکہ کا سنگِ بنیاد رکھا گیا تو علاقے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔ عوام کو یقین تھا کہ مقررہ مدت میں اس کی عمارت مکمل ہو جائے گی اور گجر برادری کے بچوں کو تعلیم کے لئے محفوظ رہائش کی سہولت میسر آئے گی۔ ابتدا میں تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز بھی ہوا، لیکن کچھ ہی عرصے بعد ریاستی سطح پر سیاسی عدم استحکام، حکومت کی تبدیلی اور بعد ازاں انتظامی اتھل پتھل کے سبب یہ منصوبہ ٹھنڈے بستے میں چلا گیا۔عوامی نمائندوں اور مقامی سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ نو برس گزر جانے کے باوجود نہ تو عمارت کی تعمیر مکمل ہو سکی اور نہ ہی طلبہ کو اس منصوبے سے کوئی فائدہ پہنچ سکا۔
ان کا کہنا ہے کہ کروڑوں روپے کی رقم اس منصوبے کے لئے مختص کی گئی تھی، لیکن افسوس کہ جس مقصد کے تحت یہ منصوبہ شروع کیا گیا تھا، وہ آج تک پورا نہیں ہو سکا۔ اس صورتحال نے نہ صرف عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے بلکہ سرکاری منصوبہ بندی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔مقامی لوگوں نے موجودہ حکومت کے ساتھ ساتھ لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ حکومتوں کے دوران شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر دوبارہ شروع کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر منصوبے وقت پر مکمل نہ ہوں تو اس کا سب سے زیادہ نقصان غریب اور پسماندہ طبقے کو اٹھانا پڑتا ہے، جو پہلے ہی بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہوتا ہے۔علاقے کے بزرگ شہریوں کا کہنا ہے کہ کوٹرنکہ جیسے دور افتادہ علاقے میں گجر ہوسٹل کا قیام ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتا تھا۔ یہاں کے زیادہ تر بچے مالی مجبوریوں کے باعث اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اگر ہوسٹل کی سہولت فراہم ہو جائے تو نہ صرف بچوں کو بہتر تعلیمی ماحول ملے گا بلکہ والدین کو بھی اطمینان ہوگا کہ ان کے بچے محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔سماجی تنظیموں نے بھی اس مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر منصوبے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لے اور ذمہ دار محکموں سے جواب طلبی کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تعمیراتی عمل کو جلد از جلد دوبارہ شروع کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اب کسی بھی صورت میں مزید تاخیر نہ ہو۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر گجر ہوسٹل کا کام دوبارہ شروع ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف گجر برادری بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک بڑی کامیابی ہوگی۔ اس سے تعلیمی شرح میں اضافہ ہوگا اور نوجوان نسل کو آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔ لوگوں نے امید ظاہر کی ہے کہ موجودہ حکومت اور ایل جی انتظامیہ اس دیرینہ مسئلے کو سنجیدگی سے لے گی اور جلد ہی عملی اقدامات کے ذریعے اس منصوبے کو پائیہ تکمیل تک پہنچانے کی راہ ہموار کرے گی۔